Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


یہ ہوتا ہے کریکٹر

  جمعرات‬‮ 29 مارچ‬‮ 2018  |  17:07

26مئی 2011ء کو فرانس میں جی ایٹ ممالک کی کانفرنس تھی‘ اس کانفرنس میں امریکی صدراوبامہ بھی موجود تھے‘ برلسکونی نے کانفرنس کے دوران صدر اوباما کے کان میں سرگوشی کی ”ہماری عدالتوں پر بائیں بازو کے جج قابض ہیں اور انہوں نے ملک پر عدالتی آمریت قائم کر

اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہےرکھی ہے“ برلسکونی جس وقت یہ سرگوشی کر رہے تھے اس وقت صدر اوباما کا مائیک کھلا تھا‘ مائیک نےبرلسکونی کی سرگوشی کیچ کر لی اور یوں یہ آواز پہلے کانفرنس ہال میں موجود تمام شرکاء تک پہنچی اور اس

میں موجود تمام شرکاء تک پہنچی اور اس کے بعد فرنچ میڈیا تک پہنچ گئی۔ فرانس کے ٹیلی ویژن چینلز نے برلسکونی کی سرگوشی عوام

تک پہنچا دی جس کے بعد برلسکونی کیلئے نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اٹلی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم ہے‘ یہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی ہے‘ یہ جماعت 2008ء میں برلسکونی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوئی تھی‘اس جماعت کی ایک خاتون رکن ڈینیلا میل چیوری برلسکونی کی کابینہ میں جونیئر وزیر تھی‘ یہ خاتون سیاست میں آنے سے پہلے مجسٹریٹ تھی‘ ڈینیلا نے برلسکونی کی ”سرگوشی“ سنی تو اس نے پریس کانفرنس بلائی‘ میڈیا کے سامنے وزیراعظم کے الفاظ کو اٹلی کی عدالتوں کی توہین قرار دیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ڈینیلا کا کہنا تھا ”بہت ہو چکا ہے ہم اپنی

عدالتوں کی مزید توہین برداشت نہیں کر سکتے“ ڈینیلا کا فیصلہ حیران کن بھی تھا اور برلسکونی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے پریشان کن بھی کیونکہ ڈینیلا کے استعفے کے بعد نہ صرف برلسکونی کے تمام سکینڈلز دوبارہ زندہ ہو گئے بلکہ وزیراعظم کے عدالتوں اور ججوں کے بارے میں خیالات بھی سامنے آ گئے جس سے اطالوی معاشرے میں وزیراعظم کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گیا۔ اس کو کہتے ہیں کریکٹر۔ یہ کریکٹر کا کمال ہے کہ اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف ایک خاتون اٹھ کھڑی ہوئی‘ کاش ہمارے ملک کے وزیروں اورمشیروں کے اندر بھی ایسا کریکٹر آ جائے کہ وہ اپنی پارٹی کے سربراہ کے سامنے کلمہ حق کہہ سکیں۔

لاہور کے مقامی رکشہ یونین نے بھی ٹیکنالوجی کی جدید دنیا می قدم رکھتے ہوے ابر اور کریم کی طرز کی  'عوامی سواری ' کے نام سے موبائل ایپ متعارف کروا دی۔ تفصیلات کے مطابق مقامی رکشہ یونین دور

جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اور مارکیٹ میں موجود رہنے کے لیے سوچ بچار کے بعد جدید ٹیکنالوجی میںداخل ہونے کا فیصلہ کیا۔جہاں پہلے سے ہی اوبر اور کریم موجود ہیں رکشہ یونین نے اوبر اور کریم کے مقابلے پر نئی موبائل ایپ متعارف کروا دی اس پہلے رکشہ یونین نے اوبر اور کریم کی موبائل ایپس کے خلاف احتجاج کیا تھا کہ کمپنیوں نے انکے کاروبار کو ختم کر کے رکھ دیا ہے لیکن اب رکشہ یونین نے اپنے فیصلہ میں تبدیلی کرتے ہوئے اوبر اور کریم کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں عوامی سواری کا بنیادی کرایہ 48روپے مقرر کیا گیا ہے اور نو روپے ایک کلومیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ رکشہ یونین کے چیرمین مجید غوری کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 500رکشوں کو اس ایپ پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ رکشہ یونین نے رکشہ مالکان کو سمارٹ فون بھی فراہم کیے ہیں۔ رکشہ ڈرائیورز بڑی تیزی کے ساتھ اپنے کسٹمر کو نئی موبائل کے بارے میں اگاہی دے رہے ہیں کہ نئی موبائل کو اپنے موبائل پر انسٹال کریں۔ مجید غوری کا کہنا ہے کہ یہ موبائل ایپ خالص پاکستانی ہے اس میں کوئی بیرونی سرمایہ کاری نہیںلی گئی۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎