بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جنگی چال

  پیر‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2017  |  19:16

میں سو سے زیادہ جنگوں میں شریک ہوا، میرے جسم میں ایک بالشت برابر بھی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تیر، تلوار یا نیزے کا زخم نہ ہو، اس کے باوجود میں اپنے بستر پر مررہا ہوں، بزدلوں کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں اور میرے لیے لا الہ الا اللہ سے زیادہ کوئی عمل بھی امید افزا نہیں، میں اسی کو ڈھال بنائے ہوئے ہوں۔ یہ وہ تاریخی الفاظ ہیں جو مرنے سے پہلے ایک ایسے بہادر سپاہی کی زبان سے ادا ہوئے جس کی ساری زندگی اسلام کی خاطر جہاد کرتے ہوئے بسر ہوئی جنہوں نے جنگ

موتہ میں مسلمانوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا جس میں ان کے ہاتھوں سے نو تلواریں ٹوٹیں۔۔ اپنے قبول اسلام کا واقعہ خود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ہم جمع ہو کر مدینہ پہنچے، یہ ہجرت کا آٹھواں سال اور صفر کی یکم تاریخ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری آمد کی اطلاع ہوچکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش تھے، میں نے عمدہ کپڑے پہنے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا، راستے میں میرا بھائی ملا اور کہنے لگا جلدی کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے آنے کی اطلاع ہوچکی ہے اور وہ تمہارا انتظار کررہے ہیں، میں تیزی سے چلا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ کر سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محبت سے جواب دیا، پھر میں نے کلمہ پڑھا، پھر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ جس نے تمہیں ہدایت دی۔ مجھے تمہاری عقل کے متعلق یہی خیال تھا کہ وہ خیر کی طرف تمہاری رہنمائی کرے گی۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو معلوم ہے کہ میں جنگوں میں حق سے منہ موڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرتا رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے معاف فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسلام پہلے کی تمام غلطیوں کو معاف فرمادیتا ہے لیکن حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے اصرار پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے ان کے لیے دعا فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہادری اور اللہ پہ بھروسے کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ان کے پاس ایک زہر لایا گیا، پوچھا یہ کیا ہے۔ لوگوں نے بتایا زہر ہے۔ بسم اللہ پڑھ کر اسے پی گئے جسے کسی نے اپنے اشعار میں اس طرح بیان کیا ہے کہ: بن ولید سم قاتل کو اس طرح پی گئے جس طرح پیاسا انسان ٹھنڈے خوشگوار پانی کو منہ سے لگا کر پیتا ہے۔ جس طرح جنگی معرکوں میں بہادری سے لڑنا اچھا سمجھا جاتا ہے اسی طرح دشمن کو شک و شبہات میں ڈالنا بھی ایک کامیاب جنگی چال سمجھی جاتی ہے، جیسا کہ سریہ موتہ میں پیش آیا، اس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر لشکر بنایا اور فرمایا اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوجائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے اگر جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر لشکر ہوں گے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سفید جھنڈا بنا کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ موتہ کے مقام پر دونوں لشکروں کا آپس میں ٹکراﺅ ہوا اور زبردست مقابلہ ہوا، مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی اور ان کے مقابلے میں کفار کی تعداد دو لاکھ تھی لیکن مسلمان کبھی زیادہ تعداد میں ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایمان کی طاقت پر فتح مند ہوئے۔

مقابلہ میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، انہوں نے جھنڈا لیا تو وہ بھی شہید ہوگئے، جب عبداللہ بن رواحی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوگئے تو مسلمان پریشان ہوگئے اور پیچھے ہٹنے لگے، ایسے میں حضرت ثابت بن اقرم نے آگے بڑھ کر جھنڈا اٹھایا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو تھمادیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا اور حملہ آور ہوئے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، مشرکین کی ایک بڑی تعداد کو حضرت خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں نے ختم کر ڈالا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اس دن نو تلواریں ٹوٹیں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنگی مہارت کو کام میں لاکر لشکر اسلام کو علیحدہ کرکے آنے والی شکست سے بچالیا، ہوا کچھ یوں کہ رات ہوچکی تھی، اس فرصت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لشکر کی ترتیب بدل دی۔ جب صبح ہوئی دشمن نے مسلمانوں کی ترتیب بدلی ہوئی دیکھی اور شور اور ہتھیاروں کی جھنکار سنی تو سمجھے کہ مدد آگئی، مشرکین خوفزدہ ہوکر بھاگنے لگے، مشرکین کے بھاگنے کے دوران بھی مسلمان ان سے لڑتے رہے، اس طرح مشرکین بڑی تعداد میں مارے گئے اور باقی نے میدان جنگ سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ایک سو اٹھارہ احادیث مروی ہیں چوں کہ شروع ہی سے بطور سپاہی زندگی بسر کی اس لیے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس جنگی ساز و سامان بہت تھا جسے اسلام لانے کے بعد راہ خدا میں وقف کردیا تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات اکیس ہجری حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ہوئی۔ ساٹھ سال زندہ رہے سواسو جنگوں میں شرکت کی اور بہادروں کی ایک بڑی جماعت کو قتل کیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو اپنا گھوڑا، اسلحہ اور غلام بھی اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو سلیمان پر اللہ اپنا رحم فرمائے۔ وہ بالکل ہمارے گمان کے مطابق تھے۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کیلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎