بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جو پردوں کے پیچھے بھی دیکھتا ہے

  جمعہ‬‮ 14 فروری‬‮ 2020  |  14:10

زلیخا نے یوسف کے عشق میں مجبور ہو کر یوسف کا دامن پکڑ لیا اور اپنی خواہش کا اظہار اس قدر شدت سے کیا کہ آپ لرز اٹھے۔ زلیخا کے پاس سنگ مرمر کا بت کا جس کی وہ صبح و شام پوجا کرتی۔ اس کی آرتی اتارتی۔ دریائے نیل کی سطح پرتیرتے ہوئے کنول کے پھول اس کے چرنوں میں رکھتی، عطر چھڑکتی لیکن

جونہی اس نے حضرت یوسف کا دامن پکڑا تو بت کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس کا معبود اسے اس حالت میں نہ دیکھ سکے۔ وہ بت

سے حضرت یوسف کے ساتھ دست درازی کی چھپانا چاہتی تھی۔ اس نازک صورتحال سے حضرت یوسف بہت رنجیدہ ہوئے۔ سر پکڑ کر رہ گئے۔ زلیخا جذبات کی رو میں بے اختیار آپ کے پاؤں چومنے لگی اور کہنے لگی۔“اتنے سنگدل نہ بنو، وقت اچھا ہے، اسے ضائع نہ کرو۔ میری دلی مراد پوری کرو۔”حضرت یوسف رو پڑے اور فرمایا۔“اے ظالم! مجھ سے ایسی توقع نہ رکھ۔ تجھے اس بت سے تو شرم آتی ہے جسے تو نے کپڑے سے ڈھانپ دیا ہے اور مجھے اپنے خدا سے شرم آتی ہے جو پردوں کے پیچھے بھی دیکھتا ہے۔”۔حاصل کلام؛خدا سمیع و بصیر ہے۔ لاکھ پردوں کے پیچھے گناہ کیا جائے اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے ہر وقت اس سے ڈرنا چاہیے۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎