بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

میا ں بیوی کے عیب

  اتوار‬‮ 15 اپریل‬‮ 2018  |  16:03

ایک آدمی کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہو رہی تھی، اس کی دلہن اس کی اپنی پسند سے تھی اور دونوں اپنے عروسی لباس میں بہت جاذب نظر دکھ رہے تھے، سب لوگ بہت خوش تھے اور ان دونوں کو مبارک باد دے رہے تھے، دونوں میں بیوی کی ایک پرسکون اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزر رہی تھی ۔ اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہے ایک دن صبح ناشتے کی ٹیبل پر بیوی نے میگزین میں کوئی آرٹیکل پڑھا تو اپنے شوہر کو سنایا کہ میاں بیوی کی زندگی مزید نکھر سکتی ہے اگر وہ کھل

میاں بیوی کی زندگی مزید نکھر سکتی ہے اگر وہ کھل کر ایک دوسرے کو اپنی وہ عادتیں بتا دیں جن سے وہ ایک دوسرے سے خفا ہوتے ہیں، دونوں نے ارادہ کیا کہ کل کی صبح ناشتے کی ٹیبل پر ایک دوسرے کو اپنی اپنی لسٹ بنا کر سنائیں گے کہ ایک دوسرے کی کونسی خصلتیں ان کو ناگوارکو ناگوار گزرتی تھیں۔اگلی صبح، دونوں ناشتے کی میز پر آئے اور اپنی اپنی لسٹ کھول لی، پہلے میاں نے اپنی لسٹ میں سے پڑھنا شروع کیا،

بیچ میں اس کی نظر اپنی بیوی پر پڑی تو وہ بیچاری رو رہی تھی، اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے، اس نے اس سے پوچھاکہ تمہیں برا لگ رہا ہے تو میں رک جاتا ہوں؟ وہ بولی کہ نہیں پلیز آپ آگے بتائیں۔ اس نے اپنی ساری لسٹ سنا ڈالی۔ پھر بیوی کی باری آئی، اس نے اپنا کاغذ اپنے خاوند کو تھما دیا، اس نے دیکھا تو اس کا کاغذ بالکل کورا تھا۔ اس کیآنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے۔ اس کی بیوی بولی کہ آپ جو ہیں جیسے ہیں بالکل ایسے ہی مجھے پسند ہیں اور میں آپ میں کچھ بھی تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ آپ کی کوئی بھی عادت مجھے بری نہیں لگتی۔ اور آپ جس بھی حال میں رکھیں گے میں بخوشی رہ لوں گی۔ شوہر کا دل پسیج گیا اور وہ بہت پشیمان ہوا۔ اس نے اپنی بیوی سے معافی مانگی اور دونوں کا رشتہ مزید بہتر ، پائیدار اور مضبوط ہو گیا۔کسی بھی رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسرے انسان کی خوبیوں پر توجہ دیں نہ کہ اس کی عیب جوئی کریں۔ کبھی کسی میں بھی برائیاں تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اس کی اچھائیاں

دیکھیں۔محبت ایک ایسا بے لوث جذبہ ہے کہ ہم کسی کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اس سے عشق کرتے ہیں۔در حقیقت کسی کی کمزوریوں سے پیار کرنا اور اس کو سہارہ دینا ہی اصلی محبت ہے۔ محبت کے لیے دو با لکل پرفیکٹ لوگ نہیں چاہیے ہوتے، ایسے انسان درکار ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کا لباس ہوں اور ایک دوسرے کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ آپ سے پیار کرتا ہے اور وہ آپ کو مسلسل حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کی زبان پر نہیں اس کے رویے سے اس کو جانچیں اور ایسی زہریلی رشتہ داریوں سے بہتر ہے کہ آپ تنہائی میں وقت بتا دیں۔ زہریلے رشتے انسان کو تھکا دیتے ہیں اور اس کی صحت گر جاتی ہے، وہ جس طرح اپنی اولاد اور بزرگوں کو اہمیت اور وقت دے سکتا تھا، وہ نہیں دے پاتا، ایسے ناتے پہچانیں اور پہلے وقتوں کی طرح پوری زندگی برباد مت کریں، ایسے رشتے سے نکلیں اور اپنی اور اور لوگوں کی زندگی کو خوبصورت بنائیں۔

معروف مذہبی سکالرحضر ت ذوالفقاراحمدنقشبندی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ حضوراکرم ؐ نے فرمایاکہ قرب قیامت میں لوگ ا پنی بیویوں کیساتھ زناکریں گے ہم نے حدیث پاک پڑھی توہمیں سمجھ نہیں آئی ہم نے اپنے استادسے پوچھاکہ استادجی اس کاکیامطلب ہے ؟

.کہ لوگ اپنی ہی بیوی سے زناکریں گے توانہوں نے فرمایہ کہ ہاں اس کی کئی صورتیں ہیں ایک صورت تواس کی یہ ہے کہ مردیاعورت کوئی کفریہ بول بو ل دےاورنکاح ٹوٹ جائے اوران کواس کاپتاہی نہیں کہ نکاح ٹوٹ گیاہےیانہیں اورآج کل تویہ بات عام ہے لوگوں کواس بات کاعلم ہی نہیں . مولانافرماتے ہیں کہ فارسی کی فقہی کتاب مالابدامنہ ہم مفتی صاحب سے پڑھ رہے تھےتوجب انہوں نے کلمات کفرپڑھائے توہماری آنکھیں کھل گئیں.اس میںقاری ثنااللہ پانی پتیؒ حضرت نے لکھاہےکہ اگردوبندے گفتگوکررہے تھےایک نے کہاکہ یہ توشریعت کی بات ہےاوراگلے نے جوابہےاوراگلے نے جواب دیاکہ رکھ پرے شریعت کو...فقدکفر..تووہ آدمی کافرہوگیا.ہمیں چاہیے کہ ہم علماسے پوچھیں کہ کلمات کفرکون کون سے ہیںیہ نہ ہوکہ ہم ایسے جملے بولیں اورکفرکاارتکاب کررہے ہوں ،کئیجملے توبہت عام ہے مثلاً علما نے لکھاہےکہ کسی نے کہاکہ کہاں رہتے ہودوسرے نے کہاکہ فلاں جگہ رہتاہوں.

اوخدادے پچھاوڑے..خداکے پچھاوڑے یعنی خداکے پیچھے رہتے ہو...فقدکفر..تووہ بندہ کافرہوگیا.توان کاعلم حاصل کرناضروری ہےکہ کہیں ہم تواپنی گفتگومیں کوئی ایسی با ت نہیں کہہ جاتےاگرنکا ح ٹوٹ گیاتوپھراپنے زعم میں میاں بیوی رہ رہے ہیں اورزناکاگناہ لکھاجارہاہےتوفرمایاکہ مردقریب قیامت میں اپنی بیویوں سے زناکریں گےایک صورت تویہ ہے یہ کفریہ کلمات بیوی بولے توبھی نکاح ٹوٹااوراگرخاوندبولے توبھی نکاح ٹوٹا اوردوسری صورت ایک دوسرے کیساتھبحث اوریہ توہرگھرکی بات نظرآتی ہے جب شادی ہوئی تومیں بولتاتھااوربیوی سنتی تھی اس نے کہاپھر..پھربچے ہوگئے توبیوی بولتی تھی. اورمیں سنتاتھااس نے کہاپھر..پھرہم دنوں بوڑھے ہوگئے ہم دونوں بولتے تھے اورمحلے والے سنتے تھےبڑھاپے میں بحث اورزیادہ ہوجاتی ہے اوراس میں ہوتاکیاہے مردکی زبان میں کنائے میں طلاق نکل جاتی ہے.کنایہ کہتے ہیں کہ لفظ توطلاق والانہیں بولالیکن بات ایسی کردی کہ مفہوم طلاق

والانکلتاہےاس کوکنائے میںطلاق کہتے ہیںاب یہ گناہ بہت زیادہے’’غصے میں کہہ دیتے ہیں کہ چلی جامجھے تیری کوئی ضرورت نہیںآج کے بعد اس قسم کے الفاظ جس کانتیجہ یہ نکلے کہ تومیر ی بیوی نہیں ہےاب اس قسم کے مسائل کی بھی معلومات حاصل کرنی چاہیے،شریعت کہتی ہے کہ علم حاصل کرو.ایسانہ ہوکہ کنایہ میں طلاق ہوجائے انہیں پتابھی نہ ہواوروہ ساتھ رہ رہے ہوںاورآج تویہ حالات ہیں کہ زبان سے طلاق کہہ دیتے ہیں طلاق ہوبھی جاتی ہے پتابھی ہے دونوں کو..مگربدنامی ہوجائے گی. پھرایک دوسرے کیساتھ رہ رہے ہوتے ہیں.مولاناصاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں ایسے لوگ ملے پانچ وقت کے نمازی،تہجدپڑھنے والا سب نیکی کرنے والا خودا س نے مجھے کہاکہ آج سے 8سال پہلے میں نے اپنی بیوی کوطلاق دیدی تھی غصے میں آکراوربعدمیں ہم نے سوچاکہ وہ بھی نیک ہے اورمیں بھی نیک ہوں بدنامی ہوجائے گی بچے خراب ہوجائیں گےتوبس پھرہم نے دوبارہ اکٹھارہناشروع کردیانہ رشتہ داروں کوپتانہ علماسے پوچھاپھرمیاں بیوی اکٹھارہ رہے ہیں ایک گھرایک کمرے میںتویہ زناکررہے ہیں.قربان جائیں اس سچے نبیؐ کی مبارک زبا ن پرچودہ سوسال پہلے وارن کردیاتھاکہ قرب قیامت میں لوگ اپنی بیویوں سے زناکریں گے.

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎