امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا، دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے

  جمعرات‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2017  |  12:35

امریکہ تمام حدیں کراس کر گیا، آج کسی بھی وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اعلان کر کے باقاعدہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے سکتے ہیں،حکم نامے کا ڈرافٹ تیار،عالم اسلام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی، فلسطین سمیت اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا شدید ردعمل،دنیا کے دیگرمسلمان ممالک کا بھی تشویش کا اظہار، مسلمان حکمرانوں کے ٹرمپ سے رابطے، اقدام انتہائی خطرناک جس سے دنیا بھر میں اشتعال پھیلے گا، مسلم حکمرانوں نے امریکی صدر کو خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ممکنہ طور پر کسی بھی وقت مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتےہوئے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا اعلان کر سکتے ہیں ، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق

رپورٹس کے مطابق امریکہ میں موجود یہودی اور اسرائیل کے حمایتی انتہا پسند گروہ دارالحکومت واشنگٹن کے باہر امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو زیب تن کئے موجود ہیں تاکہ امریکی صدر کے حکم نامے کا اعلان ہوتے ہی جشن منا سکیں جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو جمع ہونے کیلئے اکسایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے امریکی صدر کے حکم نامے کا ڈرافٹ پہلے سے تیار کر لیا گیا ہے ۔ امریکہ کے اس ممکنہ اقدام پر فلسطین، اقوام متحدہ اور عرب لیگ سمیت دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان سمیت کئی مسلم ممالک کے حکمرانوں نے امریکی صدر سے اس حوالے سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے انہیں اس اقدام سے باز رہنے کا کہا ہے۔ اعلی ٰ امریکی عہدیداروںکے مطابق ٹرمپ آج یرو شلم کو اسرائیلکا دا رلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے مگر امریکی سفارتخانے کی منتقلی میں 6 ماہ کی تاخیر کا امکان ہے۔ حماس کی جانب سے ممکنہ امریکی اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ حدود پار کرنے سے باز رہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا ہے جس میں ممکنہ امریکی اقدام کی صورت میںامریکہ کو خطرناک نتائج مرتب ہونے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ عراق، اردن ، سعودی عرب کے بعد ترکی کی جانب سے اس امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیا گیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح طور پر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مسلم ممالک کےبعد یورپی ممالک نے بھی اس ممکنہ امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دوریاستی فارمولے کو نقصان پہنچے گا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر پارلیمان میں ممکنہ مواخذے کی وجہ سے جلد سے جلد اس حکم نامے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جس کا ڈرافٹ ایک اطلاع کے مطابق تیار کروالیا گیا ہے جس پر دستخط کرتے ہی امریکا کی جانب سےمقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا عمل مکمل ہوجائے گا-واضح رہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی یہودی کارپوریشنز اور کمپنیاں اسرائیلی دارالحکومت کے یروشلم منتقل ہونے پر نیویارک کی مشہور زمانہ وال سٹریٹ کی بھی نئے دارالحکومت منتقلی کی خواہاں ہیں جس سے دنیا کا اقتصادی نظام بھی یروشلم منتقل ہو جائے گاجس سے امریکی معیشت دبائو میں آسکتی ہے،

یہی وجہ ہے کہ امریکا کے سنجیدہ حلقے جلد سے جلد صدر ٹرمپ کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے ممکنہ حکم نامے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کو بھانپتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارتی عملےاور مشنز کو سرگرمیاں محدود کرنے اور غیر ضروری سفر سے بھی روک دیا ہے۔