بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ایسا اسلامی ملک جہاں لڑکیوں کی شادی زبردستی باپ سے کروا دی جاتی ہے، لیکن کیوں؟

  جمعرات‬‮ 13 جون‬‮ 2019  |  11:27

دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا مگر اسلامی ملک بنگلہ دیش میں ایک ایسا علاقہ ہے جہاں رہنے والاقبیلے میں لڑکیوں کی شادی باپ سے زبردستی کروانے کا رواج ہے ۔ بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے پہاڑی قبیلے ” منڈی “ میں اگر کوئی بیوہ شادی کی خواہش کرے تو

 اسے اپنے ہی قبیلے یا خاندان کے کسی فرد سے شادی کرنا ہوتی ہے ،بیوہ کو اپنی شادی کے ساتھ

ساتھ اپنی بیٹی کا بیاہ بھی دوسرے شوہر سے کروانا ہوتا ہے۔منڈی قبیلے کا خیال ہے کہ ان کی اس رسم کی وجہ سے قبیلے کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ لڑکی سے ان کی نسل پروان چڑھتی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی دولت بھی محفوظ ہو جاتی ہے، کیوں کہ اگر بیوہ کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی ساری جائیداد کی وارث اس کی بیٹی بن جاتی ہے اور ان کی جائیداد قبیلے یا خاندان سے باہر نہیں جاتی۔

ایک بنگلہ دیشی میگزین نے اس قبیلے کی ایک ایسی ہی لڑکی کا انٹرویو کیا ہے جس کی شادی اس کی ماں کی دوسری شادی کے موقع پر اس کے سوتیلے باپ کے ساتھ کر دی تھی اور اس وقت اس کی عمر تین سال تھی۔ اورلا دلبوت اس وقت 30سال کی ہے اور اس کی اپنی ماں کے دوسرے خاوند اور اپنے سوتیلے باپ سے تین بچے ہیں جن میں بڑے بیٹے کی عمر 14سال ہے جبکہ ایک بیٹی 7سال کی جبکہ سب سے چھوٹی لڑکی کی عمر 19ماہ ہے۔ اورلا اور اس کی ماں متامونی کی محض چند ایکڑ زمین ہے جس پر وہ انناس اور کیلوں کی فصل تیار کر کے اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

اورلا کے مطابق جب اسے بلوغت پر اپنے سوتیلے باپ کی بیوی ہونے کا انکشاف ہوا تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے، نوتن کو اپنی ماں کے ساتھ دیکھ کر وہ خوش ہوتی تھی اور دونوں کی سلامتی کیلئے دعا کرتی تھی ، وہ بھی چاہتی تھی کہ نوتن جیسا اس کا بھی شوہر ہو مگر جب اسے یہ پتہ چلا کہ ماں کی شادی کے ساتھ اس کی بھی شادی نوتن سے کر دی گئی ہے تو وہ لمحہ اس کیلئے بہت اذیت ناک تھا مگر پھر اس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔


loading...