بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’’اسلام یونہی تو موسیقی کو حرام نہیں کہتا ‘‘

  اتوار‬‮ 25 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  21:24

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ قوتِ سماعت کی حفاظت کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک موسیقی نہ سنی جائے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ سے زائد نوجوان اور نو عمر بچے بہت بلند آواز اور زیادہ دیر تک موسیقی سن کر اپنی قوتِ سماعت کو مستقل بنیادوںپر متاثر کر رہے ہیں۔ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق12 سے 35 سال کی عمر کے درمیان چار کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد ہیں جو سننے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔۔ڈبلیو

ایچ او نے کہا ہے کہ اس تعداد میں نصف وہ افراد ہیں جو امیر اور متوسط آمدن رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور موسیقی سننے کے لیے ان کے پاس موجود آلات میں آواز کا درجہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد ایسے نوجوان ہیںجو کلبوں اور شراب خانوں میں چلنے والی موسیقی سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کےنقصانات سے بچاؤ کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹائین کرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشاں ہیں کہ ایک ایسے معاملے پر آگاہی پھیلائی جائے جس پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی ہو سکی۔امریکہ میں سنہ 1994 میں قوت سماعت متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی تاہم سنہ 2006 میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ اعشاریہ تین فیصد تک جا پہنچی۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎