بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’نمازِ حاجت ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟‘‘اگر آپ کو کو ئی حاجت درپیش ہو تو نبی کریم ؐ کے بتائے طریقے سے دو کعت نماز ادا کریں

  ہفتہ‬‮ 29 جون‬‮ 2019  |  12:48

’’نمازِ حاجت ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟‘‘اگر آپ کو کو ئی حاجت درپیش ہو تو نبی کریم ؐ کے بتائے طریقے سے دو کعت نماز ادا کریں، اور پھر آخر میں یہ دعا پڑھیں ، دعا ایسے قبول ہوگی کہ آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

 اﷲ تعالیٰ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت در پیش آئے تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے :لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيْمُ

الْکَرِيْمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَللَّهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُکَ أَنْ لَا تَدَعَ لِیْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِیَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِی.ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی صلاةِ الحاجة، 2 : 171، 172، رقم : 1384 ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ برد بار بزرگ ہے بڑے عرش کا مالک، اے اللہ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، (اے اللہ!) میں تجھ سے تیری رحمت کے ذریعے بخشش کے اسباب، نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں،

میرے تمام گناہ بخش دے میرے جملہ غم ختم کر دے اور میری ہر وہ حاجت جو تیری رضا مندی کے مطابق ہو پوری فرما۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی جس بات کی طلب ہو سوال کرے وہ اس کے لیے مقدر کر دی جاتی ہے۔ 2۔ ترمذی، ابن ماجہ، احمد بن حنبل، حاکم، ابن خزیمہ، بیہقی اور طبرانی نے بروایت حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو اس کی حاجت برآری کے لیے دو رکعت نماز کے بعد درج ذیلالفاظ کے ساتھ دُعا کی تلقین فرمائی جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں اپنی حاجت برآری کے لیے اسی طریقے سے دو رکعت نماز کے بعد دعا کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ! إِنِّی أَسَأَلُکَ وَ أَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ! إِنِّی قَدْ تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّی فِی حَاجَتِی هٰذِهِ لِتُقضَی، اَللّٰهُمَّ! فَشَفِّعْهُ فِیَّ. ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ماجاء فی صلاة الحاجة، 2 : 172، رقم : 1385 ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں کہ پوری ہو۔ اے اللہ میرے حق میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔‘‘


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎