بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پسند کی شادی میں طلاق کی شرح زیادہ -وجوہات احادیث کی روشنی میں

  منگل‬‮ 8 مئی‬‮‬‮ 2018  |  13:26

سوچنے کی بات ہے کہ آج کل "پسند کی شادی" کا ٹرینڈ کیوں اتنا چل پڑا ہے اور ایسی کیا وجہ ہے جو ایسی شادیاں سال بعد ہی ناکام ہو جاتی ہے...!!!!اس کی سب سے بڑی وجہ عشقیہ فلمیں و ڈرامے ہیں. جس کے ذریعے بچپن ہی سے بچہ/بچی کی ذہن سازی کی جاتی ہے. ہیرو و ہیروئن کی عاشقی دیکھ کر ناظر کے دل میں بھی وہی احساسات پیدا ہو جاتے ہیں. یوں وہ بھی عشق و محبت سے آشنا ہو کر اپنے محبوب/محبوبہ کی تلاش میں لگتا جاتا ہے اوراس سے اگلا مرحلہ مخلوط تعلیمی نظام ہے. جہاں

اس خواب کی تکمیل کا موقع انتہائی آسانی سے میسر ہو جاتا ہے. سکولز, کالجز و یونیورسٹیز کے مخلوط ماحول میں شاید ہی کوئی بچ پاتا ہو. لیکن اکثریت عشق و محبت کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں.مبتلا ہو جاتے ہیں. بلکہ آج کل تو گرل فرینڈ/ بوائے فرینڈ کے نام پر متعدد "یار" رکھنے کا سلسلہ عروج پر ہے. بہرحال... فلموں و ڈراموں سے متاثر یہ نوجوان اس بات سے یکسر بے خبر ہوتا ہے کہ شریکِ حیات کے چننے کے لیے دینِ اسلام نے باقاعدہ معیار ہمیں بتایا ہے. نوجوان نسل کے ہاں معیار صرف اور صرف خوبصورتی, بول چال میں لچک اور محبوب کی چند ادائیں ہی ہوتی ہیں جو ان کو پاگل کر دیتی ہیں. چنانچہ وہ محض حسن سے متاثر ہو کر ایک دوسرے کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں. اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہر جائز و ناجائز راستے کو اختیار کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ہیں.چنانچہ کسی بھی طرح جب یہ معاملہ کامیاب ہو جاتا ہے تو ابتدائی تین چار ماہ تو خیریت سے گزر جاتے ہیں. اس کے بعد جو تلخیاں , بدمزگیاں اور لڑائیاں اس جوڑی میں پیدا ہو جاتی ہیں. اللہ کی پناہ... اسلامی تعلیمات سے بے خبر یہ جوڑا بہت جلد ہی ٹوٹ جاتا ہے اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے.پس اگر "پسند کی شادی" کرنی ہی ہے تو دینِ اسلام نے شریک حیات کے انتخاب کے لیے جو اصول و معیار ہمیں بتایا ہے. اسی کو اپنانا ہوگا. ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﺭﻏﺒﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ۔ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﺒﻮﯼ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﻮ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ۔ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺲ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ’’ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺾ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﻭ ﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﺫﻟﯿﻞ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ،ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺟﮭﮑﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺮﻡ ﮔﺎ ﮦ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺧﯿﺮ ﻭ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯ ﺩﮮ ﮔﺎ ‘‘ ۔‏( ﺍﻟﻄﺒﺮﺍﻧﯽ ﺍﻻﻭﺳﻂ ‏)ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺳﮯ ﺭﻭﺍ ﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ’’ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭼﺎﺭ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ، ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣُﺴﻦ ﮐﯽ ﻭ ﺟﮧ ﺳﮯ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ۔ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺧﺎﮎ ﺁﻟﻮﺩ ﮨﻮﮞ،ﺗﻢ ﺩﯾﻦ ﺩﺍﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﮟ ﻻﺅ۔ ‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ، ﻣﺴﻠﻢ ‏


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎