بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

وہ 9 عادات جو آپ کو بہت جلد بوڑھا کر دیتی ہیں، ان سے کیسے بچا جائے؟

  اتوار‬‮ 25 مارچ‬‮ 2018  |  16:48

ایسی چند عادات کے بارے میں جانئے جو آپ کو جلد بوڑھا کرسکتی ہیں۔ایک وقت میں بہت سارے کام یا ملٹی ٹاسک:اگر آپ ہر وقت متعدد کام بیک وقت کرنے کے عادی ہیں تو اس مصروف زندگی کے تناؤ کی قیمت آپ کے جسم کو ادا کرنا پڑے گی۔متعدد سائنسی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہےآچکے ہے کہ بہت زیادہ تناؤ جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے اور عمر کی رفتار بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک وقتمیں ایک کام کرے اور اسے مکمل کرنے کے بعد ہی

وقتمیں ایک کام کرے اور اسے مکمل کرنے کے بعد ہی کسی اور چیز پر توجہ دیں۔مٹھاس کا بہتزیادہ استعمال:میٹھی اشیاءکس کو پسند نہیں ہوتی مگر یہ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بھی بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر یا چینی زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے خلیات سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے اور آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے

ابھر آتے ہیں۔اسی طرح جھریاں اور ہلکی لکیریں بھی چہرے کو بوڑھا بنا دیتی ہیں۔ تو میٹھی اشیاءسے کچھ گریزآپ کے چہرے کی چمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔کم نیند:کم سونا نہ صرف آنکھوں کے گرد بدنما حلقوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ زندگی کی مدت بھی کم کردیتا ہے۔روزانہ سات گھنٹے سے کم نیند لینے کی عادت دن بھر کم توانائی، ذہنی سستی، توجہ مرکوز رکھنے میں مشکلات یا موٹاپے وغیرہ کا سبب بن جاتی ہے۔بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا:آج کل لوگوں کا کافی وقت ٹی وی پروگرامز دیکھتے ہوئے گزرتا ہے مگر برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق ایک گھنٹے تک لگاتار ٹی وی دیکھنا بائیس منٹ کی زندگی کم کردیتا ہے۔ اسی طرح جو افراد روزانہ اوسطاً چھ گھنٹے ٹی دیکھتے ہیں وہ اس عادت سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں پانچ سال کم زندہ رہ پاتے ہیں۔اس کی وجہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے کیلئے آپ زیادہ تر بیٹھے رہتےہیں، جس کے باعث جسم شوگر کو ہمارے خلیات میں جمع کرنا شروع کردیتا ہے جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ذیل میں ایسی 12 خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہونے والے یا بآسانی قائل کرنے والے افراد کی زندگی کا جزو ہوتی ہیں۔1۔اپنی آڈئینس کو پہچانیںمؤثر افراد اپنی آڈئینس (مخاطب) کو داخلی اور خارجی دونوں طرح سے جانتے ہیں اور اس کی مناسبت سے وہ انہیں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص شرمیلا ہے تو اس سے نرم لہجے میں بات کرنی ہے اور اگر کسی کا لہجہ جارحانہ ہے تو اسے

دوسرے انداز سے نپٹنا ہے۔ زندگی میں مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔مؤثر افراد اس فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہیں -- معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی سے ایک ہی طرح کا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے کے لیے بہت زیادہ سماجی اور شخصی جانکاری درکار ہوتی ہے جو مؤثر افراد میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔2۔ تعلق قائم کرناجب کسی کو احساس ہو جائے کہ آپ کیسے انسان ہیں تو قبولیت کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے کہا گیا کہ وہ اپنی جماعت میں کسی معاملے پر اتفاق رائے پر پہنچیں۔ ہدایات کے بغیر 55 فیصد کا اتفاق رائے ہو گیا، لیکن جب اتفاق رائے پر پہنچنے سے قبل طلبہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنا تعارف کروائیں اور اپنے پسِ منظر کے بارے میں بتائیں تو اس کے بعد 90 فیصد طلبہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس سے آپ بات کر رہے ہیں وہ آ پ کا دشمن یا ہدف نہیں ہے اور بحث میں زیادہ الجھنا بھی نہیں چاہیے، بے شک آپ کے پاس مضبوط دلائل ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر آپ اس شخص کی سطح پر آ کر اور اسے سمجھ کر تعلق اور رابطہ قائم نہیں کریں گے تو وہ آپ کی نہیں مانے گا یا آپ کے کہے کو مشکوک سمجھے گا۔3

۔ زیادہ دباؤ نہیں ڈالتےمؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار اعتماد کے ساتھ اور کھل کر کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ جارحانہ انداز اختیار نہیں کرتے یا بہت زیادہ دباؤ نہیں ڈالتے۔ مؤثر افراد اپنے مؤقف پر بہت زیادہ اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسروں کے قائل ہونے میں وقت بھی لگ سکتا ہے۔ وہ بے صبرے نہیں ہوتے اور مستقل مزاج رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کے خیالات افضل ہیں تو بالآخر لوگ انہیں اختیار کرلیں گے۔4۔ اعتمادی کی کمی نہ ہونااگر اپنے خیالات کو اس انداز میں پیش کیا جائے جیسے دوسرے سے قبولیت کی سند مانگی جا رہی ہے یا جیسے ان میں کوئی خامی موجود ہے تو دوسرا انہیں سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ دوسروں کو اپنے خیالات یوں بتانے چاہئیں جیسے انہیں سوچ سمجھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ جب مقصد دوسرے کو قائل کرنا ہو تو اس میں آئیں بائیں شائیں نہیں چلتی، اور یہ بھی نہیں کہ "ہو سکتا ہے میں غلط ہوں"۔5۔ باڈی لینگوئج کو مثبت رکھیںانداز بیاں، آواز اور جسمانی حرکات میں توازن دوسروں کو قائل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ گفتار میں گرم جوشی اور دوسرے پر توجہ کا اظہار مثبت باڈی لینگوئج کی علامات ہیں۔ اس سے دوسرے آپ کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بھی اتنا اہم ہے جتنا یہ کہ آپ اسے کس انداز میں کہہ رہے ہیں۔6

۔ واضح اور جامع ہونامؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار بروقت، جلد اور واضح انداز سے کر سکتے ہیں۔ جب آپ کی اپنے خیالات اور گفتار پر گرفت مضبوط ہوتی ہے تو اسے دوسروں کے اذہان میں راسخ کرنا آسان ہوتا ہے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ جس موضوع پر قائل کرنا ہو اسے خود اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔7۔ جعل سازی نہیں ہوتےمؤثر ہونے کے لیے ایماندار ہونا شرط ہے۔ جعل ساز کو پسند نہیں کیا جاتا۔ متاثر ہونا تو دور کی بات جعل ساز کی باتوں پر بہت کم اعتبار کیا جاتا ہے۔ مؤثر افراد جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔ ان میں مصنوعی پن نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ہنر سے آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ اس امر کی پروا کم کرتے ہیں کہ دوسرے انہیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے بارے فیصلہ وہ خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے خود کو غیر ضروری اور غیر معمولی حد تک بدلنے کے جتن نہیں کرتے۔8۔ دوسروں کے مؤقف کو سمجھنامؤثر افراد کی ایک اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی یا اپنے دلائل میں پائی جانے والی خامیوں کو مان لیتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے مالک ہیں۔ وہ دوسروں کی مضبوط دلیل سے انکار نہیں کرتے اور اس معاملے میں ہٹ دھرم نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کو بات کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اختلاف کرنے پر ان کا رویہ توہین آمیز نہیں ہوتا۔9

۔ اچھے سوالات پوچھنالوگوں کی بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی بات کو کم سنتے ہیں بلکہ اس دوران غور کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کیا جواب دینا ہے۔ تاہم دوسرے چاہتے ہیں کہ ان کی بات کو غور سے سنا جائے۔ اگر انہیں یہ احساس ہو کہ دوسرا توجہ ہی نہیں دے رہا تووہ برا ماننے کے ساتھ ساتھ دوسرے کی بات پر توجہ بھی کم کردیتے ہیں۔ یوں ان کا اثر قبول کرنے یا ان سے قائل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔10۔ تصویر کشی کرنامؤثر افراد اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے صورت حال کا نقشہ دوسرے کے ذہن میں بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی تصوراتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہیں۔11۔ پہلا بھرپور تاثر قائم کرناملاقاتوں کے دوران ابتدا میں قائم ہونے والا تاثر تا دیر برقرار رہتا ہے۔ مؤثر افراد اس حقیقت پر توجہ دیتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر دوسروں کو قائل کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ پہلی ملاقات میں چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ کا ہونا، گرم جوش مصافحہ اور گفتار میں سلیقہ جو تاثر قائم کرتا ہے وہ دیر سے جاتا ہے۔12۔ مستقل مزاجی مؤثر افراد مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں اپنے مؤقف کا دفاع کرنا ہے اور کہاں قدم پیچھے ہٹانا ہے۔لیکن وہ اپنے نصب العین سے منہ نہیں موڑتے۔ ان کی نظر راستے کی دشواریوں کے ساتھ ساتھ مسلسل اپنے حتمی مقصد پر ہوتی ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎