بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے گا؟اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے دوٹوک اعلان کردیا

  بدھ‬‮ 20 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  13:23

اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف وطن واپس نہیں آئے تو ان کے خلاف توہین عدالت کا کیس بھی چلے گا اور آئندہ کوئی عدالت انہیں ریلیف نہیں دیگی۔ ایک انٹرویو میں اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان نے کہا کہ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ نواز شریف کے علاج کران کے لیے بیرون ملک جانے کے معاملے پر عدالت نے وفاقی کابینہ کے دو پہلو تو عدالت نے قبول کیے تاہم کابینہ نے گارنٹی جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاہم عدالت نے اس کی جگہ 7 ارب

right;">روپے کی گارنٹی مانگی تھی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بھی گارنٹی مانگی تھی اور عدالت نے بھی گارنٹی لی ہے۔ شہباز شریف نے نواز شریف کی گارنٹی دی ہے اور اگر نواز شریف واپس نہیں آتے تو توہین عدالت کا چارج لگے گا جبکہ وہ صادق اور امین بھی نہیں رہیں گے۔انور منصور خان نے کہا کہ اگر نواز شریف وطن واپس نہیں آئے تو لندن سے انہیں واپس لانے کی کوشش کی جائیگی اس سے قبل بھی بیرون ملک سے مجرموں کو واپس لانے کی مثالیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو جتنا ریلیف ملا ہے اتنا تو کسی کو بھی نہیں ملا جبکہ ملک میں یہ پہلی مثال ہے کہ ایک مجرم کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت ملی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ عام آدمی کے لیے کیوں نہیں کیے جاتے؟ ملک میں تو موذی مرض میں مبتلا قیدیوں کو ضمانت بھی نہیں دی جاتی۔ ہم کوشش کریں گے کے اب عدالتی فیصلے کی روشنی میں ان افراد کو بھی ریلیف دلوایا جائے جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے معروف شخصیت ڈاکٹر عاصم حسین کو علاج کرانے کے لیے ضمانت ڈیڑھ سال میں ملی تھی تو عام آدمی کو معلوم نہیں ضمانت کے لیے کتنا عرصہ لگے گا۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎