بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کالی کھانسی کا ایسا علاج دریافت کہ اب کم قیمت پر چھٹکارا ممکن ہو گیا ، ماہرین کی تہلکہ خیز تحقیق

  ہفتہ‬‮ 13 جنوری‬‮ 2018  |  13:45

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا طریقہ موجود ہے جس کی مدد سے تپ دق کے علاج کے دورانیے میں کافی کمی کی جا سکتی ہے اور وہ بھی بہت کم قیمت پر۔جرمن ریڈیو کے مطابق عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیاکہ دنیا بھر میں تپ دق سے ہلاک ہونے والے 95 فی صد افراد کا تعلق غریب اور پس ماندہ طبقوں سے ہوتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ تپ دق کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی اہم دوائیں اس مرض کے جراثیموں پر اس وقت حملہ کرتی ہیںجب

ان کی تعداد میں

اضافہ ہو تا ہے۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ جراثیموں کو ایک مختصر حصہ غیرموثر شکل اختیار کرکے دوا کے اثرات سے بچ جاتا ہے۔نیویارک کے البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن کے مائیکروبیالوجسٹ ولیم جیکبس نے کہاکہ جراثیموں کے مختصر گروہ دوا کے ہلاکت خیز اثرات سے بچنے کے لیے غیر فعال ہو جاتے ہیں اور خوابیدگی کی حالت میں چلے جاتے ہیں لیکن وہ مرتے نہیں ہیں اور اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ ان میں دوا کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ تپ دق کے علاج میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جب مریض کچھ عرصے یہ سمجھ کر کہ وہ ٹھیک ہو رہا ہے، دوا لینا چھوڑ دیتا ہے تو یہ غیر فعال اور خوابیدہ جراثیم دوبارہ متحرک ہو کر اپنی آبادی میں اضافہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے مرض دوبارہ مریض پر غلبہ پا لیتا ہے۔

دوا کا استعمال ترک کرنے سے، بچ جانے والے جراثیم اپنے اندر دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں جس سے علاج میں دشواری پیش آتی ہے اور مرض پر قابو پانے میں کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹی بی کے علاج میں چھ مہینے لگتے ہیں لیکن جراثیموں کے اندر مزاحمت پیدا ہونے کی صورت میں دو سال تک زیادہ سخت دوائیں کھانی پڑتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابقچوہوں کو کئی ہفتوں تک ٹی بی کی معمول کی دوا کے ساتھ وٹامن سی کی زیادہ طاقت کی خوراک بھی دی گئی، جس سے ان کے پھیپھڑوں میں بیکٹیریا کی تعداد ان چوہوں کے مقابلے میں دس گنا کم دیکھی گئی جنہیں ٹی بی کی دوا کے ساتھ وٹامن سی نہیں دیا گیا تھا۔‎

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎