بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


وہ وقت جب مکہ میں رہنے والے عرب ٹیکسی ڈرائیور نے گالیاں دینی شروع کر دیں

  پیر‬‮ 12 جون‬‮ 2017  |  13:29

معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے بیت اللہ شریف کے پاس رہنا اور دور رہنا فرق نہیں ڈالتا۔ ایک شخص بیت اللہ کے پاس رہتے ملاوٹ کرتا ہے جبکہ ایک 5ہزار کلو میٹر دور رہ کر ملاوٹ کرتے باز نہیں آرہا، قریب یا دور رہنے سے بات نہیں بنتی بلکہ سوچ میں فرق لانے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے اپنا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ پرانی بات ہےعمارتیں قریب ہوا کرتی تھیں، میں حرم سے نکلا بخاریوں جانے کیلئے وہاں بخاری بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ سڑک

ایک ٹیکسی مل گئی ، سفر شروع ہوا تو ٹیکسی ڈرائیور عرب تھا وہ ہر آگے آجانے والے کو گندی گندی گالیاں دیتا جس پر مجھے حیرت ہوئی ۔ حج کا موسم تھا اور ان دنوں بہت رش ہوتا ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور کو میرے حلئیے سے اطمینان تھا کہ یہ عربی نہیں جانتا ہو گاجبکہ مجھے سب پتہ چل رہا تھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔مجھے ٹیکسی ڈرائیور کے راہگیروں کے ساتھ روئیے پر بہت تکلیف ہوئی کہ یہ کیا کر رہا ہے۔ جب وہ ٹیکسی ڈرائیور حد سے تجاوز کرنے لگا تو میں نے سوچا چلو اس سے تھوڑی بات کرتا ہوں۔ میں نے اسے پہلے سلام کیا اور عربی زبان میں دو چارلفظ بولے تو ایک دم وہ ذرا سنبھل گیااور چپ ہو گیا۔ میں نے اس سے تھوڑی بات کی تو وہ ایک دم بولا کہ مجھ سے دین کی بات نہ کرو۔ مجھے تو دس سال ہو گئے ہیں میں نے بیت اللہ کی شکل نہیں دیکھی۔ اس کی اس بات پر میں سمجھا کہ یہ بدو ہے جو کہیں اور سے آکر یہاں محنت مزدوری کر رہا ہے۔میں نے اپنی سوچ کی تصدیق کیلئے اس سے پوچھا کہ کیا تم کہیں باہر سے آئے ہو سیزن کمانے کیلئے ۔ تو اس نے کہا کہ نہیں میں یہیں مکہ میں رہتا ہوں۔ میں نے استفسار کیا کہ مکہ میں رہتے ہواور دس سال سےبیت اللہ نہیں دیکھا تو اس نے کہا کہ ہاں دس سال سے بیت اللہ نہیں دیکھا۔مولانا کہتے ہیں کہ اس کے اس جواب کے بعد مجھے چپ لگ گئی اور گاڑی میں بالکل سناٹا چھا گیا۔پھر کچھ دیر بعد وہ بولا کہ کیوں پریشان ہو گئے ہو، پریشان نہ ہو، یہاں مکہ میں بڑی دنیا ایسی پڑی ہے جنہوں نے کئی کئی سال ہو گئے ہیں بیت اللہ کی شکل نہیں دیکھی۔مولانا طار ق جمیل نے واقعہ سنانے کے بعد کہا کہ بندہ جس سمت چلتا ہے اسے اسی طرف کی چیزیں سوجھتی ہیںاور جب بندہ کسی طرف سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے تو ادھر سے بھی تمام دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں

دن کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے لائف ٹپس  فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎