بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


یہ ہوتا ہے کریکٹر

  اتوار‬‮ 15 اپریل‬‮ 2018  |  17:34

26مئی 2011ء کو فرانس میں جی ایٹ ممالک کی کانفرنس تھی‘ اس کانفرنس میں امریکی صدراوبامہ بھی موجود تھے‘ برلسکونی نے کانفرنس کے دوران صدر اوباما کے کان میں سرگوشی کی ”ہماری عدالتوں پر بائیں بازو کے جج قابض ہیں اور انہوں نے ملک پر عدالتی آمریت قائم کر رکھی ہے“ برلسکونی جس وقت یہ سرگوشی کر رہے تھے اس وقت صدر اوباما کا مائیک کھلا تھا‘ مائیک نے

برلسکونی کی سرگوشی کیچ کر لی اور یوں یہ آواز پہلے کانفرنس ہال میں موجود تمام شرکاء تک پہنچی اور اس کے بعد فرنچ میڈیا تک پہنچ گئی۔

فرانس کے ٹیلی ویژن چینلز نے برلسکونی کی سرگوشی عوام تک پہنچا دی جس کے بعد برلسکونی کیلئے نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اٹلی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم ہے‘ یہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی ہے‘ یہ جماعت 2008ء میں برلسکونی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوئی تھی‘

اس جماعت کی ایک خاتون رکن ڈینیلا میل چیوری برلسکونی کی کابینہ میں جونیئر وزیر تھی‘ یہ خاتون سیاست میں آنے سے پہلے مجسٹریٹ تھی‘ ڈینیلا نے برلسکونی کی ”سرگوشی“ سنی تو اس نے پریس کانفرنس بلائی‘ میڈیا کے سامنے وزیراعظم کے الفاظ کو اٹلی کی عدالتوں کی توہین قرار دیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ڈینیلا کا کہنا تھا ”بہت ہو چکا ہے ہم اپنی عدالتوں کی مزید توہین برداشت نہیں کر سکتے“ ڈینیلا کا فیصلہ حیران کن بھی تھا اور برلسکونی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے پریشان کن بھی کیونکہ ڈینیلا کے استعفے کے بعد نہ صرف برلسکونی کے تمام سکینڈلز دوبارہ زندہ ہو گئے بلکہ وزیراعظم کے عدالتوں اور ججوں کے بارے میں خیالات بھی سامنے آ گئے جس سے اطالوی معاشرے میں وزیراعظم کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گیا۔ اس کو کہتے ہیں کریکٹر۔ یہ کریکٹر کا کمال ہے کہ اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف ایک خاتون اٹھ کھڑی ہوئی‘ کاش ہمارے ملک کے وزیروں اورمشیروں کے اندر بھی ایسا کریکٹر آ جائے کہ وہ اپنی پارٹی کے سربراہ کے سامنے کلمہ حق کہہ سکیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎