بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بندر دوڑ، ایک حقیقت

  بدھ‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2018  |  19:34

ایک دفعہ جنگل میں الیکشن ہوئے اور بندروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بندر بادشاہ بن گیا۔ شیر کو اپنی اس ہار پر بہت افسوس ہوا۔ ایک دن اس نے راہ چلتے ہرنی کا بچہ پکڑ لیا۔ ہرنی دوڑی دوڑی بادشاہ (بندر) کے دربار میں پہنچی اور فریاد کی کہ شیر نے میرا بچہ پکڑ لیا ہے۔ بادشاہ سلامت انصاف کیجئے اور اسے چھڑائیے۔ بندر نے کہا تم فکر ہی نہ کرو ابھیچھڑا دیتا ہوں۔ یوں بندر نے اپنی دوڑیں لگا دیں۔ شیر کے پاس جانے یا کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرنے کی بجائے، بڑی تیزی سے

ایک درخت سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے درخت پر چھلانگیں لگاتے ہوئے پورے جنگل کا چکر لگایا۔ پھر تھک ہار کر ہرنی کے پاس پہنچا اور کہنے لگا، دیکھو میں نے تو بہت جان مار کر دوڑ لگائی ہے، اپنی ساری توانائی لگا دی ہے، اب بھی اگر شیر تمہارا بچہ نہ چھوڑے تو بھلا میں کیا کر سکتا ہوں، شیر یقیناً دہشت گرد ہے۔ مزید بادشاہ بندر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام دہشت گرد شیر کا کیا دھرا ہے، جو میری حکومت گرانا چاہتا ہے۔ میں نے بہت دوڑ لگائی جو آپ کے سامنے ہے۔ اب ہم نے بندروں کی کمیٹی بنا دی ہے اور مجرموں کو جلد ہی کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔تقریباً ہر دور میں ہمارے حکومتی بندروں کا حال بھی کچھ اس بندر جیسا ہی رہا ہے۔ جس سمت میں دوڑ لگانی چاہئے اس طرف ذرہ برابر بھی نہیں جاتے بلکہ بندر کی طرح فضول دوڑ لگاتے ہوئے ڈبل سواری پر پابندی اور اب زیادہ سے زیادہ موبائل نیٹ ورک اور سوشل میڈیا بند کر دیتے ہیں۔ جتنی ہماری حکومتیں ہر کام پر کمیٹیاں بنا چکی ہیں اور ان کمیٹیوں کے ممبران کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اگر ہر کمیٹی کے ممبر مختلف ہوں تو پھر یقین کرو پوری عوام کمیٹیوں کی ممبر بن جائے۔ مگر کمیٹیاں بنتی ہیں، ایک محکمے سے دوسرے محکمے میں بندے جاتے ہیں۔ الاؤنس ملتے ہیں اور پھر فائلیں بند، غریب عوام کا پیسہ ہضم۔ اس ملک کا ایک المیہ تو یہ بھی ہے کہ چند گنے چنے اچھے عہدیداران کے علاوہ جو جتنا بڑا بندر ہے وہ اتنے بڑے عہدے پر جا بیٹھتا ہے۔کافی عرصہ پہلے ایک خبر پڑھی کہ حکومت پاکستان نے ایک بڑے پروجیکٹ پر کروڑوں روپے لگانے ہیں جس کے تحت بڑے بڑے سرکاری افسروں کو بلیک بیری موبائل لے کر دیئے جائیں گے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی اچھی خدمت کر سکیں۔ اب پتہ نہیں اس پر عمل ہوا تھا یا نہیں مگر جب میں نے یہ خبر پڑھی تھی تو مجھے بہت ہنسی آئی کہ وہ افسر جو سرکاری کاموں کی تفصیلات ای میل وغیرہ کرنے کی بجائے اپنا ”ٹی اے ڈی اے“ بنانے کے چکر میں سرکاری گاڑیاں دوڑاتے رہتے ہیں، ان کو بلیک بیری کی بجائے ”کھوتے“ لے کر دو۔ ویسے بھی گدھا کیا جانے ادرک کا سواد۔پچھلے دنوں سننے میں آیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا نے کئی مہینے دن رات محنت کے بعد ووٹر فہرست تیار کیں۔ میں کوئی تیس مار خاں نہیں مگر دس منٹ میں ”کیوری“ لکھ کر دیتا ہوں۔ اگر نادرا کی ڈیٹابیس کسی بندے کے پتر ادارے یا ڈویلپر نے بنائی ہے تو پھر ہر علاقے کے حساب سے اور ووٹ دینے کی عمر کے مطابق فہرستیں خودکار نظام کے تحت بن جائیں گی۔ آپ اس دعوی کو کوئی بڑی بات نہ سمجھئے بلکہ جو بھی تھوڑا سا بھی ڈیٹابیس کے بارے میں جانتا ہے وہ یہ کام چٹکیوں میں کر سکتا ہے۔ مگر حیرانی تب ہوتی ہے جب یہ لوگ ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی اپنے ”بندر“ دوڑاتے ہیں اور عوام کو بتاتے ہیں کہ دیکھو ہم نے کتنی دوڑ لگائی۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎