بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


وہ گاؤں جہاں کوئی عورت بیوہ نہیں، انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی

  پیر‬‮ 16 اپریل‬‮ 2018  |  1:04

دنیا کے مختلف معاشروں میں مختلف قسم کے رسوم و رواج پائے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ایسے ایسے عجوبے پائے جاتے ہیں کہ جن کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے. ایک ایسا ہی عجوبہ ریاست مدھیا پردیش میں بسنے والا گونڈ قبیلہ ہے کہ جہاں کسی بھی خاتون کو بیوہ نہیں رہنے دیا جاتا، چاہے اس کی شادی اس کے اپنے ہی پوتے سے کیوں نہ کرنا پڑے.

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس قبیلے کی روایت ہے کہ کوئی بھی خاتون بیوہ نہیں رہ سکتی. اسی روایت کے تحت مرنے

والے شخص کی بیوہ کی شادی اس کے خاندان میں دستیاب کسی بھی مرد سے کردی جاتی ہے. اگر مرنے والے کا بھائی یا کزن وغیرہ دستیاب ہو تو اس سے شادی ہوجاتی ہے ورنہ خاندان کے کسی بچے سے شادی کر دی جاتی ہے. اگر خاندان میں کوئی بچہ بھی دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں کسی دیگر خاندان کی خاتون بیوہ کو چاندی کی چوڑیوں کا تحفہ دیتی ہے اور اسے اپنے گھر لیجاتی ہے، اور یوں ایک کا خاوند دوسری کا بھی خاوند بن جاتا ہے.گونڈ قبیلے کے گاﺅں بیہانگہ سے تعلق رکھنے والے شخص پتی رام نے بتایا کہ جب اس کے دادا کا انتقال ہوا تو وہ محض چھ برس کا تھا. اس کی بیوہ دادی سے شادی کے لئے کوئی بھی مرد موجود نہ تھا، لہٰذا اس کے دادا کی موت کے 9 دن بعد فیصلہ کیا گیا کہ بیوہ دادی چامری بائی کی شادی اس کے چھ سالہ پوتے سے ہوگی.

پتی رام کا کہنا ہے کہ اس رسم کو ”ناتی پاتو“ کا نام دیا جاتا ہے، جس کے تحت اس کی شادی دادی کے ساتھ ہوگئی. پتی رام نے بتایا کہ جب وہ جوان ہوا تو اس نے ایک اور عورت سے شادی کرلی، مگر جب تک اس کی دادی زندہ رہی وہ عورت دوسری بیوی کے طور پر ہی زندگی گزارتی رہی. اس قبیلے کے لوگ پڑھ لکھ جائیں یا بڑے شہروں میں منتقل ہوجائیں تب بھی اپنی روایت پر عمل جاری رکھتے ہیں. قبائلی رہنما گلزار سنگھ مرکم کا کہنا تھا کہ ان کے گاﺅں کے دو نوجوان بھوپال شہر میں انجینئر کے عہدے پر فائز ہیں، لیکن انہوں نے بھی قبائلی روایت کے مطابق ”دیور پاتو“ شادی کررکھی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہ روایت صرف علامتی نہیں ہے بلکہ اس کا معاشرے میں حقیقی مقام ہے. انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کمسن بچے کی شادی اس کی دادی کے ساتھ ہوجائے تو بچے کو خاتون کا حقیقی خاوند سمجھا جاتا ہے اور اسے خاندان کے سربراہ کا درجہ بھی مل جاتا ہے.

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎