بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ایلس ویلز کی سی پیک پر شدید تنقید ، سرتاج عزیز بھی کھل کر میدان میں آگئے، حقیقت بیان کردی

  جمعہ‬‮ 24 جنوری‬‮ 2020  |  13:50

امریکہ کی نائب سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز کی پاک چین اقتصادی راہ داری (سی پیک) پر شدید تنقید کے بعد سابق چیئرمین پلاننگ کمیشن اور سابق مشیر خزانہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے کسی ملک کو خائف نہیں ہونا چاہیے۔ سرتاج عزیز نے برطانوی جریدے سے گفتگو میں

واضح کیا کہ سی پیک میں چین کے 50 ارب ڈالرز میں سے 37 ارب ڈالرز سرمایہ کاری ہے جبکہ 13 ارب ڈالرز پاکستان پر قرضہ ہے جس پر صرف دو فیصد سود ہے، انہوں نے کہا کہ سی پیک

کے خلاف ویلز کا بیان سیاسی ہے کیونکہ سی پیک کا قرضہ پاکستان کے کل قرضے کا 10 فیصد بھی نہیں بنتا،پاکستان کے دورے کے دوران ایلس ویلز نے ایک تھنک ٹینک سے خطاب میں سی پیک پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان منصوبوں میں شفافیت نہیں اور پاکستان چین سے مہنگے قرضے لے رہا ہے جو ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھائیں گے، سی پیک کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ممکنہ طور پر خراب ہونے پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کا چین پر انحصار ہے اور دونوں ممالک میں بہت اچھے تعلقات ہیں، ون بیلٹ ون روڈ اقتصادی بحالی کا پروگرام ہے اس سے کسی اور ملک کا کوئی نقصان نہیں، اس لیے کسی تیسرے ملک کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں.انھوں نے کہا کہ منصوبے کے شفاف نہ ہونے کے الزامات درست نہیں کیونکہ

سی پیک سے متعلق تمام تفصیلات پلاننگ کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہیں اور بارہا پارلیمنٹ میں پیش کی جا چکی ہیں۔ ایلس ویلز نے تھنک ٹینک سے خطاب میں سی پیک منصوبوں میں شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ کئی ایسی چینی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے جنھیں عالمی بینک نے بلیک لسٹ کیا ہے. امریکی وزارت خارجہ کی اعلی عہدے دار نے مزید کہا کہ چینی پیسے پاکستان کی معاونت نہیں کر رہے بلکہ مہنگے قرضے ہیں جن سے پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا ،دوسری جانب پاکستان میں تعینات چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ایلس ویلز کے منفی بیان میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ نومبر 2019 والی تقریر ہے اور اس پرانی تکرار کو پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں.چینی سفارت خانے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ ابھی تک سی پیک پر اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم ہے بیان میں کہا گیا ہمیں امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر خوشی ہے تاہم ہم سختی سے پاک چین تعلقات اور پاک چین اقتصادی راہ داری میں امریکی مداخلت کی سختی سے بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎