بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


گندم کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ 2 لاکھ ٹن گندم کہاں غائب ہو گئی؟آٹے کی قیمتیں کنٹرول رکھنے کیلئے بڑا مطالبہ کردیا گیا

  جمعرات‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  12:54

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کی کمی کا امکان ہے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلہ پر فوری قابو نہ پایا گیا تو امن و امان کا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا ہو گی۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ پر اپنی تشویش ظاہر

right;">کرتے ہوئے کہا کہ سال رواں کی ابتداء میں ملک میں 27.9 ملین ٹن گندم موجود تھی جو ملکی ضروریات کے لئے کافی تھی جو اب 25.8 ملین ٹن ہے مگر اسکے باوجود بحران جنم لے رہا ہے اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس کو حل کرنے کے لئے گندم کی درآمد کی فوری اجازت دی جائے اور اسے یقینی بنانے کے لئے گندم کی درآمد پر عائد60 فیصد ڈیوٹی ختم کی جائے تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ گندم کے بحران کے دیرپا حل کے لئے اس شعبہ میں کرپشن، چوری اورا سمگلنگ کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ حکومت سندھ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس 8 لاکھ ٹن گندم موجود ہے مگر اس میں سے2 لاکھ ٹن گندم کے غائب ہونے کی خبروں سے اسکی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کا نوٹس لیا جائے کیونکہ اس اہم معاملہ کو نظر انداز کرنا بڑی سیاسی غلطی ہو گی جس سے ملکی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ

گندم کے بحران میں منافع خور بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں جن کی پھیلائی ہوئی افواہوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔یہ عناصر افواہوں کے ذریعے اپنا منافع بڑھا رہے ہیں جسکی اجازت نہیں ہونی چائیے۔یہ منافع خور پہلے کاشتکاروں کو بلیک میل کر کے ان سے کوڑیوں کے مول گندم خریدتے ہیں اور بعد ازاں اسے مہنگے داموں بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور اس طرح سے کسانوں اور عوام دونوں کا استحصال کر رہے ہیں مگر انھیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایف بی آر ان عناصر کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لئے اقدامات کرے تاکہ انھیں ملکی مستقبل سے کھیلنے کی ہمت نہ ہو۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار خطے کے دیگر ممالک سے بہت کم ہے جسے بڑھانے کے لئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لئے پانی کی کمی، بہتر بیج، مناسب قیمت پر کھاد اور زرعی ادویات کی فراہمی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو اپنانا ہو گا۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎