بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


تین روٹیوں کتے کو کھلادی

  بدھ‬‮ 31 جولائی‬‮ 2019  |  20:40

حضرت عبداللہ بن جعفررحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ جنگل میں تشریف لے جا رہے تھے ۔ راستہ میں ایک باغ پر گزر ہوا وہاں ایک حبشی غلام باغ میں کام کر رہا تھا۔ اس کی روٹی آئی اسی وقت ایک کتا بھی باغ میں چلا آیا اور اس غلام کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔اس غلام نے کام کرتے ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی، کتے نے اس کو کھا لیا اور پھر کھڑا رہا۔ اس نے پھر دوسری اور تیسری روٹی بھی ڈال دی۔ کل تین ہی روٹیاں تھیں۔ وہ تینوں

کتے کو

کھلا دیں۔ حضرت عبداللہ بن جعفررحمتہ اللہ علیہ غور سے کھڑے دیکھتے رہے ۔ جب وہ تینوں روٹیاں ختم ہو گئیں تو آپ نے اس غلام سے پوچھا کہ تمہاری کتنی روٹیاں روزانہ آتی ہیں۔ اس نے عرض کیا آپ نے ملاحظہ فرما لیا تین ہی آیا کرتی ہیں۔حضرت عبد اللہ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، پھر تینوں کا ایثار کیوں کر دیا؟غلام نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ یہاں جنگل میں کتے رہتے نہیں ہیں۔ یہ غریب بھوکا کہیں دور سے مسافت طے کر کے آیا ہے ۔ اس لئے مجھے اچھا نہ معلوم ہوا کہ اس کو ویسے ہی واپس جانے دوں۔ حضرت عبداللہ بن رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا پھر آج تم کیا کھاؤ گے ۔

غلام نے کہا ایک دن فاقہ کروں گا۔ یہ تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دل میں سوچا کہ ایثار کے مقابلے میں گویا لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ بہت سخاوت کرتا ہے یہ غلام تو مجھ سے بہت زیادہ سخی ہے ۔ یہ سوچ کر آپ نے شہر میں جا کر مالک باغ سے وہ باغ اور غلام خرید لیا اور جا کر غلام سے کہا، جا میں نے تجھے آزاد کیا اور باغ بھی تجھے ہی بخش دیا ہے ۔ غلام نے انتہائی خودداری سے جواب دیا کہ میں آپ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس شکریے کے اظہار میں یہ باغ آپ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرتا ہوں چونکہ اب آپ کے دل میں میری عزت و عظمت اور عقیدت ہو گئی ہے جو کہ میرے حق میں زہرقاتل ہے ۔ لہٰذا اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہاں سے چل دیا۔


loading...