بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ذہنی دباؤ کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟

  بدھ‬‮ 28 فروری‬‮ 2018  |  17:59

انسان پریشان کیوں ہوتا ہے؟ انسان پر اختیاری اور غیر اختیاری مسائل کا دباؤ رہتا ہے۔ ہر دو قسم کے دباؤ سے بہت حد تک نکلا جاسکتا ہے لیکن ایسا اس وقت ممکن ہے جب ہم شعوری حالت میں جی رہے ہوں۔سمجھنے کے لیے دباؤ کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس تقسیم کے تناظر میں ہم اپنے احوال دیکھیں تو کسی قدر دباؤ کو کم کرسکتے ہیں۔

۔پہلی قسم کا دباؤ ایسا دباؤہے جو قدرتی طور پر پیش آنے والی آزمائشوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایسے دباؤ کو تعلق باللہ سے کم کیا جاسکتا

ہے۔ انسان عبادات بجا لاتا رہے، صدقہ و خیرات اور ذکر و اذکار کرتا رہے۔ اللہ اسے آزمائشوں اور قدرتی آفات سے محفوظ رکھے گا۔

۔دوسری قسم کا دباؤ ہماری اپنی مینجمنٹ کی وجہ سے ہے۔ اپنے معاشی، سماجی اور داخلی معاملات کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ ایک مصنوعی دباؤ سر لے لیتے ہیں ۔ اس قسم کے دباؤ سے بچنے کے لیے اپنی مینجمنٹ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کو ایک نظام کی شکل میں چلائے جانے کی کوشش کی جائے اور مسائل کو اپنی نااہلی و غفلت سے الجھایا نہ جائے۔ کام کو اس طرح مینج کیا جائے کہ دباؤ نہ رہے۔ مثال کے طور پر پندرہ دن بعد آپ کوئی تقریب یا کوئی پراجیکٹ کرنے جارہے ہیں۔ آپ پاکستانی قوم کی طرح آخری تاریخ کا انتظار مت کریں۔ بروقت پراجیکٹ بنائیں، وقت اور کام کی ڈویژن کریں اور روز کی بنیاد پر مقررہ کام کرتے رہیں۔ آپ نے کہیں جانا ہے تو وقت کا مارجن رکھ کر سفر کریں۔وغیرہ وغیرہ۔ آپ اپنی مصروفیات و مشاغل پر غور کرسکتے ہیں۔

۔تیسری قسم کا دباؤ ان ذمہ داریوں کا بوجھ ہے جو آپ خود لے لیتے ہیں ۔آپ وہ کام اپنے سر لے لیتے ہیں جو آپ کی ڈومین میں نہیں آتے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے دوستوں کے احوال جان کر پریشان تو ہوتے ہیں مگر ہر دوست کی مدد نہیں کرسکتے۔ہرقسم کی متعلقہ اور غیر متعلق خبریں، سوشل میڈیا کی الغم بلغم، دوسروں کے معاملات میں مداخلت وغیرہ ایسے اقدام ہیں جن سے انسان پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حسد ، غیبت، کینہ، نفاق جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتاہے۔ جادو، جاسوسی اور سازش جیسے اخلاقی رذائل انسان اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔ علاوہ ازیں اپنی طاقت سے بڑھ کر مالی، جسمانی اور سماجی ذمہ داریاں بھی خودساختہ دباؤ کی وجہ بنتی ہیں۔

۔چوتھی قسم کا دباؤانسان کے غیر موزوں طرزِ زندگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ناقص اور غیر موزوں خوراک کا استعمال، نیند کی کمی، غفلت اور لاپرواہی برتنا یہ سب ذہن پر دباؤ بناتے ہیں جس کا عام طور پر ادراک نہیں ہوتا۔ مثلا آپ نے سوتے وقت معمول کے مطابق لباس نہیں بدلا، آپ کی چارپائی متوازن نہیں پڑی اور آپ جب بھی پہلو بدلتے ہیں چارپائی آواز کے ساتھ ہِل جاتی ہے۔ آپ کے بستر میں بل ہیں مگر آپ نے اٹھ کر بستر درست نہیں کیا۔ آپ کو پیشاب کی حاجت ہے مگر آپ کا اٹھنے کو جی نہیں کر رہا۔ ان صورتوں میں یا تو آپ درست قدم لے کر اچھی نیند سولیں گے یا پھر ساری رات سکون سے سونہیں سکیں گے جس کا دباؤ اگلے دن کے اختتام تک آپ پر رہے گا۔یہاں تک کہ اگر آپ کے بیٹھنے کے لیے جگہ موزوں نہیں یا آپ کے جوتے آرام دہ نہیں تب بھی آپ دباؤ میں ہونگے۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎