بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کبھی استانی سے عشق کیا ؟

  بدھ‬‮ 24 جولائی‬‮ 2019  |  17:59

منٹو تونے کبھی اپنی ٹیچر سےعشق کیا ہے ؟میں نے اخبار پڑھتے پڑھتے منٹو سے پوچھا ۔چائے کی چسکی لیتے لیتے منٹو کو اچھو لگ گیا ۔چائے اسکے کرتے اور اور میرے پجامے پے نین نقش چھوڑ گئی ۔لیکن منٹو کی ہنسی تھی کہ کسی طرح تم نہیں رہی تھی ۔مین نے منٹو کو کبھی ایسے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔خیر تو ہے ؟

ایسی کیا بات پوچھ لی میں نے ؟منٹو کی ہنسی کو بریک لگتے لگتے بھی زمانے لگ گئے ۔میں برا سا منہ بنائے منٹو کی ہنسی رکنے کا انتظار کر رہا تھا

۔بلاخر منٹو نےآنکھوں سے پانی پونچھا تو میں نے پھر اس کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھا ۔منٹو نے کہا،ہاں تو کیا کہ رہے تھے تم ؟یہی کے کبھی تمہیں کسی ٹیچر سے عشق ہوا ہے ؟منٹو کے چہرے پے پھر سے مسکراہٹ آگئی ۔ جب تم بھنگن ،رنڈی اور مالن سے عشق کر سکتے ہو پھر ٹیچر کو کیسے چھوڑ دیا ۔منٹو کے چہرے پے شرارتی سی مسکراہٹ آگئی .تو نے یہ سوال پوچھا تو میری نظروں میں سارے داڑھی والے ،سن رسیدہ ،خوفناک ،مولوی اور ٹیچر گھوم گئے ،جو مارتے پہلے تھے پڑھاتے بعد میں تھے ،وللہ ان میں کوئی خاتون تو چھوڑو مردوں کی عمر بھی چالیس سے کم نہیں تھی ۔شائد اس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے جیسے بھی جھک مار کر پڑھنے پے راضی ہوجائیں ۔

ویسے تمہیں آج میرے استادوں کے بارے میں کیا خیال آگیا ؟ارے یار اخبار میں خبر چھپی ہے کہ ساتویں کے طالب علم نے ٹیچر کے عشق میں ناکامی پے خودکشی کرلی ۔منٹو کی آنکھوں کی شرارت بڑھتی جارہی تھی ۔ ارے یار ۔کل میں ایک گلی کے ایک مشہور ومعروف انگلش میڈیم اسکول کے قریب سے گذرا ۔چھٹی کا وقت تھا ،استانیاں اسکول سے نکل رہیں تھیں ۔میں تو ٹھٹھک کر رک گیا ،دل چاہا فورن داخلہ لے لوں ۔سڈول ٹانگوں پے جو کچھ چڑھا ہوا تھا اس وک پجامہ کہنا زیادتی ہوگی ۔کسی کسی کے سر پے چار گرہ کپڑا جسے حجاب کہتے ہیں ضرور تھا لیکن جسم کا ایک ایک انچ نظروں سے ناپا جاسکتا تھا ،کچھ نے کالے کالے لمبے جبے بھی پہن رکھے تھے لیکن وہ بھی ایسے باریک اور دیدہ زیب کے مانو صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ،

پھر انکھوں ،گالوں اور لبوں کی لالیاں جو سبق پڑھارہی تھیں اس کے لئے کسی مکتب عشق کی شاگردی ہی کی جاسکتی ہے ،بائیولوجی اورفزکس نہیں پڑھی جاسکتی ۔ اور ہاں اس وضع قطع سے تو میرے جیسے بڈھے کی کیمسٹری خراب ہورہی تھی تو یہ تو ان بچوں کے ہارمونز تو ابھی اتاولے ہونے شروع ہوئے ہیں ۔تو ایسے ہی کسی اتاولے ہارمون کو دھتکارنے کا نتیجہ ہے یہ خودکشی ۔یار تیری تو بڑی جان پہچان ہے میرا بھی داخلہ کرادے نا کسی ایسے اسکول میں ۔یقین کر منٹو کا یہ دوسرا جنم بڑا ہی دھانسو ہوگا ،سوچ بڈھے ٹھڈوں سے پڑھنے والا منٹو آج تک لعنت زدہ ہے تو ان نازنیوں مہ جبینوں سے فارغ التحصیل منٹو کیسا ہوگا ۔؟منٹو نے داہنی آنکھ دبائی اور پھر سے ہنسنے لگا ۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎