بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

 فراست

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  20:21

مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ ) تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایاجاتاتھا اوران تجہیزو تکفین کی جاتی تھی۔ایک مرتبہ اس میں ایک خاتون جس کاانتقال ہوچکاتھا۔نہلانے کیلئے لایاگیا۔اس کو غسل دیاجارہاتھاکہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو برابھلاکہتے ہوئے کہا توبدکار ہے اوراس کی کمر سے نیچے ایک لترمارالیکن اس برابھلاکہنے والی اورپھرمردہ عورت کو مارنے والی عورت کاہاتھ جہاں اس نے ماراتھاچپک گیا۔عورتوں نےبہت کوشش اورتدبیر کی لیکن ہاتھ الگ نہیں ہوا۔ بات پورے شہر میں پھیل گئی کیونکہ معاملہ ہی عجیب تھا۔ ایک زندہ عورت کا ہاتھ ایک مردہ عورت سے چپکاہواہے اب اس کو کس

اس کو کس تدبیر سے الگ کیاجائے۔مردہ کودفن بھی کرناضروری ہے۔اس کے لواحقین الگ پریشان ہوں گے۔معاملہ شہر کے والی اورحاکم تک پہنچ گیا۔ انہوں نے فقہاءسے مشورہ کیا۔بعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیاجائے۔کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کاہاتھ چپکاہے۔اتنے حصہ کو کاٹ لیاجائے۔کچھ کاکہناتھاکہ مردہ کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی۔کچھ کاکہناتھاکہ زندہ عورت کاہاتھ کاٹنااس کو پوری زندگی کیلئے معذور بنادے گا۔

شہر کاوالی اورحاکم امام مالکؒ کا قدرشناس اوران کے تفقہ اورفہم وفراست کا قائل تھا۔اس نے کہاکہ میں جب تک اس بارے میں امام مالکؒ سے بات کرکے ان کی رائے نہ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔امام مالکؒ کے سامنے پورامعاملہ پیش کیاگیا۔توانہوں نے سن کر فرمایانہ زندہ خاتون کاہاتھ کاٹاجائے اورنہ مردہ عورت کے جسم کاکوئی حصہ الگ کیاجائے۔میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام لگایاہے

وہ اس کا بدلہ اورقصاص طلب کررہی ہے لہٰذاس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزاراجائے چنانچہ شرعی حدجوتمہت لگانے کی ہے یعنی اسی کوڑے۔کوڑے مارنے شروع کئے گئے۔ایک دو،دس بیس،پچاس،ساٹھ ستر بلکہ اناسی79کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے کمر کے نچلے حصہ سے چپکارہا۔جوں ہی آخری کوڑاماراگیا۔اس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہوگیا۔

یقینا اس واقعہ میں دوسروں پر بےجا تہمتیں لگانے والوں کے لیے بڑی عبرت موجود ہے،اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کو اس گناہ کے شر سے اپنی پناہ رحمت عطا فرمائیں۔ بحوالہ بستان المحدثین للشاہ عبدلعزیز دہلوی،صفحہ25۔انوارالمسالک لمحمد بن علوی المالکی الحسنی 244،شرح التجرید الصحیح للعلامہ الشرقاوی 343

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎