بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

1999ء کی ایک خفیہ میٹنگ میں کیا خوفناک فیصلے ہوئے، شیخ رشید کو کوڑوں کی سنائی جانے والی سزا کیسے ٹلی؟ مشرف سے معافی، ڈاکٹر قدیر نے خود پر الزام لے کر کتنی بڑی قربانی دی؟ چوہدری شجاعت حسین کی کتاب میں تہلکہ خیز انکشافات

  اتوار‬‮ 15 اپریل‬‮ 2018  |  11:33

سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی کتاب سچ تو ہے منظر عام پر آ گئی ہے اس کتاب کی تقریب رونمائی دس اپریل کو منعقد ہو گی، 2002 سے 2008ء تک چوہدری شجاعت نے قومی تاریخ میں کئی اہم فیصلے کیے جن کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ اپنی اس کتاب میں چوہدری شجاعت حسین نے ملکی تاریخ کے واقعات ایک نئے اسلوب سے بیان کیے ہیں اور ان کی کتاب میں میاں نواز شریف، جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جسٹس افتخار چوہدری، سردار فاروق لغاری، مشاہد حسین سید اور بہت سے ایسے کرداروں کا ذکر

کرداروں کا ذکر ہے جو خفیہ اجلاسوں میں شریک تھے۔ چوہدری شجاعت حسین کے ہمراہ چوہدری پرویز الہی بھی بہت سی خفیہ میٹنگز میں شریک رہے ہیں، ہونے والی ان خفیہ میٹنگز میں کیا فیصلے کیے گئے ان کی تفصیلات آپ کو ان کی اس کتاب میں ملیں گی۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی کتاب ’’سچ تو ہے‘‘ میں نومبر 99 کے ایک میٹنگ کا ذکر کیا ہے، جس میں انٹیلی جنس کے سربراہوں سمیت موجود تمام شرکاء سے قرآن پر حلف لیا گیا کہ وہ اس میٹنگ کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گے، چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اس میٹنگ میں بہت سے خوفناک فیصلے کیے گئے اور ان فیصلوں کے فوراً بعد پنجاب اور کراچی میں ماورائے عدالت قتل ہونا شروع ہو گئے۔ یہ کتاب 328 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے 20 باب ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے چوہدری ظہور الہی شہید کی سیاست سے چوہدری پرویز الہی کے دور حکمرانی اور چوہدری شجاعت حسین کے وزارت عظمیٰ کے دور تک تمام اہم واقعات بیان کیے ہیں، اس کتاب میں جنرل پرویز مشرف کا ٹیک اوور، مشرف نواز ڈیل، ایوب دور حکومت، جنرل مشرف اور طارق عزیز، کالج فیلوز، 70 کا انتخابی معرکہ، پیپلزپارٹی کا تاسیسی رکن بننے کی پیشکش، بھٹو دور حکومت، بھینس چور ی کا مقدمہ، باچا خان کا لاہور میں ان کے گھر میں قیام،

جنرل ضیاء کا مارشل لاء، میاں نواز شریف سے پہلا تعارف، نواز شریف کی مسلسل عہدشکنی، شیخ رشید کو کوڑوں کی سزا کیسے ٹلی سمیت قومی تاریخ کے کئی اہم واقعات شامل ہیں، چوہدری شجاعت نے جنرل پرویز مشرف کے ٹیک اوور کے حوالے سے کہا کہ اگر میاں نواز شریف آرمی چیف پرویزمشرف کے جہاز کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرتے تو ان کی حکومت بچ سکتی تھی اور میری اطلاع کے مطابق فوج کا نواز حکومت کو برطرف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،

جنرل مشرف کو گرفتار کرنے کے منصوبے کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین نے لکھا کہ یہ واقعہ ٹیک اوور کے بعد جنرل مشرف نے ایک ڈنر میں خود سنایا تھا، چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جب جوہری مواد چوری کرنے کا الزام لگا تو بہت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، جس میں کئی ممالک کی طرف سے دباؤ بھی آ رہا تھا، پرویز مشرف نے مجھے اور ایس ایم ظفر کو بلایا اور کہا کہ ہم عبدالقدیر خان کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ وہ قوم سے معافی مانگیں،

بعد میں مجھے کہا گیا کہ میں اکیلا ہی ان سے ملوں، ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملا تو انہوں نے کہا کہ جوہری مواد کی چوری کرنے کا جھوٹا الزام ہے، میں نے کوئی چیز نہیں بیچی اور نہ ہی میں نے کوئی رقم لی ہے، ڈاکٹر عبدالقدیرخان مجھے گھر کے اندرونی حصے میں لے گئے اور فرنیچر دکھایاکہ میری اہلیہ کے جہیز کا ہے، مجھ میں تو فرنیچر خریدنے کی استطاعت نہیں تاہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے معافی مانگ کر سارا الزام اپنے سر لے لیا یہ بہت بڑی قربانی تھی اور اس ایثار و قربانی سے پوری قوم کے دل میں ان کی عزت بہت بڑھ گئی تھی۔ چوہدری شجاعت حسین کی اس کتاب میں مزید تہلکہ خیز انکشافات موجود ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎