بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


صرف امید یا فیصلہ؟

  پیر‬‮ 12 جون‬‮ 2017  |  12:51

میں پورٹ لینڈ کے ایک ایئرپورٹ پر اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ جہاز سے نیچے اتارنے والی سیڑھیوں سے اتر کر میں نے ایک آدمی کو دو بیگ اٹھائے ہوئے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔ وہ بالکل میرے سامنے آکر رکا اور اپنے خاندان سے ملا۔ اپنے بیگ نیچے چھوڑ کر وہ اپنے چھوٹے بیٹے سے ملا۔ پھر اس کے بعد باقیوں سے بھی بوس و کنار ہوا۔ گلے ملنے کے بعد اس نے اپنے بیٹے سے کہا: تمہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، میں نے تمہیں بہت یاد کیا۔ اس کا بیٹا شرما کر مسکرادیا

اور جواباً کہنے لگا: میں نے بھی آپکو یاد کیا۔ پھرآدمی اپنے بڑے بیٹے، جو کہ شاید 9 یا دس سال کا تھا، سے ملا اور اسے چومنے کے بعد کہنے لگا: تم تو تقریباً جوان ہوچکے ہو۔

میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ پھر وہ بھی محبت بھرے انداز سے بوس و کنار ہوئے۔ یہی کچھ چل ہی رہا تھا کہ ایک یا ڈیڑھ سال کی بچی نے اپنی ماں کی باہوں میں تلملانا شروع کر دیا۔ وہ اپنے باپ کے نظارے کو دیکھ کر انتہائی خوش تھی۔ باپ نے اسے اسکی ماں سے لے کر اپنی بازروؤں میں اٹھایا اور خوب پیار کیا۔ چھوٹی بچی کافی آرام دہ اور مطمیئن محسوس کرنے لگی اوراس نے اپنا سر اپنے باپ کےکندھے پر رکھ دیا۔ باپ نے پھر بیٹی کو اپنے سب سے بڑے بیٹے کے حوالے کر دیا اور اپنی بیوی سے ملا اور کافی دیر تک وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے مسکراتے رہے۔

ملنے کے بعد آدمی نے اپنی بیوی کو بتایا کہ اس نے اسے کتنا یاد کیا اور وہ اس سے کتنا پیار کرتا ہے۔ میں ان سب کا آپس میں پیار کا دلفریب نظارہ دیکھ کر اسی میں ہی کھویا ہوا تھا۔ اچانک، بے اختیاراً، میں کہہ بیٹھا: واہ! آپ دونوں کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے۔ جواب میں اس نے اپنی بیوی کے چہرے سے نظر ہٹائے بغیر بتایا کہ انہیں ایک ساتھ 12 سال ہوئے ہیں۔ میں نے ایک اور سوال کیا: کتنا عرصہ آپ ایک دوسرے سے علیحدہ رہے ہیں۔ وہ آدمی میری طرف مڑا اور مکسراتے ہوئے کہنے لگا: پورے دو دن۔ ان کے جواب کو سن کر میں بہت حیران ہوا کہ یہ صرف دو دن علیحدہ رہے۔

ایک دوسرے کے لیے پیار اور ملنے کے طریقے کو دیکھ کر تو میں یہی سمجھا تھا کہ شاید کئی مہینوں کے بعد یہ لوگ ملے ہیں۔میں نے اپنے دوست کی تلاش پھر سے شروع کرنی تھی لہذا میں بات کو ختم کرنے والے انداز کے ساتھ کہا: میں پر امید ہوں کی میری بھی شادی شدہ زندگی 12 سال بعد بھی ایسی ہی پرجوش اور محبت والی ہوگی۔ میرے یہ الفاظ سنتے ہی اس نے اچانک حیران ہو کر میری طرف دیکھا اور میرے پاس آکر کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا: جناب! پر امید مت ہو، اسے ایسی ہی پرجوش بنانے اور محبت بھری بنانے کے لیے کوشش جاری رکھو۔ ہماری زندگی کو اچھا یا برا رکھنے کا اختیار ہم تک ہی ہے۔ ہم جس طرح چاہیں اپنی زندگی کو جی سکتے ہیں اور پھراس کا انجام بھی موت ہی ہونا ہے۔ لہذا زندگی کو خوش بنانے کا حق بھی ہمیں استعمال کرنا چاہیے۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس  فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎