بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

دیکھیں نا سر، آصف آ ہی نہیں رہا

  جمعرات‬‮ 11 جنوری‬‮ 2018  |  16:09

دلچسپ منظر صبح بیکری پر دلچسپ منظر دیکھا۔ ایک پک اپ پر پانی کی بوتلیں لد کر آئی تھیں اور انہیں اتارا جانا تھا۔کیا دیکھتے ہیں کہ پک اپ کے گرد جمگھٹالگا ہے، تمام افراد کے چہروں پر پریشانی ہے اور ان میں سے ہر ایک تھوڑی دیر بعد آواز لگاتا ہے ’’او آصف، جلدی آ،یار!‘‘ آخر ماجرا کیا ہے؟ ہمیں بھی تجسس ہوا۔تھوڑی دیر مزید غورکرنے سے معلوم ہوا کہ پک اَپ کے گرد گھیرا ڈالے افراد میں سے ایک تو ڈرائیور ہے، آصف کو آوازیں لگانے والابیکری کا ملازم ہے جس کے ذمہ پانی کی بوتلیں اتارناہے۔ سپروائزر اور دیگر

سپروائزر اور دیگر عملہ اس کے علاوہ ہیں۔ آصف کو پکارنے والا شخص تھوڑی تھوڑی دیر بعد بے بسی سے سپروائزر کی جانب دیکھتا ہے اور شکوہ کرتا ہے ’’دیکھیں نا سر، آصف آ ہی نہیں رہا۔‘‘

پک اپ والے کی ’’ جلدی کرو استاد، ہمیں آگے بھی جانا ہے‘‘ بیکری ملازم کی ’’آصف یار!جلدی آ۔‘‘ فریادیں اور پکاریں صورت حال کی سراسیمگی میں مزید اضافہ کر رہی ہیں اور ہم سوچ میں ہیں یہ آصف صاحب ہیں کون، جن کے نہ آنے سے کاروبار زندگی معطل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ آصف کے ذمے پک اَپ سے اتاری گئی بوتلوں کو آگے پہنچانا ہے اور وہ اس وقت ناشتاکر رہا ہے، لہٰذا اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتا۔

ارے! بس اتنی سی بات۔ آصف نہ سہی ، یہ جو دیگر بیکری ملازم گھیرا ڈالے کھڑے ہیں، ان سے کام لے لیاجائے۔ یہ نہیں ہو سکتاتو جس کے ذمے بوتلیں اتارنا ہے، وہ بوتلیں اتار کر پک اپ والے کو فارغ کردے۔ جب آصف صاحب ناشتے سے فراغت پا لیں گے تو ڈھیر کی ہوئی بوتلوں کو اپنی منزل تک پہنچا دیں گے۔ ہم یہ سوچتے رہے، لیکن ان لوگوں کو کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔

انہی خیالات میں غلطاں تھے کہ آصف طعام کافریضہ انجام دے کر اپنے دیگرفرائض کی انجام دہی کے لیے آن پہنچا۔پک اپ سے بوتلیں اتاری گئیں، آصف صاحب نے انہیں گھسیٹ کرچند گز دور ڈھیر کردیا۔ ہم نے،پک اپ والے نے اور سپروائزرنے سکھ کا سانس لیا، باقی ملازمین بھی اپنے اپنے کام میں مشغول ہوگئے۔ آزادی کی چھیاسٹھویں سالگرہ مناتے ہوئے غور کریں، تو ہم سب ہی اپنے معاملات زندگی میں کسی نہ کسی آصف کا انتظار کر رہے ہیں۔تقریباً ہم سبھی اپنا اپنا کام اس لیے ملتوی کرتے چلے جاتے ہیں کہ آصف ناشتاکرنے گیا ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو، کہ ہم دفتری اوقات میں ناشتانہ کیا کریں یا آصف ناشتاکرنے چلا جائے، تو بھی ہم اپنے حصے کا کام مکمل کر لیں یا

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎