بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اللہ پاک کے ہرکام میں بہتری ہوتی ہے۔۔۔

  منگل‬‮ 17 اپریل‬‮ 2018  |  13:04

ایک گاؤں میں باپ بیٹے رہتے تھے .. باپ کا نام عبدالرحیم تھا اور بیٹے کا نام جنید تھا- باپ حافظ قرآن تھا اور قریب کی مسجد میں بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا. اور گھر گھر جا کر بھی بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتا تھا۔اس گاؤں میں عبدالرحیم کا بہت نام تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبدالرحیم اس گاؤں کا پُرانا رہنے والا تھا۔اور بہت ہی نیک اور شریف انسان بھی تھا.. اگر کہیں کوئی قرآن خوانی وغیرہ ہوتی تو لوگ عبدالرحیم کو ہی بلاتے ۔

اور یہی وجہ تھی کہ اکثر عبد الرحیم

کو دوسرے گاؤں سے بھی بچوں کی دینی تعلیم کے لیے بھی دعوت نامے موصول ہوتے رہتے تھے۔ایک دن عبد الرحیم کو دوسرے گاؤں سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ آپ ہمارے بچوں کو قرآن پاک کی تفسیر سمجھا دیجئے گا اور کل دوپہر کا کھانا ہمارے گھر کھائیے گا -- عبدالرحیم نے ہر دفعہ کی طرح جنید اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور اگلے ہی دن دونوں دوسرے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔۔راستے میں اچانک طوفان اور آندھی نہ جانے کہا سے آگئے ،اور اس وجہ سے ایک درخت سیدھا جنید پر آگرا ۔ جنید کو بہت چوٹ لگی جس کی وجہ سے وہ ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا.. باپ نے جیسے تیسے بیٹے کو اُٹھایا اور اٹھاتے ہی کہا کہ اس میں بھی اللہ پاک کی کوئی نہ کوئی بہتری ہوگی بیٹا یقیناً تم بلکل پریشان مت ہو........"بیٹا جو درد سے کراہ رہا تھا.

وہ تکلیف سے روتے روتے بولا کہ میری دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ہیں شاید. اور مجھ سے ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا ہے .. اور آپ کہتے ہیں کہ اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہو گی ۔۔۔۔ابو بھلا اس میں اللہ کی کیا بہتری ہو سکتی ہے کہ مجھے چوٹ لگے اور اس میں بھی الله پاک کی بہتری ہو -- یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ بیٹا بہت روتا ہے تکلیف سے .اور باپ کی اس بات سے ناراض ہو جاتا ہے اور باپ بھی خاموش ہو جاتا ہے اور کچھ بھی نہیں کہتا بیٹے کو ...اور یوں دونوں لوٹ گاؤں واپس آجاتے ہیں۔۔ ابھی بیٹے کے لیے ڈاکٹر کو بلوایا ہی ہوتا ہے کہ.. ڈاکٹر سے پہلے اسی گاؤں کا ایک رہنے والا بھاگا بھاگا آتا ہے .. عبدلرحیم بھائی،عبدلرحیم بھائی، غضب ہوگیا خدا کا شکر آپ صحیح ، سلامت واپس آگئے....عبدلرحیم پوچھتا ہے بھائی بات کیا ہے کیا ہوا ہے....وہ شخص کہتا ہے ..آپ جس گاؤں کی طرف جا رہے تھے جہاں پر آپ کو بلایا گیا تھا دعوت پر۔ وہاں سے ابھی اطلاع آئی ہے.. کہ اس گاؤں میں اس شدت کا طوفان اور زلزلہ آیا کہ پورے کا پورا گاؤں تباہ ہوگیا ۔۔۔۔۔اور کچھ بھی نہیں بچا وہاں پر ۔۔۔ باپ جب یہ خبر سنتا ہے تو بیٹے کی طرف دیکھتا ہے اور بیٹے سے کہتا ہے کہ دیکھا بیٹا میں نے تمہیں کہا تھا نہ اللہ پاک کے ہرکام میں بہتری ہوتی ہے... اللہ پاک نے تمہیں ایک چھوٹی سی چوٹ دے کر ہم دونوں کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ...پھر دونوں، باپ اور بیٹے دعا کے لیے فورن ہاتھ اٹھاتے ہیں اور خُدا کا بہت شکر ادا کرتے ہیں ...اور پھر بیٹا بولتا ہے کہ ابو جان آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے تھے ...اللہ پاک کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے ہم ہی نہیں سمجھ پاتے ........

: یہ کہانی بہت مختصر لفظوں پر مشتمل ہے لیکن اس میں حقیقت پوشیدہ ہے .کہ اللہ پاک کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے .. زندگی میں اگر کچھ بھی چھن گیا ہو تو اس بات کا غم نہ کرنا اس لیے کے اللہ پاک کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے. ایک چیز اگر اللہ آپ سے لے لیتا ہے تو وہ کیسی مصلحت کی وجہ سے ہوتی ہے .اور اللہ پاک کی کس کام میں کیا مصلحت ہے یہ ہم نہیں جانتے ... اور اگر کچھ چھن بھی جاۓ تو یہ بھی دیکھیں کہ نہ جانے اس کے بدلے اللہ پاک کیا کچھ عطا بھی کرتا ہے ..بیشک ... یاد رکھئے گا. ہم وہ چاہتے ہیں جو ہمیں پسند ہے-- لیکن اللہ غفور اور رحیم ہے انسان کے دل میں چھپے چھوٹے سے چھوٹے راز سے بھی واقف ہے .اس لیے .. اللہ پاک وہ عطا کرتا ہے جو وہ ہمارے لیے بہتر ہو ..اس لیے انسان کو چاہیئے کے وہ اپنی کوئی بھی چیز چھن جانے کا غم نہ کرے .بس اللہ پاک سے دعا کرے .اور ہر کام میں اللہ کی مصلحت سمجھے اور اپنی پورے کوشیش اور محنت کرے ...اور انسان تو ویسے بھی ایک (قطمیر) اس لفظ کا مطلب ہے کجور کے اندر جو گُھٹلی ہوتی ہے اس گُھٹلی کے اُپر جو باریک سی جھلی نُما ایک پرت ہوتی ہے اسے کہتے ہیں قطمیر) کا بھی مالک نہیں پھر انسان کس بات کا غم کرتا ہے. جب انسان کا کچھ ہے ہی نہیں سب اللہ پاک نے دیا ہے پھر اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے کہ کب کسے کیا دینا ہے اور کب کس سے کیا لینا ہے..اللہ پاک سب کے لیے آسانیاں پیدا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بھی عطا فرمائے آمین .

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎