بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


 فیض کے بارے میں

  منگل‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2017  |  23:03

اردو کے مقبول شاعر فیض احمد فیض جلاوطنی کے زمانے میں معروف شاعرہ زہرہ نگاہ ہاں ٹھہرے تھے۔زہرہ نگاہ فیض فیسٹول کے دوران فیض احمد فیض کی بزلہ سنجی کے کچھ واقعات سنائے جو آپ کے گوش گزار ہیں‘ایک بار ایک شخص نے دروازے پر آ کر گھنٹی بجائی‘ میں نے کہا کہ فیض تو گھر میں نہیں ہیں‘ انہوں نے کہا‘فیض آپ کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ ان کا خیال نہیں رکھ رہیں‘ روز بروز کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں‘میں نے کہا‘نہیں میں تو خیال رکھ رہی ہوں‘ انہوں نے ایک

لفافے سے بسکٹوں کے دس بارہ ڈبے نکالے اور کہا کہ یہ لیجیے‘ ان میں سے ہر روز انہیں چار پانچ بسکٹ کھلا دیجیے گا‘ میں نے ان سے پوچھا‘ ’آپ شاعر ہیں؟ کہنے لگے توبہ کریں جی‘ میرا شاعری سے کیا تعلق؟

’تو پھر آپ کو فیض کی صحت میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟اصل میں بات یہ ہے جی کہ میں بھی سیالکوٹی ہوں‘ اس حوالے سے وہ میرے گرائیں ہوئے‘ آخر ہم ایک دوسرے کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا؟ایک بار مجھے اور میرے شوہر ماجد کو کہیں سے دعوت کا بلاوا آیا‘ شوہر نے کہا کہ فیض کو بھی لے چلتے ہیں‘ فیض چونکہ مدعو نہیں تھے‘ اس لیے میں جھجھک رہی تھی کہ وہ اصول کے پکے ہیں‘ انکار نہ کر دیں۔ آخر ان سے پوچھ لیا‘ کہنے لگے‘بھئی اصول سیاست میں ہوتے ہیں‘ مذہب میں ہوتے ہیں‘ کھانے میں کہاں سے اصول آ گئے‘چلوچلتے ہیں‘فیض جیل کے زمانے کی تکالیف نہیں سنایا کرتے تھے۔ ایک بار پوچھنے پر بتایا کہ ایک دن قید تنہائی کے دوران کمرے کے نیچے سے کھانے کے پلیٹ آئی تو اس کے ساتھ سگریٹ کی ڈبیا کا گتہ اور پنسل پڑی تھی۔ میں نے اس پر چند اشعار لکھ کر اسے دروازے کے نیچے سے کھسکا دیا۔ اگلے دن پھر یہی ہوا اور پھر اکثر ایسا ہونے لگا۔جب میں رہا ہوا تو جیل کے ایک محافظ نے مجھے ربر بینڈ سے بندھا ہوا گتوں کا ایک پلندا دیا جس پر میرا خاصا کلام درج تھا تو جب ایسے اچھے واقعات ہوئے ہوں تو پھر بری باتوں کو دوسروں سے بانٹنے کا فائدہ؟۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔

loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎