بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


آزادی ایک نعمت

  بدھ‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2017  |  16:59

ایک چوہا کسی جنگل میں بھوک کی مصیبت سہتا تھا لیکن آزادی سے رہتا تھا۔ نہ کسی دشمن کا ڈر اور نہ ہی کسی چیز کا خطرہ۔ ایک دن قصبہ سے چوہے کا ایک مہمان آیا اور جنگل میں دو روز گزارنے کے بعد اس چوہے سے بولا۔" تمہاری زندگی قابل افسوس ہے۔ فاقوں مرتے ہو اور روکھی سوکھی کھاتے۔ چلو تم میرے ساتھ میرے گھر، وہاں تمہیں کھانے کو مرغن غذائیں، گھی، دودھ، پستہ، بادام، گری اور اخروٹ وغیرہ کھلاؤں گا۔"

جنگل کے چوہے کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بڑا خوش ہوا۔ اس کے ساتھ

تیاری کرکے اس کے گھر قصبہ میں آ گیا۔ ہر طرف عیش و عشرت کا سامان دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اچھی اچھی چیزوں پر ٹوٹ پڑا اور دل میں کہتا جاتا تھا کہ اب کبھی جنگل میں نہ جاؤں گا۔ رات دن یہیں رہوں گا اور مزے اڑاؤں گا۔ ابھی وہ مزے لوٹ ہی رہا تھا کہ ایک بچہ اندر آیا۔ اس نے چوہا دیکھا تو ایک پتھر اٹھا کر مارا۔ اگر جنگلی چوہا بھاگ کر بل میں نہ گھس جاتا تو اس کا کچومر نکل جاتا۔

تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد جنگلی چوہا گری بادام کے مزے کے لیے دوبارہ باہر نکل آیا۔ بڑی احتیاط سے گری بادام کی طرف سرکنا شروع کیا۔ ابھی اس نے گری پر دانت جمائے ہی تھے کہ دوبارہ دروازہ کھلا اور آنے والے نے پھر پتھر پھینکا۔

چوہے کی قسمت اچھی تھی کہ نشانہ چوک جانے سے پھر بچ گیا اور بھاگ کر بل میں چھپ گیا۔ مارے ڈر کے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ اپنے دل میں کہنے لگا کہ لعنت ہے ایسی گری بادام کھانے پر جس میں جان جانے کا ڈر ہو۔ ایسا عیش بیکار ہے جس میں جینا دشوار ہے۔ جنگل میں تو مجھے کچھ خوف نہ تھا۔ روکھی سوکھی ہی سہی لیکن حرام موت مرنے کا کوئی ڈر نہ تھا۔ جو مزا آزادی میں ہے وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ چپکے سے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔

حاصل کلام: آزادی سب سے بڑی نعمت ہے۔ غلامی میں سونے کے نوالے کس کام کے جہاں ہر وقت موت کا ڈر خوف ہو

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎