بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اب میرا پردہ چھن چکا ہے

  جمعہ‬‮ 23 فروری‬‮ 2018  |  17:52

رات کا پچھلا پہر تھا اور میں رو رہا تھا،اچانک میں نے سنا کسی کی سِسکیوں کی تیغ رات کے سکوت کا گلا کاٹ رہی ہے،مجھے کچھ دیر پہلے لگ رہا تھا دنیا بھر کا دکھ میرے کندھوں پہ ایسے پڑ چکا ہے کہ اس کے بھار سے میری گردن ایسے جھک گئی کہ سر گھٹنوں پہ آگیا،میرے بہتے ہوئے آنسوؤں میں ٹھہراؤ آیا سِسکیوں اور آہوں کے کوڑے مسلسل میری سماعت کی پیٹھ زخمی کر رہے تھے،میں فرش کا سہارا لے کر اٹھا اور ہچکیوں کا تعاقب کیا، کچھ آگے قبرستان میں ایک سفید لباس پہنے لڑکی

جو قریب 22، 24 برس کی تھیایک قبر کو قلاوے میں لیے ہوئے تھی اسکے الفاظوں پہ اسکی ہچکیاں حاوی تھی،

بابا! جب سے آپ گئے ہو نا کسی نے میرے سر پہ ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہا بیٹا کچھ چاہیے تو شام کو لیتے آؤں گا،

بابا! اماں بیمار رہتی ہیں میں ان سے کیا مانگوں بیٹیوں کی آس تو باپ کے ساتھ ہوتی ہے ناں،

بابا! اب میں گھر پر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی،

بابا! آپ اکثر کہا کرتے تھے نا تم بڑی ہو گئی ہو بے فکری نہ رہا کرو کہیں آنے جانے کے وقت کسی کو ساتھ لے جایا کرو،

دیکھیں نا بابا! اب میں اپنے آنگن میں بھی اکیلی نہیں جاتی،

بابا! جب غیر مرد مجھ کو نظروں سے زخمی کرتے ہیں نا، تو مجھے آپکا پردہ بہت یاد آتا ہے،

دیکھیں نا بابا آپکی شہزادی کا جوتا 3 دن سے ٹوٹ گیا ہے،

بابا! آپکو پتا ہے نا مجھ سے ننگے پاؤں نہیں چلا جاتا،

بابا! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟

بابا! آپکو پتا ہے اب میں نوکری کرتی ہوں، میرا مینجر بار بار مجھے دفتر بلاتا ہے اور کاغذات، پینسل کے بہانے

میرے ہاتھوں کو چھوتا ہے، اگر میں کچھ کہتی ہوں تو اس کے بعد وہ کام بھی مجھ سے کرواتا ہے جو کل کا ہوتا ہے، بابا! مجھے نوکری نہیں کرنی، مجھے ان حریص لوگوں کے سامنے اپنی غیرت کو پامال نہیں کرنا، آپ اللہ پاک جی

کے پاس ہیں نا، ان سے کہیں کہ میری بیٹی اکیلی ہے وہ مردوں کی ہوس بھری نظروں سے زخمی ہوتی ہے وہ انکی زبردستیوں سے ختم ہو رہی ہے

بابا! مجھے آپکا پردہ محفوظ رکھتا تھا، اب میرا پردہ چھن چکا ہے اب میں کسی کی نظروں سے محفوظ نہیں رہتی، میں درخت کا سہارا لیے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک بیٹی اپنے بابا سے معاشرے کی شکایت کر رہی تھی، بابا یہ دنیا اچھی نہیں ہے....ایسی ہی کہانیوں سے ہمارا معاشرہ بھرا ہوا ہے... عورت کہیں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتی چاہے وہ آفس ہو یا سکول, گھر ہو یا کالج, سفر ہو یا مارکیٹ..... اسلام نے تو عورت کو مکمل تحفظ دیا ہے تو پھر ہم کہاں کے مسلمان ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت خود کو محفوظ نہیں سمجھتی.....قرآن مجید میں بھی اللہ مسلمان مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے . خدارا خود پر اور دوسروں پر رحم کریں-


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎