بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


عجوہ کھجور

  بدھ‬‮ 28 فروری‬‮ 2018  |  13:05

ملک ریاض حسین پاکستان کے چند بڑے امیر لوگوں میں شمار ہوتے ہیں‘ ان کی کہانی محنت‘ ذہانت اور کامیابی کی ایک دلچسپ داستان ہے‘ آپ یہ داستان سنیں یا پڑھیں تو آپ بھی حیران رہ جائیں گے‘ کس طرح ایک معمولی ٹھیکیدار کے بیٹے نے میٹرک کے بعد زندگی کی صلیب اٹھائی‘ جو میٹرک میں بھی ایک نمبر سے پاس ہوا تھا‘ جسے ڈرائیونگ کے علاوہ کوئی ہنر نہیں آتا تھا‘ جس کی زندگی کے پہلے ٹھیکے کی مالیت پندرہ سو روپے تھی‘ جو اپنے ہاتھ سے سفیدی کرتا رہاتھا‘ پھر اس نے سڑک بنانے کا معمولی

سا ٹھیکہ لیا اور زندگی کے دروازے اس پر کھلتے چلے گئے‘ یہ کس طرح پچاس پیسے بچانے کیلئے دس دس کلومیٹر پیدل سفر کرتا تھا‘ اس نے بیٹی کے علاج کیلئے کس طرح پیتل کا حمام بیچا‘ یہ چھوٹے چھوٹے ٹھیکوں

یہ چھوٹے چھوٹے ٹھیکوں کیلئے کس طرح دو ‘دو دن دفتروں کے سامنے بیٹھا رہتا تھا اور اس کی بیگم کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پانچ مرلے کا چھوٹا سا مکان تھا اور پھر اس نے کس طرح ہاؤسنگ سیکٹر کو باقاعدہ لائف سٹائل میں تبدیل کیا‘ اس نے کس طرح پاکستان کی سب سے بڑی ہاؤسنگ سکیم کا سنگ بنیاد رکھا اور اس نے کس طرح بیرونی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان آنے اور کام کرنے پر رضا مند کیا‘ یہ سب ایک حیران کن داستان ہے اور اس کے اندر اس ملک کے نوجوانوں کیلئے بے شمار سبق ہیں۔

ہم لوگ بدقسمتی سے سیلف میڈ لوگوں کو آسانی سے قبول نہیں کرتے‘ ہم ہر کامیاب شخص اور اس کی کامیابی کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں‘ آپ کوا کثر لوگ کسی کامیاب شخص کے بارے میں یہ کہتے ہوئے دکھائی دیں گے ‘یہ کل تک موٹر سائیکل پر گھومتا تھایا کل تک اس کے پاس سائیکل تک نہیں تھی اور آج یہ رولس رائیس پر گھوم رہا ہے یا اس کے پاس ذاتی جہاز ہے‘ وغیرہ وغیرہ یا میں تو اس کو اس کے دادا یا اس کے والد کے دور سے جانتا ہوں‘ ان کے پاس کھانے کیلئے روٹی نہیں ہوتی تھی اور آج یہ لنگر خانے چلا رہے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری باتیں ہمارے معاشرے کی ایک ایسی خامی کو ظاہر کرتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ملک تنگ نظر لوگوں کی جگہ بنتا چلا جا رہا ہے جبکہ دوسرے ملکوں میں بل گیٹس ہو‘ وارن بفٹ ہو یا امبانی فیملی ہو سیلف میڈ لوگ معاشرے کے رول ماڈل ہوتے ہیں اور بل کلنٹن جیسے سیاستدان عالمی فورمز پر کھڑے ہو کر بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں‘ میں بل گیٹس کے ملک کا صدر ہوں ۔

اس کے مقابلے میں ہم ہر ترقی کرنے والے شخص کو حقارت‘ مذاق اور تحقیر کا نشان بنا دیتے ہیں‘ ہم اس کے غریب والد یا دادا کی ہڈیاں قبر سے کھود کر نکالتے ہیں اور ہر اس ڈائننگ ٹیبل پر سجادیتے ہیں جہاں پر اس شخص کو عزت ملنے کا ذرا برابر بھی امکان ہوتا ہے اور ملک ریاض بھی ایک ایسا ہی ’’خوش نصیب‘‘ شخص ہے‘ اس کی کامیابی کی طرف ہر شخص مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے جس پر میں ملک ریاض کے ناقدین سے پوچھتا ہوں ’’ اگر کامیاب ہونا اتنا ہی آسان ہے تو آپ لوگ ملک ریاض کیوں نہیں بن گئے؟‘ اس ملک میں صرف ایک ملک ریاض کیوں ہے؟‘‘ اور میرے اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ پچھلے دنوں میرا ایک دوست مجھ سے کہہ رہا تھا اگر میرا بس چلے تو میں ملک ریاض کو اس ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ پیش کردوں۔

میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہااس شخص نے اس ملک میں ترقی کر کے کمال کر دیا جس میں چھوٹے بھائی سے لے کر صدر تک ہر شخص آگے بڑھنے والے کی ٹانگیں کھینچتا ہے‘ میں نے اس سے اتفاق کیا کیونکہ ملک ریاض اس ملک کا وہ شخص ہے جو ہاتھ میں ذبح شدہ مرغی پکڑ کر بھوکے مگر مچھوں کے تالاب میں لیٹا ہے اور یہ پچھلے تیس برسوں سے اپنی جان بھی بچا رہا ہے اور مرغی کی بھی حفاظت کر رہا ہے اور یہ واقعی کمال ہے۔ میں یہ کالم ملک ریاض کی تعریف میں نہیں لکھنا چاہتا تھا کیونکہ میں جانتا ہوں اس منفی معاشرے میں اس قسم کی تعریفیں سپنی

 کی زچگی کی حیثیت رکھتی ہیں جس کے بطن سے چند لمحوں میں شکوک کے درجنوں انڈے پیدا ہو جاتے ہیں اور ان سے سازش کے سینک سپولئے جنم لے لیتے ہیں لیکن میں اس کے باوجود خود کو روک نہیں سکا کیونکہ ملک ریاض واقعی فلموں اور ناولوں جیسی شخصیت ہے لیکن میں اب اصل موضوع کی طرف آتا ہوں‘ ملک ریاض کو 1995ء میں دل کی تکلیف ہوئی ‘ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ’’ آپ کے دل کی تین نالیاں بند ہیں چنانچہ آپ کو فوراً اینجو پلاسٹی کرانا پڑے گی‘ ملک ریاض اینجو پلاسٹی کیلئے لندن جانے لگے تو سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے انہیں دل کی تقویت کیلئے طب نبویؐ سے ایک نسخہ بتایا‘ جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا انہیں 56 سال کی عمر میں دل کا عارضہ لاحق ہوا‘ یہ اپنے مرض کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس سے ان کے فوجی کیریئر پر زد پڑ سکتی تھی چنانچہ انہوں نے جدید علاج کی بجائے طب نبویؐ کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا‘ انہیں کسی صاحب نے یہ نسخہ بتایا‘ انہوں نے یہ نسخہ استعمال کرنا شروع کر دیا اور یہ حیران کن حد تک صحت مند ہو گئے ۔جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا آپ اینجو پلاسٹی سے پہلے ایک مہینہ تک یہ نسخہ استعمال کریں اور اس کے بعد اپنے ٹیسٹ کرائیں‘ اگر شفاء ہو گئی تو ٹھیک ورنہ دوسری صورت میں آپ اینجو پلاسٹی کرا لیں۔ملک ریاض نے جنرل اسلم بیگ سے یہ نسخہ لیا اور اس کا استعمال شروع کردیا‘ ایک مہینے کے بعد یہ لندن کے کرامویل ہسپتال گئے‘ وہاں انہوں نے دنیا کے ایک نامور کارڈیالوجسٹ سے رابطہ کیا

اس نے ان کے ٹیسٹ کرائے اور ٹیسٹوں کے نتائج دیکھ کرانہیں بتایا آپ کا دل مکمل طور پر ٹھیک ہے‘ آپ کو کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں‘ ملک ریاض نے اپنے پرانے ٹیسٹ اس کے سامنے رکھ دیئے‘ اس نے دونوں ٹیسٹ میچ کئے اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ دونوں ٹیسٹ ایک ہی شخص کے ہیں بہر حال قصہ مختصر ملک ریاض واپس پاکستان آئے اور انہوں نے اس نسخے کو اپنا معمول بنا لیا‘ یہ 2009ء میں ایک بار پھر کرامویل ہسپتال کے اسی ڈاکٹر کے پاس گئے‘ اس نے ان کے دوبارہ ٹیسٹ لئے‘ پرانے ٹیسٹ دیکھے اور اس کے بعد یہ بتا کر حیران کر دیا کہ 1995ء سے لے کر 2009ء تک ان کی دل میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں آیا‘ ان کا دل مکمل طور پر صحت مند ہے اور یہ کھائیں‘ پئیں اور موج اڑائیں۔ ملک ریاض یہ نسخہ آج بھی استعمال کر رہے ہیں اور اپنے بے شمار دوستوں کو بھی کروا رہے ہیں‘ جنرل اسلم بیگ بھی یہ استعمال کرتے ہیں اور یہ شاید اس نسخے کی وجہ سے 84 سال کی عمر میں بھی نہ صرف صحت مند اور متحرک زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ان کا دل بھی جوانوں کی طرح مضبوط ہے اور یہ آج بھی ٹیلی ویژن کے شوز میں کڑک دار آواز میں جواب سوال کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہے پاکستان کم از کم بھارت پر ایٹم بم ضرور گرائے۔

یہ نسخہ بہت سادہ ہے‘ آپ عجوہ کھجور کی گٹھلیاں لے کر پیس لیں اور اس پاؤڈر کی آدھی چمچ روز صبح پانی کے ساتھ نگل لیں انشاء اللہ آپ کے دل کے تمام امراض ٹھیک ہو جائیں گے۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں تاریخ اسلام میں پہلا ہارٹ اٹیک جنگ قادسیہ کے ہیرو اور فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ہوا تھا‘ آپ کے دل میں اچانک تکلیف ہوئی‘ نبی اکرمؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے فرمایا انہیں عجوہ کھجور گٹھلی سمیت کوٹ کر کھلا دو‘ یہ ٹھیک ہو جائیں گے‘ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو عجوہ کھجور کوٹ کر کھلائی گئی اور آپ صحت مند ہو گئے‘ یہ کھجور صرف سعودی عرب سے ملتی ہے اور خاصی قیمتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ امراض دل کی ادویات سے یقیناً سستی ہو گی‘ اس نسخے کے دونوں راوی زندہ بھی ہیں اور صحت مند بھی ہیں‘ آپ اگر مزید تحقیق کرنا چاہیں تو آپ جنرل مرزا اسلم بیگ اور ملک ریاض حسین سے رابطہ کر سکتے ہیں‘ میں نے کیونکہ ابھی تک یہ نسخہ استعمال نہیں کیا چنانچہ میں اپنا تجزیہ بیان نہیں کر سکتا تاہم اگر آپ تحقیق کے بعد اسے استعمال کرنا چاہیں تو سو بسم اللہ‘ اگر آپ کو شفاء نصیب ہو جائے تو آپ جنرل اسلم بیگ‘ ملک ریاض اور میرے لئے دعا فرما دیجئے گا اور اگر شفاء نہ ہو تو ہم تینوں کو معاف کر دیجئے گا کیونکہ اس انفارمیشن کا مقصد نیک ہے ۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎