بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


روشن متقبل کے لیے والدین کی 22 ذمہ داریاں

  جمعرات‬‮ 8 مارچ‬‮ 2018  |  3:30

جب بچہ پیدا ہو اس کونہلائیں اور کپڑے پہنائیں۔ 2۔ پیدائش کے پہلے گھنٹہ میں کسی نیک آدمی سے یا خود بچہ کاوالد بسم اللہ پڑھ کر بچہ کی تحنیک (گھٹی) کریں۔ 3۔ بچے کے دائیں کان میں اذان (آہستہ) اوربائیں کان میں اقامت کہیں۔ 4۔ ساتویں دن بچہ کا اچھا بامعنی نام رکھیں۔ 5۔ ساتویں دن بچہ کے سر کے بال کٹوا دیں اور ان بالوں کے وزن کے برابر سونے یا چاندی کی قیمت (اپنی حیثیت دیکھ کر) خیرات کر دیں۔جاری ہے ۔ ۔6۔ بشرطیکہ گنجائش (بغیر قرض پکڑے) بیٹا ہو تو دو بکرے یا دو

بکریاں یا ایک بکرااورایک بکری اسی طرح دنبے یاچھترے جو قربانی کو لگ سکتے ہوں۔ عقیقہ

کرنا مسنون ہے۔ بیٹی ہو تو ایک بکرا یا بکری وغیرہ کرنا مسنون ہے۔ 7۔ بیٹاہو تو اس کی طبیعت اجازت دے تو ساتویں دن اس کا ختنہ کرنا بھی سنت ہے۔ 8۔ بیٹی پیدا ہونے پر ناک منہ نہ چڑھانااور دل سے خوش رہنا ضروری ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ وہ پیٹ مبارک ہے جس سے پہلے بچی پیداہو۔ (معارف القرآن مفتی اعظم) دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ بیٹیوں کو معیوب نہ سمجھیں اور بیٹوں کو بیٹیوں پر ایسی یا اتنی ترجیح نہ دیں کہ بچیاں محسوس کریں جوبیٹے کو لے کر دیں بیٹی کو بھی اس کے مناسب کوئی چیز لے کر دینی چاہیے۔جاری ہے ۔۔ 9۔ بچہ کے سامنے اس کے جاگتے ہوئے میاں بیوی حق زوجیت سے مکمل اجتناب رکھیں کیونکہ بچہ اگر چھوٹا ہے مگر اس کا برعکس اپنے اندر جمالیتا ہے جس سے اس کی تربیت میں زرد آلود تیر لگتا ہے۔ 10۔ بچہ سن شعور (سمجھ بوجھ کی عمر) کو

پہنچ جائے تو اس کی دینی تعلیم و تربیت کابندوبست کیاجائے۔ 11۔ جب بچے پانچ سال کے ہو جائیں تو فتنہ کے زمانہ کی وجہ سے احتیاطاً لڑکے، لڑکیوں کو علیحدہ علیحدہ سلائیں۔ 12۔ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچے تو نمازسکھائیں۔ 13۔ سب بچوں کی مکمل دیکھ بھال رکھا کریںبالخصوص بچوں کی والدہ غلط کاموں یاغلط باتوں میں بچوں کو دیکھیں تو فوراً خود بھی ڈانٹیں اور والد کو بھی ضرورآگاہ کریں اس میں ہرگز نرمی نہ برتیں۔ غلط دوستیوں اور بری صحبت کے قریب بھی بچوں کو نہ جانے دیں اور لڑکے لڑکوں کے ساتھ اور لڑکیاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کریں اس کی مکمل نگرانی رکھنی ہے۔ 14۔ جب بچے دس سال کے ہو جائیں تو نماز میں ناغہ ہرگز نہ ہونے دیں۔جاری ہے ۔۔15۔ بچوں کی غذا اور آرام کاخاص خیال رکھیں کہ اس سے صحت پر بہت اثر پڑتاہے۔ 16۔ جس جگہ بھی تعلیم کے لیے بھیجا ہے اس کی مکمل معلومات رکھیں کہ کیسا چل رہاہے کتنے عرصے میں بچہ نے کیاپڑھاہے۔ 17۔ بچوں

کے میل جول کے ڈر سے اوران کی تعلیم کے حرج کے خطرہ سے ماں باپ کو ادھر ادھر سفر میں کم جاناچاہیے۔ اگر جائیں تو بچوں کو اکیلے یا لڑکوں کے پاس چھوڑ کر نہ جانا چاہیے پیچھے مکمل نگرانی کا انتظام کرکے جانا چاہیے۔18۔ بچوں کو وقتاً فوقتاً بزرگوں یا علماء کے پاس دعا کے لیے لے جاتے رہنا چاہیے اور خود بھی ہرفرض نماز کے بعد ہربچہ بچی کانام لے کر دعا کرنی چاہیے۔ 19۔ میاں بیوی کو خود بھی گناہوں سے بچنا چاہیے اور الٹے سیدھے کام نہ کرنے چاہئیں تاکہ بچوں میں اثر منتقل نہ ہو۔جاری ہے ۔۔ 20۔ اولاد کے ساتھ ہمیشہ پیار و محبت کا سلوک رکھنا چاہیے بے

جا سختی نہ کرنا چاہیے خصوصاً یہ کہنا کہ گھر سے نکل جاؤ یا یہ کام کرو چیز دیں گےاگر چیز نہ دی تو جھوٹ کا گناہ ہوگا اور غلط کام یا غلط بات سنیں یا تعلیم یا غذا میں سستی دیکھیں تو طریقہ سے بچہ کو سکت کے موافق سختی ضرور کریں مگر پہلے پیار و محبت سے ضرور سمجھا لیں۔ 21۔ بالغ ہونے کے بعد مناسب رشتہ ملے طے کرکے اچھی جگہ شادی کر دیں۔ 22۔ بچوں کو سامان تفریح بے شک لا کر دیں مگر ٹی وی اور غیر شرعی کھلونوں سے لازمی پرہیز کریں۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎