بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بے یقینی کی رسی

  بدھ‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2017  |  17:05

برفانی پہاڑوں پہ کوہ پیمائی کرتے ایک آدمی کو طوفان نے گھیر لیا۔۔ وہ پہاڑ کی چوٹی کے بالکل قریب تھا لیکن تیز ہواؤں کے سامنے اسکی ہمت جواب دے گئی ہاتھ چھوٹا اور وہ بیسیوں میڑ کی بلندی سے نیچے آنے لگا۔ جب یقین ہوگیا کہ بچنے کے آثار باقی نہیں ہیں تو اس نے آنکھیں بند کرلیں اور دعا کرنے لگا "خدایا۔۔! تْو ہی مجھے بچا سکتا ہے" اپنے برے کاموں کی معافی مانگی اور اچھے اعمال کا صلہ مانگنے لگا۔

ایک جھٹکا لگا اور وہ ہوا میں ہی معلق ہوگیا۔ اپنی کمر کے گرد

اس نے جو رسی باندھ رکھی تھی اس رسی نے اسے بچا لیا۔ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور آنکھیں کھول دیں۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اس لیے اس بات کا اندازہ لگانا ناممکن تھا کہ وہ سطح سے کتنی اونچائی پہ موجود ہے۔ وہ مدد کے لیے اونچی اونچی آوازیں لگانے لگا۔ لوگوں کو پکارتا تو کبھی خدا سے التجائیں کرتا۔ کافی دیر بعد کہیں سے ایک آواز گونجی

"کیا چاہیے تمہیں۔۔؟" "تم کون ہو۔۔۔؟" "جس سے تم مدد مانگ رہے تھے۔۔" "تم خدا ہو۔۔۔۔؟" "اگر تم خدا سے مدد مانگ رہے تھے تو میں خدا ہوں۔۔ اگر انسان سے مانگ رہے تھے تو میں انسان ہوں"ن "پھر مدد کرو میری۔" "اپنی جیب سے چاقو نکالو اور رسی کاٹ دو۔" "اس رسی کے سہارے تو اب تک میں زندہ ہوں۔۔ کاٹ دی تو مر جاؤں گا" "جب تمہیں مجھ پہ بھروسہ ہی نہیں تو مدد کیوں مانگی۔۔" اسکے بعد آواز غائب ہوگئی۔۔۔

وہ اس شش و پنج میں رسی سے چپکا رہا کہ اگر مددگار کی بات مان کے رسی چھوڑی تو موت یقینی ہے۔ طوفان تھما اور چند کوہ پیماؤں کا وہاں سے گزر ہوا تو اس آدمی کی لاش سطح سے چند فٹ کی اونچائی پہ لٹکی ہوئی تھی۔۔۔ گر وہ اس رسی کا سہارا چھوڑ کے مددگار کی بات مان لیتا تو یقیناً اسکی جان بچ جاتی۔

"ہم اپنی ہی بنائی ہوئی رسیوں میں خود کو ایسے جکڑ لیتے ہیں جن سے چاہ کی بھی آزادی ممکن نہیں ہوتی۔۔ کیوں کہ ہم ان رسیوں کو توڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔۔۔ گر آزادی چاہیے تو خدشات کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا"

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎