بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

کیا اللہ سے شکوہ و شکایت کرنا جائز ہے؟ شکایت کیوں کی جاتی ہے

  پیر‬‮ 16 اپریل‬‮ 2018  |  1:23

قرآن کی سوره یوسف میں ایک پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نقل هوئے ہیں : یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوه صرف اللہ سے کرتا هوں -(12:86) قرآن کی اس آیت سے معلوم هوتا ہے کہ ایک مومن کے لیے جائز نہیں کہ وه کسی انسان یا انسانوں کے کسی گروه کے خلاف شکایت میں مبتلا هو جائے - اس واضح قرآنی تعلیم کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ تمام مسلمان شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں - ہر ایک نے کوئی دشمن یا ظالم دریافت کر رکها ہے جس کے خلاف وه تقریر یا تحریر

تقریر یا تحریر کی صورت میں شکایت کی زبان استعمال کرتا رہتا ہے - یہ ایک عمومی گمراہی ہے جو مشرق سے مغرب تک تمام مسلمانوں میں کم و بیش چهائی هوئی ہے - اس کا سبب کیا ہے - یہ ہے کہ لوگوں- یہ ہے کہ لوگوں نے شکایت کو حق و انصاف کے مسئلے سے جوڑ رکها ہے - شعوری یا غیر شعوری طور پر وه یہ سمجهتے ہیں کہ همارے خلاف ظلم اور دشمنی کا معاملہ کیا جا رہا ہے - ایسی حالت میں ازروئے انصاف هم کو حق ہے کہ هم شکایت کی زبان بولیں - یہ ایک جائز کرده برائی (justified evil) کا معاملہ ہے - اسی کی بابت کہا گیا ہے کہ شکایت کا تعلق کسی دوسرے سے نہیں ، بلکہ انسان کی اپنی ذات سے ہے - شکایت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے اندر منفی سوچ آ جاتی ہے اور منفی سوچ بلاشبہہ تمام نیکیوں کی قاتل ہے -

اسی بنا پر اسلام میں دوسروں کے لیے دعوت ہے ، دوسرے کے لیے شکایت نہیں - موجوده زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں وکٹم ہڈ (victimhood) کا کیس ہے - موجوده زمانے کے مسلمان عام طور پر زیادتی کے احساس (feeling of victimhood) میں جی رہے ہیں - موجوده زمانے کے مسلمانوں کی اصلاح کا صحیح آغاز یہ ہے کہ ان کے منفی احساس کو بدل کر ان کے اندر صحیح احساس پیدا کیا جائے - یہ صرف اس وقت هو سکتا ہے جب کہ مسلمانوں کو ذہنی اعتبار سے اس کے لیے تیار کیا جائے کہ تم جن شکایتوں کو لے کر احساس محرومی میں مبتلا هو ، وه زندگی کے حقائق ہیں ، وه چیلنج کے واقعات ہیں ، نہ کہ ظلم کے واقعات -

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎