بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اسرائیل کے علاقے سے ایسی مسجد دریافت ہو گئی کہ دیکھ کر ماہرین آثار قدیمہ ورطہ حیرت میں پڑ گئے

  جمعرات‬‮ 8 اگست‬‮ 2019  |  13:53

ماہرین آثار قدیمہ اس وقت ورطہ حیرت میں پڑ گئے جب صحرا النقب میں انہیں قدیم ترین مسجد کے مکمل اور بھرپور آثار ملے۔ مسلمانوں کی مسجد کا رخ کعبہ اللہ (مکہ المکرمہ) کی جانب ہے۔ ماہرین کو یقین ہے کہ یہ مسجد ساتویں یا آٹھویں صدی میں تعمیر ہوئی ہوگی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ موجودہ اسرائیل جس سرزمین پہ واقع ہے۔ اس پر مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق کے دورحکومت میں (636 سن عیسوی) مسلمانوں کی حکومت قائم تھی۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے جرمنی کے

نشریاتی ادارے

نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسجد کی دریافت کو اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے انتہائی حیران کن قرار دیا ہے۔ جنوبی اسرائیل میں پھیلے صحرائی علاقے میں 1200 سالہ پرانی مسجد کی باقیات عرب بدوؤں کی بستی والےشہر راحت کے قریب سے ملی ہیں۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ جون سلیگمان اور شہور زور کا مسجد کی تعمیر کے متعلق کہنا ہے کہ یہ ساتویں یا آٹھویں صدی میں تعمیر ہوئی ہوگی۔ ماہرین کے مطابق ملنے والی باقیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی مسجد ہوگی لیکن اپنے طرز تعمیر سے جدید دکھائی دیتی ہے مگر اس کو غالباً دنیا کی قدیم ترین مساجد میں شمار کیا جا سکتا ہے۔اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ اس جیسی مسجد کے باقیات دنیا کے کسی اور خطے سے برآمد نہیں ہوئے ہیں

جو انتہائی حیران کن ہے۔جون سلیگمان اور شہور زورکے مطابق مسجد کا ڈھانچہ مستطیل اور اوپر سے کھلا ہوا ہے۔ نماز پڑھنے کے مقام پر محراب نہایت واضح ہے۔اسرائیلی ماہرین نے تسلیم کیا کہ مسجد کی محراب کا رخ مکہ المکرمہ کی جانب ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ 1200 سال قبل اس کو علاقے کے مسلمان کسانوں نے تعمیر کیا ہو گا۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہر آثار قدیمہ گڈون اوینی یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ اسرائیل میں دریافت ہونے والی یہ دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔مسجد کے ساتھ زرعی فارم کے آثار ملے ہیں جس کے ساتھ آبادی کے نشانات نمایاں ہیں۔ آبادی میں بنے ہوئے مکانات خاصی اہمیت کے حامل قرار دیے جارہے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ملنے والے مکانات کے آثار میں گودام، باورچی خانہ اور مہمان خانہ نمایاں ہیں۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎