بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


مردوں کے لیے باپ بننے کی بہترین عمر کیا ہے؟

  منگل‬‮ 25 جون‬‮ 2019  |  15:18

برسوں سے خواتین کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ بچوں کی پیدائش کے لیے عمر کی تیسری یا چوتھی دہائی کا انتظار مت کریں مگر اب یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ باپ کی عمر بھی اولاد کی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ادھیڑ عمر افراد کے بچے پیدائشی طور پر کم صحت مند ہوتے ہیں۔

 یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔والد کا بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا مثبت اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 4 کروڑ سے زائد بچوں کی پیدائش کے ڈیٹا کا

جائزہلے کر والدین کی عمر اور بچے کی صحت پر اس کے اثرات کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ والد کی عمر اگر 45 سال ہو تو بچوں کی قبل از وقت پیدائش، کم پیدائشی وزن اور زچگی کے بعد طبی امداد جیسے وینٹی لیشن یا دیگر کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ

والد کی عمر اگر 45 تک ہو تو بچے کی قبل از وقت پیدائش یا کم پیدائشی وزن کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس عمر کے مردوں کی بیویوں میں بھی دوران زچگی ہائی بلڈ شوگر کا مسئلہ سامنے آسکتا ہے، جس کی وجہ عمر بڑھنے سے مردوں کے اسپرم میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی سرجری ممکن محققین کا کہنا تھا کہ

 اس طرح کے منفی نتائج سے بچنا اس صورت میں ممکن ہے اگر مرد بچوں کی پیدائش کے لیے 45 سال تک کی عمر کا انتظار مت کریں۔ عمر بڑھنے سے ان کے مستقبل کے بچوں کے لیے خطرات بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ادھیڑ عمری میں بچوں کے خواہشمند افراد کو اس حوالے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہئے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے میں شائع ہوئے۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎