بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پاکستان میں موجودایسی تین جگہیں جہاں کسی پاکستانی کو داخلے کی اجازت نہیں!یہاںصرف غیر ملکی جاسکتے ہیں ایسی معلومات جو اس سے پہلے آپ نہیں جانتے ہونگے

  بدھ‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2018  |  13:39

پاکستان میں آئے روز غیر ملکیوں کے حوالے سے خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں ، حال ہی میں امریکی سفارتکاروں کی جانب سے پاکستانی موٹر سائیکل سواروں کو گاڑی تلے کچلے جانے کے دو واقعات منظر عام پر بھی آچکے ہیں۔ پہلے واقعہ میں امریکی سفارتخانے میں تعینات دفاعی اتاشی کرنل جوزف نے دو موٹر سائیکل سوار پاکستانی نوجوانوں کو ٹریفک اشارہ توڑتے ہوئے گاڑی کی ٹکر دے ماری جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی نوجوان عتیق جاں بحق جبکہ اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار دوسرا نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ حال ہی میںبھی اسلام آباد

میں پیش آیا ہے جب امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری نے اپنی گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ایک اور پاکستانی کو شدید زخمی کر دیا۔ دونوں واقعات میں امریکی سفارتخانے نے پاکستانی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سفارتی آداب کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا بلکہ الٹا امریکہ نے پاکستانی سفارتکاروں کے امریکہ میں نقل و حرکت پر پابندی کی دھمکی دیدی۔ اسلام آباد میں پیش آئے دونوں واقعات میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی جبکہ امریکی دفاعی اتاشی کا نام بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس کے ملک سے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ دوسرے واقعہ میں امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری کو پولیس تحویل سے چھڑانے اور کار سرکار میں مداخلت کا پرچہ امریکی سفارتخانے کے پاکستانی سکیورٹی آفیسر کے خلاف کاٹ لیا گیا ہے جبکہ سیکنڈ سیکرٹری کی گاڑی کی ٹکر سےزخمی ہونے والے نوجوان کے خلاف پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پاکستانی اپنے ہی ملک میں انصاف حاصل نہیں کر سکے۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی حکومت غیر ملکی دبائو کے تحت اپنے ہی شہریوں کی عزت نفس اور وقار کو دائو پر لگائے بیٹھی ہے۔ آپ یہ جان کر دنگ رہ جائیں گے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جہاں غیرملکی تو جا سکتے ہیں مگر یہ جگہیں خود پاکستانیوں کے لیے شجرممنوعہ قرار پا چکی ہیں. کیا شرم کا مقام ہے کہ غیرملکیوں نے پاکستان کے اندر ایسی جگہیں بنا رکھی ہیں جہاں پاکستانیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں.کیا کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک میں جا کر ایسا اقدام کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ یا اسے وہاں کی حکومت ایسا کرنے کی اجازت دے گی؟؟ویب سائٹ ونڈرفل پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کے لیے ممنوع قرار دی گئی ان جگہوں میں اسلام آباد میں غیرملکیوں کے قائم کردہ تین ہوٹل اور ڈپلومیٹک انکلیو شامل ہیں. ان میں پہلا ایک فرانسیسی ہوٹل ہےجس کا نام لا میسن (La Maison)ہے. فلپ لیفورج نامی شخص نے یہ ہوٹل 2014ءمیں قائم کیا. اس ہوٹل میں صرف غیرملکیوں کو آنے اور کھانا کھانے کی اجازت تھی. جب پاکستانیوں کی طرف سے اس پر احتجاج کیا گیا تو ہوٹل کی انتظامیہ کی طرف سے انتہائی انوکھی منطق بیان کی گئی کہ چونکہ شراب نہیں پیتے اور یہاں گاہکوں کو شراب پیش کی جاتی ہے، اس لیے مسلمانوں کا داخلہ منع کیا گیا. 1 دوسرا ہوٹل ”دی کورڈن روز“ (The Cordon Rouge) ہے جو 2009ءمیں قائم کیا گیا. اس ہوٹل کی انتظامیہ نے آغاز میں اپنے مرکزی دروازے پر ”صرف غیرملکی“ (Foreigners Only)کا بورڈ لگا رکھا تھا. پاکستانیوں کے احتجاج پر بورڈ تو ہٹا دیا گیا مگر اب بھی یہاں پاکستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہاں آنے والے پاکستانیوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا روا رکھا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ آنے کی جرات ہی نہیں کرتے. 2تیسرا ہوٹل ”ایٹ ہوم“ (At Home)ہے جو ایک چینی ریسٹورنٹ ہے اور اسلام آباد میں ایف 1-8، سٹریٹ 3، ہاؤس 12اے میں واقع ہے. اس کی پالیسی کے تحت بھی یہاں صرف غیرملکی ہی آ سکتے ہیں، پاکستانی نہیں. ان تین جگہوں کے بعداسلام آباد کا ڈپلومیٹک انکلیو ہے جہاں کسی پاکستانی کو پاؤں دھرنے کی اجازت نہیں، تاوقتیکہ وہ کسی غیرملکی کے ہمراہ نہ ہو. گویا کسی غیرملکی کا مہمان بن کرتو کوئی پاکستانی یہاں جا سکتا ہے، اکیلے میں نہیں. شاید اسلام آباد کا یہ حصہ پاکستان کا حصہ نہیں، ان غیرممالک کی جاگیر ہے جن کے سفراءیہاں مقیم ہیں.اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں آئے روز غیر ملکیوں کے حوالے سے خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں ، حال ہی میں امریکی سفارتکاروں کی جانب سے پاکستانی موٹر سائیکل سواروں کو گاڑی تلے کچلے جانے کے دو واقعات منظر عام پر بھی آچکے ہیں۔ پہلے واقعہ میں امریکی سفارتخانے میں تعینات دفاعی اتاشی کرنل جوزف نے دو موٹر سائیکل سوار پاکستانی نوجوانوں کو ٹریفکاشارہ توڑتے ہوئے گاڑی کی ٹکر دے ماری جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی نوجوان عتیق جاں بحق جبکہ اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار دوسرا نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ حال ہی میں دوسرا واقعہ بھی اسلام آباد میں پیش آیا ہے جب امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری نے اپنی گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ایک اور پاکستانی کو شدید زخمی کر دیا۔ دونوں واقعات میں امریکی سفارتخانے نے پاکستانی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سفارتی آداب کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا بلکہ الٹا امریکہ نے پاکستانی سفارتکاروں کے امریکہ میں نقل و حرکت پر پابندی کی دھمکی دیدی۔ اسلام آباد میں پیش آئے دونوں واقعات میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی جبکہ امریکی دفاعی اتاشی کا نام بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس کے ملک سے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ دوسرے واقعہ میں امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری کو پولیس تحویل سے چھڑانے اور کار سرکار میں مداخلت کا پرچہ امریکی سفارتخانے کے پاکستانی سکیورٹی آفیسر کے خلاف کاٹ لیا گیا ہے جبکہ سیکنڈ سیکرٹری کی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونے والے نوجوان کے خلاف پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پاکستانی اپنے ہی ملک میں انصاف حاصل نہیں کر سکے۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی حکومت غیر ملکی دبائو کےتحت اپنے ہی شہریوں کی عزت نفس اور وقار کو دائو پر لگائے بیٹھی ہے۔ آپ یہ جان کر دنگ رہ جائیں گے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جہاں غیرملکی تو جا سکتے ہیں مگر یہ جگہیں خود پاکستانیوں کے لیے شجرممنوعہ قرار پا چکی ہیں. کیا شرم کا مقام ہے کہ غیرملکیوں نے پاکستان کے اندر ایسی جگہیں بنا رکھی ہیں جہاں پاکستانیوں کو داخل ہونے کیاجازت نہیں.کیا کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک میں جا کر ایسا اقدام کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ یا اسے وہاں کی حکومت ایسا کرنے کی اجازت دے گی؟؟ویب سائٹ ونڈرفل پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کے لیے ممنوع قرار دی گئی ان جگہوں میں اسلام آباد میں غیرملکیوں کے قائم کردہ تین ہوٹل اور ڈپلومیٹک انکلیو شامل ہیں. ان میں پہلا ایک فرانسیسی ہوٹل ہےجس کا نام لا میسن(La Maison)ہے. فلپ لیفورج نامی شخص نے یہ ہوٹل 2014ءمیں قائم کیا. اس ہوٹل میں صرف غیرملکیوں کو آنے اور کھانا کھانے کی اجازت تھی. جب پاکستانیوں کی طرف سے اس پر احتجاج کیا گیا تو ہوٹل کی انتظامیہ کی طرف سے انتہائی انوکھی منطق بیان کی گئی کہ چونکہ شراب نہیں پیتے اور یہاں گاہکوں کو شراب پیش کی جاتی ہے، اس لیےمسلمانوں کا داخلہ منع کیا گیا. 1 دوسرا ہوٹل ”دی کورڈن روز“ (The Cordon Rouge) ہے جو 2009ءمیں قائم کیا گیا. اس ہوٹل کی انتظامیہ نے آغاز میں اپنے مرکزی دروازے پر ”صرف غیرملکی“ (Foreigners Only)کا بورڈ لگا رکھا تھا. پاکستانیوں کے احتجاج پر بورڈ تو ہٹا دیا گیا مگر اب بھی یہاں پاکستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہاں آنے والےپاکستانیوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا روا رکھا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ آنے کی جرات ہی نہیں کرتے. 2تیسرا ہوٹل ”ایٹ ہوم“ (At Home)ہے جو ایک چینی ریسٹورنٹ ہے اور اسلام آباد میں ایف 1-8، سٹریٹ 3، ہاؤس 12اے میں واقع ہے. اس کی پالیسی کے تحت بھی یہاں صرف غیرملکی ہی آ سکتے ہیں، پاکستانی نہیں. ان تین جگہوں کے بعداسلام آباد کا ڈپلومیٹک انکلیو ہے جہاں کسی پاکستانی کوپاؤں دھرنے کی اجازت نہیں، تاوقتیکہ وہ کسی غیرملکی کے ہمراہ نہ ہو. گویا کسی غیرملکی کا مہمان بن کرتو کوئی پاکستانی یہاں جا سکتا ہے، اکیلے میں نہیں. شاید اسلام آباد کا یہ حصہ پاکستان کا حصہ نہیں، ان غیرممالک کی جاگیر ہے جن کے سفراءیہاں مقیم ہیں.

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎