بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کیا اسلام میں بچوں کو سیکس ایجوکیشن کی ممانعت ہے؟ ان موضوعات پر بات کرنا کیوں منع کیا جاتا ہے؟

  بدھ‬‮ 7 مارچ‬‮ 2018  |  13:38

کیا اسلام میں بچوں کو سیکس ایجوکیشن کی ممانعت ہے؟ ان موضوعات پر بات کرنا کیوں منع (یا ناپسندیدہ خیال) کیا جاتا ہے؟ چند سوالات کےجوابات ((مُرُوا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عَشْر، وفرقوا بينهم في المضاجع))؛تم حکم دو اپنی اولادوں کو نماز پڑھنے کا اس وقت جب انکی عمر سات سال ہوجائے اور تم مارو انکو نماز نہ پڑھنے پر جب انکی عمر دس سال کی ہواور دس سال کی عمر کے بعد تم جدا کردو انکے بستر۔ رواه أحمد وأبو داود، وهو صحيح. کچھ سمجھ میں آتا ہے یہ حکم؟ بستر جدا کرنے

کا جب بچہ دس سال کا ہوجائے؟ دس سال میں کتنی سمجھ ہوتی ہے بچے میں؟ لیکن حکم ہے تو حکم ہے اور جب بستر جدا کرنا ہے تو اس سے پہلے نماز بھی پڑھوانا ہے۔ یعنی اب مجھے کوئی یہ بتائے نماز پڑھوانے کی کیا ضرورت ہے؟ تو نماز پانچ وقت اگر آپ پڑھنے لگتے ہیں تو نفس پر قابو پانے کا سلیقہ آجاتا ہے ۔ آپ اپنے انتہائی ضروری کام کو نماز کے وقت چھوڑدیں ، اپنے تمام شوق کو حکم کے آگے بےبس کردیں تو نفس پر قابو پالیا نا؟ یہ پریکٹس ہے جو سات سال کی عمر سے کروائی جارہی ہے بچے کو نفس پر قابو پانا سکھایا جارہا ہے، ابھی مارنا نہیں ہے صرف حکم دینا ہے عمل کرنے پر راغب کرنا ہے محبت سے نرمی سے جیسے آپ کو لگتا ہے بچہ کی نفسیات ہے ویسے کنونس کریں یہ آپ کا کام ہے۔ پھر نفس پر قابو پانے کا سلیقہ کیسے نہیں آئے گا؟ جب اس بچے کی گھٹی میں اول دن یہ بات بیٹھ گئی کہ حکم پہلے ہے اور خواہش بعد میں۔ پھر بھی نہیں سمجھتا تو دس سال بعد بچے کا جسم اس قابل ہوتا ہے کہ مار سہہ لے اس وقت عزت نفس بھی اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ مارنے پر اسکی عزت مجروح ہوجائے بچے کو قابو کیا جاسکتا ہے اور بالآخر جب یہ بات سمجھ میں آجائے کہ حکم ماننا ہی ہے تو آگے کی زندگی آسان ہوجائے گی، اب اگلا حکم ہے بستر جدا کردیں۔ کیوں؟ جنسی خواہشات سب سے پہلے لمس سے ہی بیدار ہوتی ہے۔ اس جدا کرنے میں کوئی شرط نہیں کہ لڑکی اور لڑکے کے بستر جدا کیے جائیں بلکہ دو لڑکے یا دو لڑکیوں کو بھی ایک چادر میں سونے کی اجازت نہیں ہے۔

کتنوں کو معلوم ہے اس حکم کے بارے میں؟ لیکن نماز کا تو سب کو ہی معلوم ہے کون کون ہے جو سات سال کی عمر میں بچے کو نماز کی طرف لائے اور دس سال پر مارے بھی اور بارہ سال پر باہر نکال دے ؟ کتنے بچے ہیں جن کے والدین اس بات کی سختی کرتے ہیں کہ جب آپس کی لڑائی ہو تو ہاتھ ہیر استعمال نہ کیا جائے؟ ہاتھ لگانے پر پابندی ہوتی ہے؟ جوان بہن بھائی بھی آپس میں ہاتھ پیر سے لڑتے ہیں۔ جبکہ دس سال کی عمر میں ساتھ لگ کر لیٹنے کی ممانعت ہے۔ گھر معاشرے کی اکائی ہوتا ہے تربیت کی شروعات کہاں سے ہوگی؟ جب گھر میں یہ عادت بن گئی کہ نفس پر قابو رکھنا ہے حکم ماننا ہے جب گھر میں ہاتھ لگانے سے رک گئے تو باہر ہاتھ لگائیں گے؟

نظریں جھکانے کا حکم بہت بعد میں آیا ہے پہلی سیکس ایجوکیشن تو یہی ہے کہ چھونے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک بچے کو آپ کیسے سمجھائیں گے؟؟ انکو چھونے کی اجازت ہی نہیں کہیں بھی کسی جگہ پر بھی اب آپ الگ سے کھول کھول کر پرائیویٹ پارٹس بتائیں یا نہیں بچے کو معلوم ہے کہ میرا پورا جسم پرائیویٹ پارٹس پر مشتمل ہے۔ بالغ بیٹی اور ماں بھی ایک چادر میں نہیں سوسکتی۔ باپ اور بیٹی کو ساتھ لگ کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی جوان بیٹا ماں کے گلے نہیں لگ سکتا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ﴾ [التحريم: 6] ’’ اے ایمان والو تم بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے جس کا ایندھن آگ ہے اور پتھر ہیں‘‘ کس بات پر اتنی سخت وعید ہے؟ کیسے بچائیں گے آپ اور میں؟ سورہ نور اور سورہ احزاب کا ترجمہ تفسیر کم سے کم ہر مرد و عورت کو پڑھنی چاہیے اس سے بہتر معاشرتی تعلیم کہیں ملے گی نہیں آپ کو۔ حکم ماننے پر دل کو راضی تو کیجیے گھر میں داخل ہونے تک کی اجازت لینی ہے۔ اور آپ کے بچے یا خدمت گار آپ کی اجازت کے بغیر کمرے میں داخل نہیں ہوسکتے یہ آیات جو نیچے کوٹ کررہی ہوں انکو بہت توجہ سے پڑھیں پلیز وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ (56) اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ لَا تَحْسَبَنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِيْنَ فِى الْاَرْضِ ۚ وَمَاْوَاهُـمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (57) کافروں کی نسبت یہ خیال نہ کر کہ ملک میں عاجز کر دیں گے، اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّـذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّـذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِّنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِيْـرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَآءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْـهِـمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمُ الْاٰيَاتِ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ (58) اے ایمان والو! تمہارے غلام اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تم سے ان تین وقتوں میں اجازت لے کر آیا کریں، صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد، یہ تین وقت تمہارے پردوں کے ہیں، ان کے بعد تم پر اور نہ ان پر کوئی الزام ہے، تم آپس میں ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہو، اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وَاِذَا بَلَـغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُـوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ (59) اور جب تمہارے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں انہیں بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جس طرح کہ ان سے پہلے لوگ اجازت لے کر آتے ہیں، اللہ اس طرح تمہارے لیے کھول کر احکام بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ اللَّاتِىْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْـرَ مُتَبَـرِّجَاتٍ بِزِيْنَةٍ ۖ وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْـرٌ لَّـهُنَّ ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْـعٌ عَلِيْـمٌ (60) اور وہ بڑی بوڑھی عورتیں جو نکاح کی رغبت نہیں رکھتیں ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے ثياب اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ کریں، اور اس سے بھی بچیں تو ان کے لیے بہتر ہے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے اب آپ سیکس ایجوکیشن تو دلوائیں گے لیکن جو جو باتیں مذید حکم دی گئی ہیں وہ بھی کریں گے؟؟؟ نماز کا حکم ہے پردے کا حکم ہے ماننا ہے؟ تو آج سے میری ضمانت ہے کہ یہ جرم تو رک گیا اور مروا اولادکم کے بعد وھم ابناء کا لفظ پڑھتے ہی مجھے تو ایک ہی خیال آتا ہے کہ کیا زیادہ زور لڑکوں کو مارنے اور نماز پر سختی کرنے کا نہیں دیا گیا؟ کتنے لوگ ہیں جو نماز نہ پڑھنے پر مارتے ہیں؟ کھانا بند کرتے ہیں؟ بہنوں کو بھائیوں کو ایکدوسرے کو مارنے سے ہاتھ لگانے سے منع کرتے ہیں؟ پھر لڑکی کو پردے کا حکم ہے تو بچپن سے سکارف اور ڈھکے چھپے لباس کی عادت کا بھی حکم ہے۔ کتنے لوگ ہیں ہم میں سے جو اپنی بچیوں کو بچپن سے ہی سات یا آٹھ سال کی عمر سے ہی مکمل کپڑے پہناتے ہیں اور وہ بھی سر ڈھکنے کے ساتھ؟ دوسروں کی نگاہوں سے اپنی بیٹیوں کو بچانے پر ہم تیار نہیں اپنے بیٹوں کو نفس پر قابو پانا سکھانے پر ہم تیار نہیں۔ پھر جب گھر میں ہی تربیت نہیں ہے تو دلوائیں سیکس ایجوکیشن۔ اب تو بچے بچے کے ہاتھ میں انٹرنیٹ ہے کون سی ایجوکیشن ہے جو انکے پاس نہیں؟ ہمارے معاشرے میں تو یہ حال ہوگیا ہے کہ مائیں اولاد کے سامنے کپڑے بدل رہی ہوتی ہیں جوان بہنیں ایک ساتھ واش رومز استعمال کررہی ہیں بھائی بہن کو بچپن میں ایک ساتھ نہلایا جارہا ہے۔ پرائیویٹ پارٹس کی تعلیم آپ ایسے بچوں کو دینے کی بات کررہے ہیں؟ اور اسلام نے جو قوانین بنائے ہیں ان پر چلیں تو گھر میں عورت کا پردہ الگ ہے اور باہر الگ۔ گھر میں بھی سر ڈھکے بغیر اپنے محرم مردوں کے سامنے نہیں پھرنا.

اور جب تمہارے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں انہیں بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جس طرح کہ ان سے پہلے لوگ اجازت لے کر آتے ہیں، اللہ اس طرح تمہارے لیے کھول کر احکام بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔کتنے ہم میں سے اپنے بچوں کو کہتے ہیں کہ اجازت کے بغیر ہمارے کمرے میں نہیں آنا؟ والدین کے بستر پر بغیر اجازت نہیں بیٹھنا ہے۔ یہ ادب سکھانے کا انداز بعد میں ہے ذرا غور کیجیے کہ یہ سیکس ایجوکیشن پہلے ہے۔ کوئی کمی نہیں ہمارے پاس نہ حکم کی نہ تعلیم کی نہ تربیت کی۔ لیکن يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ’’ اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں مکمل اور نہیں پیروی کرو شیطان کے قدموں کی ‘‘ تو جب بھی اسلام کی بات کریں تو پہلے ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اسلام کو جو مکمل اپنائے گا وہی مکمل فائدہ بھی اٹھائے گا۔ اگر اپنی مرضی کے اصول بنا کر اسلام کی بات کریں گے تو نقصان بھی اٹھانے کے لیے تیار رہیں۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎