بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’’تین اصول‘‘

  پیر‬‮ 16 اپریل‬‮ 2018  |  2:08

کمپارڈ‘‘ جنوبی سویڈن کے اسی گاؤں میں 1926ء کوپیدا ہوا۔ اس نے روایتی انداز میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ وہ ایک غریب طالب علم تھا۔ ابھرتے شعور کے ساتھ، بڑھتی ضروریات کے پیش نظر اس نے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اردگرد کے علاقوں میں سائیکل پر ’’ماچس فروخت کرنے سے‘‘ کاروبار کاآغاز کیا۔ کچھ عرصے بعداسے پتہ چلا وہ ’’اسٹاک ہوم ‘‘ سےماچسوں کی ایک کھیپ سستے داموں خرید کر اسے پرچون میں کم ریٹ پر بیچنے کے باوجود بھی اچھا نفع کما سکتا ہے۔

style="text-align: right;">چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ نتیجتاً اس کا کا روبا ر مچھلیو ں، کرسمس کے سجا وٹی درختوں، بیجو ں اور بعد میں با ل پو ائنٹ اور پنسلو ں کی فروخت تک بڑ ھ گیا۔آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کرنے کی اجازت دیجیے کہ مذکورہ تین اصول بھی برحق ہیں اور کمپارڈ کا ان سے حیرت انگیز استفادہ بھی سچ۔ مگر سوال یہ ہے! کیا یہ سنہری ہدایات دین اسلام نے 14صدیاں قبل ہر مسلمان تاجر کو نہیں دی تھیں؟ جی ہاں! بات اپنانے کی ہے۔ کھیل سارا عمل میں لانے کا ہے۔ ان کی تاثیر ہے پتھر کی لکیر۔ جو چاہے فائدہ اٹھائے۔کمپارڈ کی کامیابیوں کا یہ سفر دھیرے دھیرے جاری تھا کہ اس نے اپنے ان چھوٹے چھوٹے تجربات پر ایک بہت ہی بلند عمارت کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کامیابیوں کے میدان میں رینگنے کے بجائے جست لگانے کی ٹھانی۔

اس نے اپنے اب تک کے کچے تجربات سے تین پکے اصول اخذ کیے۔ یہ اصول اسے پرچون فروش سے ’’آئی کیا‘‘ کمپنی تک لے گئے۔ وہ تین اصول کیا تھے؟ کمپارڈ نے محبت، سادگی اور جہد مسلسل کو اپنا شعار بنا لیا۔اس نے اپنے ماتحتوں کو محبت دینے کا فیصلہ کیا۔ سادگی! آج ارب پتی بن کر بھی اس کے مزاج کا حصہ ہے۔ اس کی جہد مسلسل انقطاع کے نام سے کبھی آشنا نہ ہو سکی۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کرنے کی اجازتدیجیے کہ مذکورہ تین اصول بھی برحق ہیں اور کمپارڈ کا ان سے حیرت انگیز استفادہ بھی سچ۔ مگر سوال یہ ہے! کیا یہ سنہری ہدایات دین اسلام نے 14صدیاں قبل ہر مسلمان تاجر کو نہیں دی تھیں؟ جی ہاں! بات اپنانے کی ہے۔ کھیل سارا عمل میں لانے کا ہے۔ ان کی تاثیر ہے پتھر کی لکیر۔

جو چاہے فائدہ اٹھائے۔بہرحال! کمپا رڈ جب 17بر س کا ہوا تواس کے والد نے تعلیم میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر اسے نقد انعا م سے نوازا۔اس نے یہ رقم ان بنیادوں میں لگادی جس پر مستقبل میں دنیا کی ایک مشہور کمپنی (IKEA) ’’آئی کے ای اے‘‘ کی عمارت کھڑی ہونی تھی۔ ’’آئی کیا ‘‘ کا نام کمپنی کے مالک ’’اِنگو ار کمپارڈ(Ingvar kanpard) اس کے گاؤں (Agunnaryd)اور اس فارم (Elmtary) جہا ں اس نے پر ورش پائی تھی کے نام کے ابتدائی حرفو ںکو جو ڑ کر رکھا گیا۔ کمپا رڈ نے ماچسوں، مچھلیوںاور پنسلوں کے ساتھ ساتھ اببٹووں، گھڑیوں، جیو لری اور زنانہ موزو ں کی تجارت کے ذریعے اپنے کاروبارکومزید وسعت دیناشروع کی۔ جب اس نے اپنی صلاحیت کواس حد تک بڑ ھالیا کہ وہ انفرادی طو ر پر اپنے گا ہکو ں کی ما نگ پورا کر سکتا تھا تو عارضی طور پر اس نے ڈاک کے ذریعے آرڈر منگوانے کا طر یق کار اختیار کیا اور ساما ن کی فراہمی کے لیے ایک مقامی دودھ والی گا ڑی کا انتظام کرلیا۔

اِس کے بعد پھر اُس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔اس کا کاروبار اس قدر پھلا پھولا کہ ہر نیا دن اس کے لیے تر قی کی نو ید لے کر آتا۔ یہا ں تک کہ 2004ء کے شروع میں سو یڈن کے ایک تجارتی رسالہ (Veckans affarer) نے ایک رپو رٹ شائع کی۔جس میں بتا یا گیا کہ جنوبی سو یڈن کا ایک دیہاتی لڑکا جس نے اوائلِ جوانی میں’’سائیکل پر ماچس فر وخت کرنے سے‘‘ اپنے کا روبار کا آغاز کیا تھا، آج اس نے دنیا کے امیر ترین آدمی ’’بل گیٹس‘‘ کو بھی پیچھے چھو ڑدیاہے۔کمپارڈکی کمپنی ’’آئی کیا‘‘ کا شمار دنیا کی’’مشہو ر کمپنیو ں‘‘ میں ہوتا ہے۔ اگر چہ (آئی کے ای اے ) کے غیر روایتی ملکیتی ڈھا نچے پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن اس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ کمپنی اب بھی دنیا کی سب سے بڑی نجی ملکیت والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ جو 200سے زاید اسٹورو ں، 75ہزار سے زاید ملا زمین اور 12ملین سالانہ آمدنی کے ساتھ دنیا کے31 ممالک میںکاروبا ر کر رہی ہے۔

کمپنی کا مالک آج بھی’’کم خر چ با لا نشیں‘‘ کے اصول پر عمل پیر ا ہے۔ کام پرجانے کے لیے اب بھی وہ ’’سب وے‘‘ کی سیٹ لیتا ہے اوراگر ڈرائیونگ کر نی ہو توپھر اپنی بو ڑھی ’’وا لو‘‘ کا ر کو ہی زحمت دیتا ہے۔ ہو ٹل میں قیا م کے دوران اگر اسے مہنگے مشروب کی طلب ہو تو بجا ئے ہو ٹل سے مہنگے دامو ں خریدنے کے وہ قریبی کسی موزوں دکان سے منگوا لیتا ہے ۔ کمپنی کے ملازمو ں کو وہ ترغیب دیتا ہے کہ ہمیشہ صفحے کے دونوں جا نبلکھیں۔ ’’فوربس میگزین‘‘ نے اس کے اثا ثہ جات کا اندازہ 33بلین امریکی ڈا لر لگایا ہے جو اسے دنیا کا چو تھا امیر ترین آدمی بنا تے ہیں۔ نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎