بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جرمن کمپنی میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے پاکستانی کی ملک بدری کے احکامات کمپنی بھی خاموش نہ بیٹھی ، فیس بک پر جذباتی تحریر پوسٹ ،50ہزارافرادنے شیئربھی کردیا

  جمعہ‬‮ 23 اگست‬‮ 2019  |  13:11

جرمن کمپنی میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے ایک پاکستانی پناہ گزین کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے لیکن کمپنی کے مالکان کی فیس بک پر جذباتی تحریر کی وجہ سے شاید زیر تربیت نوجوان کو جرمنی سے ملک بدر نہ کیا جائے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک پاکستانی پناہ گزین انیس نے خود کو جرمنی میں ضم کرنے کے لیے

یہ تمام کوششیں کر دیں لیکن پھر بھی ان کو جرمنی سے ملک بدری کا خطرہ لاحق ہے۔ پاکستانی پناہ گزین انیس یکم ستمبر 2017ء سے این ایف سی ماہلر نامی ایک ٹرک ساز ادارے میں

میکاٹرونکس کے شعبے میں ووکیشنل ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی اور رواں ماہ 14 اگست کو متعلقہ حکام کی جانب سے ملک بدری کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔این ایف سی ماہلر کے مالکان کو جب اس بات کی خبر ملی تو انہوں نے اس حوالے سے اپنا رد عمل ادارے کے فیس بک پیج پر ایک جذباتی تحریر کی شکل میں پیش کیا۔ اس پوسٹ میں مالکان نے لکھا کہ ہم حیران و پریشان ہیں، افسردہ ہیں اور غصے میں بھی ہیں، ہم عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہر ممکن قانونی کارروائی کرنے میں انیس کی مدد کریں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر یہ پوسٹ وائرل ہو گئی اور پچاس ہزار سے زائد صارفین نے اس کو شیئر بھی کیا۔ فیس بک پر یہ ایک بحث کا موضوع بن گیا اور اس پوسٹ پر بارہ ہزار سے زائد صارفین نے کمنٹس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎