بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

پولیس افسران کن صحافیوں کوشراب پیش کرتے ہیں ؟عدالت میں تہلکہ خیز انکشاف

  منگل‬‮ 17 اپریل‬‮ 2018  |  17:06

ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دارالحکومت میں ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس تفتیشی افسران کے کمروں میں دن کو منشیات اور رات کو لڑکیاں ملتی ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی بڑھتی شرح پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ آئی جی پولیس سلطان اعظم تیموری اور ایس ایس پی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد پولیس کے 90 فیصد افسران جرائم میں ملوث ہیں، دارالحکومت میں جگہ جگہ شراب فروشی کے اڈے اور قحبہ خانے کھلے ہیں، کوہسار مارکیٹ میں شیشے اور

میں شیشے اور منشیات کے اڈے چل رہے ہیں، بیوروکریٹ اور بااثرافراد سر عام شراب پیتے ہیں، ایک جج کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مدہوش ہو کر غل غپاڑہ کرتا ہے، اس کے پڑوسی بھی اس سے تنگ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پولیس محض دکھاوے کے لیے کپیاں بیچنے والوں کو پکڑتی ہے، پولیس بااثر افراد پر بھی ہاتھ ڈالے، تفتیشی افسران کے کمروں میں دن کو منشیات اور رات کو لڑکیاں ملتی ہیں، انسپکٹر بوسکی کا سوٹ پہن کر گلے میں چین ڈالے تو تماش بین بن جاتا ہے، پولیس افسران لیڈیز پولیس اہلکاروں کو بھی نہیں چھوڑتے، خواتین پولیس اہلکار چیخ رہی ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آئی جی صاحب، آپ کے افسران اینکرز کوشراب کی بوتلیں دیتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کونسا اینکر پولیس سے رشوت لیتا ہے، کون کون سے ججز، سرکاری آفیسر اور مولوی شراب اور منشیات لیتے ہیں، پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے، قانون اجازت دے تو عصمت دری کرنے والے ڈی ایس پی کو ڈی چوک پر شوٹ کیا جائے۔آئی جی پولیس نے کہا کہ اگر مجھے نوکری سے فارغ بھی کیا جائے تو کوئی غم نہیں مگر پولیس کو پاک صاف کرکے دم لوں گا، اس سال 21 قحبہ خانوں کے خلاف ریڈ کیا، جرائم کے اڈے ختم نہ کرا سکا تو عہدہ چھوڑ دوں گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 دن کے لئے ملتوی کر دی۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎