دس لوگ

  جمعہ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2017  |  16:22

میں نے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور گاڑی سے فوراً باہر آ گیا ٗ عابد ڈرائیور کے پاس رک گیا ٗ وہ پہلے گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ گپ شپ کرتا رہا اور اس کے بعد دونوں باہر آ کر کھڑے ہو گئے ٗ یہ میرے لئے انتہائی مشکل وقت تھا ٗ فلائیٹ چھوٹنے میں تھوڑی سی دیر باقی تھی لیکن عابد ڈرائیور کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہو چکا تھا ٗ مجھے معلوم تھا یہ مذاکرات شام تک جاری رہیں گے ٗ عابد انسانوں کے اس گروپ سے تعلق رکھتا ہے جو بولنے پر آتے ہیں تو اس وقت تک گفتگو جاری رکھتے ہیں جب تک دوسرا ان سے اتفاق نہیں کر لیتا یا پھر انہیں سلام کرکے دائیں بائیں نہیں ہو جاتا ٗ میں ان لوگوں کو ’’سیلز مین‘‘ کہتا ہوں ٗ آپ ان

آپ ان لوگوں کو بھینس کے سامنے کھڑا کر دیں تو یہ اسے رنگ گورا کرنے کی کریم بیچنا شروع کر دیں گے لیکن ہمارا ایک تیسرا دوست اس سے اتفاق نہیں کرتا ٗ اس کا خیال ہے یہ لوگ پیدائشی خوشامدی ہوتے ہیں ٗ یہ بلامقصد ٗ بلافائدہ دوسروں کی خوشامد کرتے رہتے ہیں ٗ

ان کے سامنے اگر شیطان بھی آ بیٹھے تو یہ اس کے حسن ٗ اس کی ذہانت اور اس کے اخلاق کی تعریف شروع کر دیں گے ٗ مجھے نہیں معلوم میری رائے درست ہے یا ہمارے اس تیسرے دوست کی لیکن یہ حقیقت ہے عابد موقع اور وقت دیکھے بغیر غیر متعلقہ لوگوں کے ساتھ گفتگو میں الجھ پڑتا ہے ٗ وہ اس وقت بھی اپنی عادت نبھا رہا تھا ٗ میں کراچی ائیرپورٹ کے برآمدے میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا اور وہ ہنس ہنس کر ڈرائیور سے گپ شپ کر رہا تھا ٗ میں نے انگلی سے ہوا میں گھڑی بنائی اور اسے جلدی آنے کا اشارہ کیا ٗ اس نے انگشت شہادت سے ایک منٹ مانگا ٗ ڈرائیور کے ساتھ دو باتیں کیں ٗ ڈرائیور نے قہقہہ لگایا ٗ اس کے ساتھ بغل گیر ہوا ٗ آنکھیں پونچھیں ٗ دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر سلام کیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ٗ عابد بھاگتا ہوا میرے پاس آ گیا ٗ ہم ڈیپارچر لاؤنج کی طرف دوڑ پڑے۔

میں غصے سے ابل رہا تھا ٗ میں بورڈنگ پاس لینے تک خاموش رہا ٗ ہم لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے تو وہ مسکرایا اور مجھے خوشامدی نظروں سے دیکھنے لگا ٗ یہ اس کی عادت تھی ٗ وہ ہمیشہ دوسروں کی تعریف کرنے سے پہلے ایسا کرتا تھا ٗ وہ نرم اور میٹھی آواز میں بولا ’’ڈرائیور شدید ٹینشن میں تھا ٗ گاڑی کے مالک نے اسے گالیاں دی تھیں اور وہ طیش کے عالم میں گاڑی لے کر باہر آ گیا تھا شاید اسی وجہ سے وہ غیرمحتاط ڈرائیونگ کر رہا تھا‘‘ میں نے گرم لہجے میں جواب دیا ’’تم نے دیکھا نہیں اس نے راستے میں کتنے سگنل توڑے ٗ اس نے ٹرالر کے ساتھ ریس لگائی ٗ اس نے راستے میں کتنے لوگوں سے بدتمیزی کی اور وہ ہمارے ساتھ کس لہجے میں بات کر رہا تھا لیکن تم نے اس کے ساتھ رشتے داری نکال لی ٗ تم بنیادی طور پر ایک گھٹیا قسم کے خوشامدی ہو ٗ تم معیار تک کا خیال نہیں رکھتے‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اورمجھے توصیفی نظروں سے دیکھ کر بولا ’’میں نے ڈرائیور کی ٹینشن بھانپ لی تھی لہٰذا میں نے اس کی ٹینشن کو دو منٹ دینے کا فیصلہ کیا ٗ تم گاڑی سے اترے تو میں نے اس کی ڈرائیونگ کی تعریف کی ٗ

میں نے اس سے کہا ٗ میں نے پوری زندگی تم جیسا کوئی دوسرا ڈرائیور نہیں دیکھا ٗ تم نے انتہائی تیز رفتاری کے باوجود گاڑی کا توازن برقرار رکھا اور تم کراچی کے تمام ’’شارٹ کٹس‘‘ سے واقف ہو ٗ تمہیں راستے میں جہاں بھی ٹریفک جام ملی تم فوراً کسی گلی میں گھس گئے اور چند منٹ میں کسی اچھی سڑک پر نکل آئے ‘‘ میرے غصے میں اضافہ ہو گیا ٗ میں نے نفرت اور بے بسی کے ملے جلے احساس کے ساتھ اس کی طرف دیکھا ’’تم اس واہیات انسان کی ڈرائیونگ کو بہترین قرار دے رہے تھے‘‘ اس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا ’’میں اسے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اچھا ڈرائیور سمجھتا ہوں

اس نے غیر محتاط ڈرائیونگ کے باوجود گاڑی کو کسی سے ٹکرانے نہیں دیا، اس نے سارے سگنل توڑے لیکن کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ اس کی بے احتیاطی میں بھی ایک احتیاط تھی‘‘ میں نے غصے میں پہلو بدل لیا لیکن وہ بولتا چلا گیا’’میری ہمدردی نے ڈرائیور کی ٹینشن کو آنسوؤں کی شکل دے دی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ۔ یہاں تک کہ اس کا سارا غصہ، اس کی ساری نفرت ٹشو پیپر میں منتقل ہوگئی۔ وہ ہلکا پھلکا ہوگیا، میں نیچے اترا، اسے بھی باہر نکالا، اس نے تازہ ہوا کے چند لمبے سانس لیے۔ میرے ساتھ ہنسی مذاق کی باتیں کیں اورچلا گیا‘‘۔ وہ چپ ہوگیا۔

میں نے گرم لہجے میں پوچھا ’’لیکن تمہیں مدر ٹریسا بن کر کیا فائدہ ہوا؟‘‘ اس نے قہقہ لگایا اور انکار میں سر ہلا کر بولا ’’ میں نے کراچی جیسے ابلتے، مچلتے شہر کو امن اور سکون کا تحفہ دے دیا‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، وہ مسکرایا ’’ نفرت اور محبت کے جذبے متعدی امراض کی طرح ہوتے ہیں، یہ ہمیشہ ایک سے دوسرے اور دوسرے سے آٹھویں دسویں شخص کومتاثر کرتے ہیں، غصے اور ٹینشن کا شکار شخص دو گھنٹوں میں پانچ سو لوگوں کا موڈ خراب کرتا ہے اور یہ پانچ سو لوگ شام تک پورے شہر کو بیمار کر دیتے ہیں۔ ہماری نفرت کی ایک نظر، ہماری ایک گالی اور ہمارا پانچ سیکنڈ کا غصہ ’’ملٹی پلائی‘‘ ہوتا ہے اور یہ شام تک پورے شہر کو شدت اور غصے میں مبتلا کردیتا ہے۔ اسی طرح ایک تھینک یو، ایک شکریہ، مہربانی کا ایک لفظ، ایک تھپکی، واہ واہ کا ایک سیکنڈ، شفقت کا ایک ہاتھ، ایک مسکراہٹ اور محبت کی ایک نظر بھی ’’ملٹی پلائی ‘‘ہوتی ہے اورشام تک پورے شہر کو خوبصورت بنا دیتی ہے‘‘ میں دلچسپی سے اس کی بات سننے لگا

وہ بولا ’’انسان جذبات کا ایگزاسٹ فین ہوتا ہے، ہم اپنے جذبات اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتے، ہم ہمیشہ دوسروں کو اپنی نفرت اور اپنی محبت میں شریک کرتے ہیں، برے لوگ ہمیشہ دوسروں کو برا بناتے ہیں اور اچھے اور نیک لوگ ہمیشہ دوسروں کو اچھائی کی تبلیغ کرتے ہیں، ہم اگر ٹینشن لے کر گھر سے نکلیں تو ہم یہ ٹینشن راستے میں ملنے والے لوگوں میں تقسیم کرتے جاتے ہیں، ہم اپنی ٹینشن رکشے والے، ٹیکسی والے، پٹرول پمپ کے چھوٹے، دفتر کے چپڑاسی، اپنے پی اے اور اپنے کلرک کے حوالے کرتے جاتے ہیں اور یہ لوگ اس ٹینشن کو آگے منتقل کرتے رہتے ہیں۔ یوں ٹینشن اور نفرت کا یہ سلسلہ پورے شہر میں پھیل جاتا ہے، اسی طرح جب کوئی شخص اپنے گھر سے خوش نکلتا ہے تو وہ اپنی یہ خوشی راستے میں بانٹتا جاتا ہے۔ ‘‘ وہ رکا اور دوبارہ بولا’’میں نے محسوس کیا یہ ڈرائیور ٹینشن کا شکار ہے لہٰذا وہ کراچی کی سڑکوں پر ٹینشن کا چھڑکاؤ کر رہا ہے

چنانچہ میں نے اس کاجذباتی آپریشن کیا اور اس کا غصہ نکال کر ڈس بین میں پھینک دیا، وہ پرسکون ہوگیا ٗ تم ذرا تصور کرو اب وہ جس راستے سے گزر رہا ہوگا، وہ جس جس شخص سے مل رہا ہو گا وہ اسے سکون، اطمینان، ہمدردی اور محبت کا تحفہ دے رہا ہوگا۔ وہ لوگوں میں امن اورمحبت تقسیم کر رہا ہوگا‘‘ عابد خاموش ہوگیا، میرے پاس اس کی بات جھٹلانے کیلئے کوئی دلیل، کوئی جواز نہیں تھا۔ وہ بولا ’’میرا دعویٰ ہے اگرصرف دس لوگ یہ نیت لے کر گھر سے نکلیں کہ ہم نے لوگوں کی ٹینشن اور نفرت کو ہمدردی اور محبت میں تبدیل کرنا ہے اگر یہ لوگ شام تک گلیوں، بازاروں، بسوں، ویگنوں اور رکشوں میں لوگوں کے غصے کی آگ بجھاتے رہیں تو پاکستان کے تمام شہروں کے مزاج بدل جائیں ۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، بھڑنا بند کردیں اور لوگوں میں فساد کی خو اور اختلاف کی عادت ختم ہو جائے ‘‘ وہ رکا، اس نے ایک لمحہ غور کیا اورمسکرا کر بولا ’’ہمارے ہر شہرکوایسے دس رضاکاروں کی ضرورت ہے جو محبت کے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں، جو ٹشو پیپر بن کرسارے شہر کی تلخی چوس لیں ٗ جو شہروں میں مسکراہٹوں کی دکانیں کھول لیں، تم یقین کرو، یہ ملک بدل جائے گا‘‘۔