Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بابے کا بڑا سرپرائز، طلاق کے بعد دوبارہ سابق شوہر سےشادی کیلئے حلالہ،خاتون کی بزرگ سے شادی، طلاق دینےکا وقت آیا تو ’بابے‘ کی نیت ہی بدل گئی، کس وجہ سے طلاق دینے سے انکار کر دیا؟

  منگل‬‮ 11 جون‬‮ 2019  |  18:49

بھارت میں حلالہ کیلئے شادی کرنیوالے بزرگ نے کم عمر بیوی کو طلاق دینے سے انکار کر دیا ۔بھارتی شہر بریلی میں ایک بزرگ نے طلاق ہونے کے بعد حلالہ کی غرض سے شادی کرنے والی کم عمر لڑکی کو بعد میں طلاق دینے سے انکار کر دیاجس نے عجیب تنازع کو جنم دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مسلم جوڑے میں تین طلاق ہونے کے بعد شوہراور بیوی میں آپس میں مصالحت ہوگئی تاہم دوبارہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے شوہر نے حلالہ کیلئے بیوی کا نکاح ایک بزرگ سے کر ادیاجو اب اس لڑکی کو طلاق

دینے کیلئے راضی نہیں۔

پریشان لڑکی اور اس کے سابق شوہر نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کی بہن فرحت نقوی سے اس ضمن میں انصاف کی حصول کیلئے مدد طلب کی ہے۔یاد رہے کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے مسلم رہائشی عقیل احمد کی بیٹی جوہی محمد جاوید سے 2010 میں شادی کے بندھن میں بندھی تھی، اس دوران ان دونوں کے یہاں دوبیٹے بھی ہوئے، تاہم آئے دن کی ناچاقی کے باعث نوبت طلاق تک جا پہنچی۔2013 ء میں اس جوڑے کے درمیان طلاق ہوگئی جس کے بعد انہیں غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے دوبارہ نکاح کرنے کا ارداہ کیا جس پر ان دونوں کے خاندانوں کا مکمل اتفاق ہوگیا۔

اس دوران ان دونوں کے یہاں دوبیٹے بھی ہوئے، تاہم آئے دن کی ناچاقی کے باعث نوبت طلاق تک جا پہنچی۔2013 ء میں اس جوڑے کے درمیان طلاق ہوگئی جس کے بعد انہیں غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے دوبارہ نکاح کرنے کا ارداہ کیا جس پر ان دونوں کے خاندانوں کا مکمل اتفاق ہوگیا۔اس سلسلے میں حلالہ کرنے کے لیے لڑکی کا نکاح بریلی کے 65 سالہ بزرگ کے ساتھ ہوگیا، اس موقع پر بزرگ نے ہامی بھی بھری کہ وہ اس نکاح کے بعد لڑکی کو طلاق دے دیں گے تاہم بعد میں ان کی نیت بدل گئی اورانہوں نے اپنے سے بہت کم عمر کی لڑکی کو طلاق دینے سے انکار کر دیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎