بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’خواتین مردوں کے بغیر ہی بچے پیدا کرسکیں گی کیونکہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے سب سے بڑا اعلان کردیا، مردوں کو دن میں تارے دکھا دئیے

  بدھ‬‮ 19 فروری‬‮ 2020  |  16:38

اس دنیا میں انسان کی آمد سے لے کر اب تک بچے کی پیدائش عورت اور مرد کے ملاپ سے ہوتی آئی ہے مگر اب نیا زمانہ آگیا ہے۔ جہاں ہم اور بہت سی حیران کر دینے والی باتیں دیکھ رہے ہیں وہیں یہ ناقابل یقین کام بھی شروع ہونے کو ہے کہ خواتین مردوں کی مدد کے بغیر ہی بچے پیدا کیا کریں گی۔تولیدی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ

محض دو سال کے عرصے میں خواتین مردوں کی مدد کے بغیر اولاد پید اکر رہی ہوں گی۔نئی تولیدی ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنے والے آسٹریلوی

سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ مولی کا کہنا تھا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ حمل کے لئے مرد کے سپرم کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ فرٹیلٹی ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی ہو چکی ہے کہ صرف خاتون کے تولیدی خلیات سے بچے کی پیدائش ممکن ہوسکے گی۔ چین میں دو مادہ چوہوں کے تولیدی خلیات سے بچہ پیدا کرنے کے کامیاب تجربات ہو چکے ہیں اور ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ”کوئی وجہ نہیں کہ انسانوں میں بھی ایسا کیا جاسکے۔“ اس وقت اخلاقی و قانونی پابندیوں کے باعث یہ ممکن نہیں ہے کہ دو خواتین کے تولیدی خلیات سے بچہ پیدا کیا جاسکے لیکن ڈاکٹر ڈیوڈ کو یقین ہے کہ آنے والے دو سالوں میں ٹیکنالوجی بھی مزید بہتر ہوجائے گی اور سماجی و قانونی پابندیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔

دی کورئیر میل سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ڈیوڈ کا مزید کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا مطلب یہ ہے کہ دو مرد آپس میں بچہ پیدا کرسکیں گے جبکہ دو خواتین آپس میں بچہ پیدا کرسکیں گی۔ اس مقصد کے لئے ایک ہی جنس کے دو افراد سے نصف کروموسوم سیٹ لئے جا ئیں گے اور پھر جینیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایڈٹنگ کرکے انہیں مکمل کروموسوم سیٹ میں تبدیل کردیا جائے گا، یعنی جو نصف کروموسوم سیٹ صنف مخالف کی جانب سے آنا تھا اسے ایڈٹنگ کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔واضح رہے کہ چینی اکیڈمی آف سائنس کے سائنسدانوں نے دو مادہ چوہوں سے تولیدی خلیات لے کر بچہ پید اکرنے کے کامیاب تجربات کئے ہیں

اور حالیہ تجربات کے دوران اس ٹیکنالوجی سے 29 چوہے پیدا ہوچکے ہیں۔ یہ سب مادہ چوہوں سے پیدا ہوئے ہیں یعنی ان کی پیدائش میں نر چوہوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہےسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نر کی مداخلت کے بغیر پیدا ہونے والے چوہے پوری

طرح صحت مند ہیں اور ان میں سے کچھ تو اب اپنے بچے بھی پیدا کرچکے ہیں۔ ان تجربات کے دوران سائنسدانوں نے دو نر چوہوں سے بھی بچہ پیدا کیا لیکن وہ 48 گھنٹے سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔ ان میں کچھ جینیاتی بگاڑ بھی پید اہوگئے تھے جیسا کہ کچھ انتہائی لمبی زبانوں کے ساتھ پیدا ہوئے، کسی کی ٹانگیں بہت بڑی تھیں اور کسی کے کان غائب تھے۔ سائنسدان مزید تحقیق جاری رکھئے ہوئے تا کہ دو نر جانوروں کے خلیات کے ملاپ سے بھی نارمل بچے پیدا ہو سکیں