دودھ کا پیالہ

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  3:55

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میری بھوک کا یہ حال ہوتا کہ میں اپنا کلیجہ زمین پر ٹیک کر لیٹ جاتا تھا اور کبھی پیٹ پر پتھرباندھ لیتا تھا‘ ایک دفعہ میں راستے میں بیٹھ گیا‘وہاں پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا‘ میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا‘ اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا‘ اس کے بعد وہاں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے‘ میں نے ان سے بھی ایک آیت کے بارے میں پوچھا‘ان سے سوال کرنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ جانے کا تھا مگر انہوں نے بھی مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ ظاہر نہ کیا‘ اس کے بعدوہاں نبی ؐ کا گزر ہوا‘

کا گزر ہوا‘ آپؐ نے میرا چہرہ دیکھ کر میرے دل کا حال معلوم کرلیا اور فرمایا:

اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ نے فرمایا: میرے ساتھ چلو‘ نبی اکرمؐ ایک گھر میں داخل ہوئے اور مجھے بھی اندر جانے کی اجازت مل گئی‘ میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ دیکھا‘آپؐ نے گھر والوں سے پوچھا: یہ دودھ تمہارے پاس کہا سے آیا؟ انہوں نے بتایا کہ فلاں گھر والوں نے ہدیہ بھیجا ہے‘ آپؐ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اہل صفہ کو بلالاؤ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل صفہ سب کے مہمان تھے‘ ان کا کوئی گھر نہ تھا اور نہ وہ مالدار تھے‘ نبیؐ کے پاس جب کوئی ہدیہ آتا تو آپ ؐ اس میں سے کچھ لے لیتے اور جوباقی بچتا وہ ان

حضرات کے پاس بھیج دیتے تھے‘ اگر صدقے کا مال ہوتا تو وہ سارے کے سارا اہل صفہ کو بھیجتے کیونکہ صدقہ آپ ؐ کے لیے حلال نہ تھا‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ؐ کی اس بات سے کہ اہل صفہ کو بلالاؤ میں غمگین ہوگیا‘ مجھے تو یہ امید تھی کہ اس دودھ سے چند گھونٹ مجھے بھی مل جائیں گے اورمیری بھوک کچھ کم ہوجائے گی‘ میں نے خیال کیا کہ میرے

بلانے پر جب وہ سارے لوگ آجائیں گے تو میں ان کو دودھ پلاؤں گا‘ خود میرے لیے کچھ نہیں بچے گا لیکن اللہ کے رسولؐ کے فرمان کی تعمیل ضروری تھی چنانچہ میں جا کر اہل صفہ کو بلالایا‘ وہ آئے اور اجازت لے کر بیٹھ گئے‘ پھر نبیؐ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! ان کو دودھ پلاؤ۔ میں نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور ان سب کو پلانا شروع کیا‘ہر آدمی نے خوب سیر ہو کر پیا‘ جب میں ان سب کو پلا کر فارغ ہوا تو وہ پیالہ میں نے نبی ؐ کو پیش کردیااور اس پیالے میں ابھی کچھ دودھ باقی تھا‘ آپ ؐ نے سرمبارک اٹھایا‘ میری طرف دیکھا اور مسکرادیے‘ پھر فرمایا: اے ابوہریرہ!بیٹھ جاؤ اور یہ دودھ کا پیالہ پیو‘ میں بیٹھ گیا اور میں نے وہ دودھ پیا‘ آپ ؐ نے دوبارہ فرمایا کہ پیو‘ میں نے پھر پیا‘ آپؐ نے باربار فرمایا کہ پیو‘ میں ہربار پیتا رہا‘ آخر میں نے کہہ دیا یارسول اللہ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو حق دے کر بھیجا ہے کہ میں اب اور نہیں پی سکتا پھر آپؐ نے فرمایا: اچھا، لاؤیہ پیالہ مجھے دے دو‘میں نے وہ پیالہ آپؐ کو دے دیا‘ آپؐ نے وہ بچا ہوا دودھ نوش فرمایا۔