بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ویڈیو سکینڈل،ارشد ملک کی حرکت سے ہزاروں دیانتدار اور محنتی ججوں کے سرشرم سے جھک گئے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بڑا اعلان کردیا

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  13:18

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وڈیو اس وقت کسی کیلئے فائدہ مند ہوسکتی جب کوئی اسے کسی کیس میں پیش کرے، ایک ویڈیو کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا دوسری ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی،دیکھنا ہوگا ویڈیو کی کاپی کا فورنزک ہوسکتا ہے یانہیں، یہ بھی دیکھنا ہے یوٹیوب ویڈیو کا فورنزک ہوسکتا ہے یا نہیں؟سب سے پہلے یہ ویڈیو اصل ثابت ہوگی تو کافی اثرانداز ہوگی، جج

right;">ارشد ملک کا ایک ماضی ہے جسے وہ مان رہے ہیں، انہیں تو کوئی بھی بلیک میل کرسکتا ہے، جسے سزا دی اس کے گھرچلے گئے، اس کے بیٹے سے ملنے سعودیہ چلے گئے، کیوں؟ ارشد ملک کی حرکت سے ہزاروں دیانتدار اور محنتی ججوں کے سرشرم سے جھک گئے، دو تین دن میں ہم اس معاملے پر فیصلہ دیں گے۔ منگل کو جج ارشد ملک کی مبینہ وڈیوز سکینڈل کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس عمر عطاء بندیال بینچ کا حصہ تھے۔ دور ان سماعت اٹارنی جنرل انور منصور خان اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تحقیقات مکمل کرنے کیلئے تین ہفتے کا وقت دیا گیا تھا، اس رپورٹ میں دو وڈیوز کا معاملہ تھا، ایک وڈیو وہ تھی جس کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا، دوسری وڈیو وہ تھی جو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ جج ارشد ملک کی احتساب عدالت میں تعیناتی ہوئی تھی، تیرہ مارچ 2018 کو ارشد ملک کی تعیناتی ہوئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ ارشد ملک کو انہوں نے تعینات کروایا،

کیا وہ وہ مبینہ شخص سامنے آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کروایا تھا۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ ارشد ملک کی تعیناتی والا مبینہ شخص سامنے نہیں آیااس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے اس وقت کی حکومت نے پاناما فیصلے کے بعد ارشد ملک کی تعیناتی کی، رپورٹ کے مطابق ناصرجنجوعہ دعویٰ کررہا ہے کہ ارشد ملک کو اس نے تعینات کرایا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ وڈیو کی کاپی کا فورنزک ہو سکتا ہے کہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ یوٹیوب وڈیو کا فورنزک ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ جج ارشد ملک فیصلے کے بعد دو بار عمرہ پر گئے،بعض معلومات کھلی عدالت میں نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہاکہ اس کیس میں دو اہم کردار ناصر بٹ اور سلیم اس وقت ملک میں نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس وڈیو سے فائدہ حاصل کرنے سے متعلق کسی نے کوئی درخواست دی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ ہمیں اس حوالے سے ابھی تک کوئی درخواست نہیں آئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ وڈیو تو اس وقت کسی کے لئے فائدہ مند ہوسکتی جب کوئی اسے کسی کیس میں پیش کرے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جنہوں نے یہ کہانی بنائی وہ اس سے لاتعلق ہوگئے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ سب نے ہی اس کہانی سے جان چھْڑالی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سب سے پہلے یہ وڈیو اصل ثابت ہوگی تو کای پر اثر انداز ہوگی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ ناصر جنجوعہ اور مہر غلام جیلانی نے جج سے ملاقات کرکے 100 ملین روپے کی پیشکش کی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ پیشکش نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں رہائی سے متعلق فیصلے سے مشروط تھی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی تک تو اس وڈیو پر کام ہی نہیں ہوا۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ اس وڈیو کو اصل ثابت کرنا بہت مشکل کام ہوگا۔چیف جسٹس نے کہاکہ قابل اعتراض وڈیو پر تو جج نے بھی اعتراف کیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو پریس کانفرنس میں دکھائی وہ اصل ثابت کیسے ہوگی؟وڈیو کے معاملے کو ایکسپرٹس سے کلیئر کرائیں کہ فورنزک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ آڈیو ریکارڈنگ الگ کی گئی، پریس کانفرنس کے دوران وڈیو کا سب ٹائٹل بھی چل رہا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ لگتا ہے وڈیو کے ساتھ کسی نے کھیلا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ ناصر بٹ اور سلیم دونوں ملک سے باہر ہیں جن سے تحقیقات ہونی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ناصر بٹ یوکے میں ہیں دوسرے کردار سلیم کو بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ارشد ملک کی خدمات کو لاہور ہائیکورٹ کو واپس کیوں نہیں کرتے،ارشد ملک کو لاہور نہ بھجوا کر تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ تحقیقات کی وجہ سے ارشد ملک کو روک رکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ وفاقی حکومت نے انہیں ابھی تک پاس کیوں رکھا ہوا ہے؟کیا جج ایسا ہوتا ہے جو سزا دینے کے بعد مجرم کے پاس جائے،جج کے اس کردار سے ججز کے سر شرم سے جھْک گئے ہیں،آپ اس معاملے کو ہلکا کیوں لے رہے ہیں، جج نے بہت سی چیزیں حلف نامے اور پریس ریلیز میں بتائیں، معلوم نہیں جج صاحب کو کس نے مشورہ دیا۔۔چیف جسٹس نے کہاکہ جج خود مان رہا ہے کہ اس کے اس خاندان کے ساتھ تعلقات تھے، جج کے کردار کی حد تک معاملہ ہم دیکھ سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ وڈیو کے معاملے کی آپ تحقیقات کرائیں فورنزک ہوسکتی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے اس میں مزید کیا کرنا ہے ہم نے آپ متحرک کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دو سے تین دن میں منگل کو ہونے والی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل کی معروضات سن لیں، فیصلہ کریں گے اس کیس کو نمٹانا ہے یا تحقیقات کی نگرانی کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جج ارشد ملک نے حقائق خود اپنے بیان حلفی میں دنیا کو بتائے، سب سے اہم کام تو اصل وڈیو ریکور کرنا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ارشد ملک کی ویڈیو کا فورنزک تجزیہ کیا گیا؟ اس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کیا کہ ویڈیو ہمارے پاس نہیں۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویڈیو سوائے ایف آئی اے کے پورے پاکستان کے پاس ہے، سارا پاکستان اور عدالت ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے، کیا وہ ویڈیو صحیح ہے؟ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس ویڈیو کا فورنزک نہیں ہوا، جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو ویڈیو کے فورنزک کی بھی یقین دہانی کرائی۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ عدالت نے صرف متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا تھا وہ کردیا۔ وکیل اکرام چوہدری نے کہاکہ عدالت اس معاملے میں کمیشن بنانے یا تحقیقات کو مانیٹر کرے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم مانیٹرنگ کریں تو پھر بھی اعتراض ہوتا ہے نہیں کرتے مانیٹرنگ کا کہا جاتا ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت مکمل ہوگئی اور دو تین دن میں ہم اس معاملے پر فیصلہ دیں گے۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎