بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


مولانا طارق جمیل کے والدنے کونسا مذہب اختیار کر لیا تھا اورپھر وہ کیسے مسلمان ہوئے، مولانا سےوہ کونسی خواتین ملنے آئیں کہ جنہیں دیکھ کرخاندان والے ان سے ناراض ہو گئے تھے ، دلچسپ واقعات

  ہفتہ‬‮ 13 جولائی‬‮ 2019  |  18:48

مولانا طارق جمیل نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی نہایت متعبر اور معزز اسلامی سکالر اور مبلغ اسلام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے ہے۔ ایک بیان میں آپ نے بزرگان دین کی صحبت کے اثر کا احوال سناتے ہوئے بتایا کہ میرے والد پرویزی ہو گئے تھے،

وہ بڑے ادیب آدمی تھے، بڑا شاعرانہ مزاج، بڑے مقرر، اس زمانے میں بی اے کر رکھا تھا، محمد علی جناحؒ کے ساتھ تقاریر کیں، آن انڈیا مسلم لیگ ملتان کے صدر تھے۔ کسی بزرگ شخصیتسے

صحبت تھی نہیں ، ذاتی مطالعہ تھا اور پرویزی ہو گئے، وہ بہت وجہیہ تھے اور بولنے کا فن جانتے تھے ہر طرف ہلچل مچا دی ، اس وقت ہم بہن بھائی بہت چھوٹے تھے، مولانا طارق جمیل بتاتے ہیں کہ وہ صرف دس منٹ حضرت لاہوریؒ کی صحبت میں بیٹھے ، کوئی گھنٹہ نہیں، کوئی آدھا گھنٹہ نہیں، کوئی سوال جواب نہیں، کوئی گفتگو نہیں ہوئی ان دونوں کے درمیان۔ مولانا طارق جمیل نے اس موقع پر بزرگان دین کی صحبت کے اثر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے خوشبو لگائی ہو تو کیا مجھے آپ پر واضح کرنا پڑے گا کہ میں نے خوشبو لگائی ہے،

خوشبو خود اپنے وجود سے آگاہ کر دیتی ہے۔ مولانا طارق جمیل بتاتے ہیں کہ صرف 10منٹ کی محفل کے بعد میرے والد ہر باطل عقیدے سے تائب ہو کر صحیح مسلمان بن چکے تھے، اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ ابھی ایسی شخصیات موجود ہیں کہ جن کی صحبت دل میں بجھے چراغ کو جلا سکتی ہے اور ان شخصیات کو غنیمت سمجھنا چاہئے، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی شخصیات سے نواز رکھا ہے۔ ایک شخص اتنے دلائل سے تقریر کر رہا ہو ، سب کو قربانی سے اور حج سے روک رہا ہے اور پھر 10منٹ کے بعد ایک اور نیا انسان بن کر نکل رہا ہے وہ کیا چیز اندر تھی ، کچھ تو تھی اندر کی ایسی گرمی ، حرارت ایمان ،

ایسا کوئی سازو سوز اندر میں تھا جس نے میرے والد کی پوری زندگی تبدیل کر دی۔ اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے حضرت لاہوریؒ کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سکھ کے بیٹے تھے ان کے والد سکھ تھے، آپ نے حضرت لاہوریؒ کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ مغرب کیلئے مسجد میں صفیں درست کی جا رہی تھیں اور حضرت لاہوریؒ مصلے پر جماعت کی امامت کیلئے کھڑے تھے کہ حضرت عطا اللہ شاہ بخاریؒ مسجد میں تشریف لے آئے، حضرت عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو دیکھتے ہی حضرت لاہوریؒ ایک دم پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ سید زادے کے آگے سکھ کا بیٹا نہیں کھڑا ہو سکتا جس پر عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے کہا کہ تیرے جیسے سکھ زادے پر لاکھوں سید زادے قربان کئےجا سکتے ہیں۔

مولانا طارق جمیل نے اس موقع پر بتایا کہ میرے علاقے کے قریب ایک علاقہ واقعہ ہے جس کا نام تلنبہ ہے ، 1818میں یہاں سکھ راجہ رنجیت سنگھ نے بازار حسن قائم کیا تھا۔ رنجیت سنگھ نے جب 1818میں ملتان فتح کیا تو اس نے تین جگہوں پر بازار حسن قائم کئے ، ایک ملتان میں، ایک کہروڑ پکہ میں اور ایک تلنبہ میں اور تلنبہ میں آکر اس نے قیام کیا، تلنبہ راوی کے کنارے بہت خوبصورت جگہ ہوا کرتی تھی۔ پچھلے کچھ سات8سال سے میں نے وہاں تعلیم شروع کروا دی، بازار حسن ختم ہو گیا، اس بازار حسن کی جو نمبردارنی تھی جس کو عام زبان میں نائیکہ کہا جاتا ہے جو لڑکیوں کو اس گناہ کی زندگی کے رموز سکھانے،گاہکوں سے ڈیل کرنے اور پیسے بٹورنے کے کام کرتی تھی اس کو میں نے عمرے پر بھیجا اس کے ساتھ ایک ڈانسر تھی جو دبئی جا کر ڈانس کیا کرتی تھی اس کو بھی عمرے پر بھیجا،

سارے بازار کی فضا بدل گئی، اس بازار کی 70سے 80بچیاں توبہ تائب ہو گئیں اور بازار حسن چھوڑ کر اپنا گھر آباد کر کے چلی گئیں۔ اس موقع پر میرے خاندان والے مجھ سے ناراض ہو گئے کہ تمہارے گھر کنجریوں کو آنا جانا ہو گیا ہے، مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ وہ مجھ سے ملنے آتی تھیں، جس پر خاندان والوں نے کہا کہ یہ ہماری بے عزتی ہے، میں نے وینا ملک کو صرف ایک لفظ بیٹی کہا تھا اور وہ اس ایک لفظ پر ڈھیر ہو گئی۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مجھے گلہ ہے اہل علم سے کہ جو معاشرت سے متعلق اسلامی احکامات سے آگاہی نہیں پیدا کرتے۔ ایک موقع پر میں نے اپنے اساتذہ مولانا احسان سے گلہ کیا کہ استاد جی آپ نے ہمیں علم سکھایا ،

تبلیغ کرنا سکھائی مگر آپ نے ہمیں گھریلو زندگی نہیں سکھائی ، ہمیں نہیں پتہ تھا کہ گھر میں والدین کے ساتھ کیسے رہنا ہے ، بیوی سے کیا سلوک کرنا ہے، جس پر وہ رو پڑے اور کہا کہ بڑی دیر کے بعد یہ بات بتائی۔ مولانا طارق جمیل نےکہا کہ میں نے انہیں اپنا ایک واقع سناتے ہوئے کہا کہ میری والدہ کو میرے ٹنڈ کروانے سے سخت نفرت تھی، وہ کہا کرتی تھیں کہ بال رکھو، جس دن مجھے کہتیں کہ ٹنڈ نہیں کروانی میں سر پر استرا پھروا کر آجاتا اور یہ سوچتا کہ میں اپنی والدہ کی تربیت کر رہا ہوں، یہ کہہ کر میں نے کہا کہ استاد جی ٹنڈ کروانا سنت بھی نہیں اور آپ نے ہم پر یہ مسلط کر رکھی ہے کہ ٹنڈ کروائو، ٹنڈ کروائو اور میں اپنی والدہ کو ساری زندگی اس بات پر دکھ دیتا رہا اور مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ والدہ کا کیا مقام ہے ، والد کا کیا مقام ہے اور بیوی کا کیا مقام ہے، تربیت کے نام پر بیویوں کو رگڑے دیتے رہے، خوار کرتے رہے، ذلیل کرتے رہے۔ اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے حضور اکرمﷺ کی زندگی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ حضور ؐ اپنی چہیتی بیوی حضرت عائشہؓ کیساتھ کھیلتے تھے،ان کہتے کہ عائشہؓ چلو دوڑ لگاتے ہیں،

اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے کہا کہ کیا میں اپنی بیوی سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ چلو دوڑ لگاتے ہیں، میرے نبی ؐ کہہ رہے ہیں، صحابہ کرامؓ کو آپ نے آگے بھیج دیا، اور حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑ لگائی، حضرت عائشہ ؓ آپ سے آگے نکل گئیں اور آپؐ پیچھے رہ گئے، پھر کچھ سال کے بعد آپؐ نے ایک سفر کے دوران پھر حضرت عائشہ ؓ سے کہا کہ آئو دوڑ لگائیں ، حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اس وقت میرا وزن بڑھ چکا تھا تو دوڑ میں اللہ کے نبیؐ مجھ سے آگے نکل گئے اور میں پیچھے رہ گئیں۔ مولانا طارق جمیل نے اس موقع پر بتایا کہ عرب میں بیوی سے محبت کا اظہار عیب ہے، ہمارے ہاں پٹھانوں میں بیوی سے محبت کا اظہار عیب ہے، پنجاب کے زمینداروں میں بیوی سے محبت کا اظہار عیب سمجھا جاتا ہے۔ اور اس معاشرت میں ہمارے نبی ؐ نے اپنی زندگی کے ذریعے گھر اور دیگر معاملات میں زندگی گزارنے کی تعلیم دی۔ آپ کی سنت اور اسوہ حسنہ سے ہمیں سبق سیکھنا اور تعلیم حاصل کرنی چاہئے ۔

loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎