بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


نبی کریمﷺ کے شہر مدینہ منورہ میں فیشن شو۔۔وہ کام ہو گیا جو کسی نے سوچا تک نہ تھا، عوام کا غصہ عروج پر، سعودی ولی عہد کو رسوائی کا موجب قرار دے دیا۔دنیا بھر کے مسلمان افسردہ

  بدھ‬‮ 14 مارچ‬‮ 2018  |  18:47

نجی ٹی وی دنیا نیوز کی ویب سائٹ پر ایک بلاگر نے اپنے بلاگ میں انکشاف کیا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ و علیہ وسلم کے شہر مدینہ منورہ میں فیشن شو کے انعقاد پر سعودی عرب میں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ سعودی عرب میں چونکہ سیاسی اور ہر قسم کے مظاہروں کی ممانعت ہےاس لئے فیشن شو کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے ٹیوٹر کی راہ اختیار کیجہاں احتجاجی ٹویٹس کا ایک طوفان ہے

کہ امڈ آیا ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے فیشن شو کا اہتمام کرنے والوں کے خلاف سخت ناراضگی اور مذمت

کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے”حرام” اقدام سے رسول پاک صلی اللہ و علیہ و سلم کے مقدس شہر کی تقدیس کو پامال کردیا ہے۔ ایک ٹیوٹ میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس مدینہ منورہ کے تقدس کو پاما ل کررہے ہیں ان پر اللہ تعالی ، فرشتوں اور عوام کا عذاب نازل ہوگا۔ایک ٹیوٹ میں کہا گیا کہ اس مقدس شہر نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے اور یہاں رسول اکرمﷺ ابدی نیند سو رہے ہیں۔ اس شہر میں فیشن شو منعقد کر کے اس کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔گزشتہ دسمبر میں ریاض کے قریب ایک فیشن شو کے انعقاد پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان سخت ناراض ہوئے تھے اور وزارت تجارت کے مشیر کو برطرف کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی گزشتہ فروری کے آخر میں جدہ میں خواتین کا پہلا فیشن شو منعقد ہوا تھا۔ یہ شادیوں سے متعلق بین الاقوامی تقریب کا حصہ تھا جو تین روز تک جاری رہی۔ اس میں 160 مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے حصہ لیا تھا اور شادیوں کے فیشن، آرائش و زیبائش اور دلہنوں کے زیوارات کی نمائش کی گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ 33 سالہ نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں آزاد خیالی کی جو تحریک شروع کی ہے یہ فیشن شو اسی کا اہم حصہ ہے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مدینہ منورہ کے فیشن شو کے بعد ”روشن خیالی” کی اس تحریک کی شدید مخالفت سعودی حکومت کے لئے سیاسی طور پر پریشانی کی باعث بن سکتی ہے۔

عرب اخبار کے مطابق مدینہ منورہ میں چند روز قبل منعقد کئے جانے والے خواتین کے فیشن شو پر عوام خصوصاََ حرمین شریفین کے شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مدینہ منورہ میں سعودی تنظیم اور غیر ملکی اداروںکے تعاون سے فیشن شو کے انعقاد پر سعودی رائے عامہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مدینہ کے گورنر سمیت حکمرانوں سے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس ترین شہر کی ناموس کے

خلاف فیشن شو کا انعقاد کر نے والوں کی سخت گرفت کی جائے اور دیار نبویؐ میں تمام غیر شرعی افعال اور اس قسم کے بیہودہ فیشن شوز کے انعقاد پر قدغن لگائی جائے۔مڈل ایسٹ مانیٹر نامی جریدے میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں اور ہزاروں سعودی شہریوں نے ٹویٹر سمیت سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر کہا ہے کہ اسلام کے گہوارے کو سیکولر ازم کی تجربہ گاہ نہ بننے دیا جائے اور پیغمبر اسلام کے شہر کی حرمت کی پاسداری کی جائے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎