بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

میکسیکو سٹی: ایک ایسا شہر جہاں کوئی غصہ نہیں کرتا

  جمعرات‬‮ 17 مئی‬‮‬‮ 2018  |  21:23

غصہ انسان کا سب کا سے بڑا دشمن ہے لیکن پھر بھی آپ اس سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ کبھی نہ کبھی آپ کو غصہ آ ہی جاتا ہے۔لیکن کچھ شہر ایسے بھی ہیں جہاں غصے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ اونچی آواز میں بات کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ آپ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ شاید لکھنؤ کی بات ہو رہی ہے کیونکہ لکھنؤ کے بارے میں بھی یہی کچھ مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لکھنؤ کے افراد گالی بھی تمیز سے دیتے ہیں۔ لیکن نہیں یہاں لکھنؤ کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ

ایسے شہر کا ذکر ہے جو سات سمندر پار ہے۔جی ہاں! میکسیکو سٹی کا ذکر ہو رہا ہے۔ میکسیکو سٹی میں عوامی مقامات پر آپ غصے کا مظاہرے نہیں کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی بحث کو بھی آپ کو خوش اسلوبی سے ختم کرنا ہوتا ہے۔ میکسیکو میں شراب کے نشے میں دھت ہونے والوں کا رویہ محتاط ہونا چاہیے۔ میکسیکو سٹی میں رہنے والے بچوں کو شروع ہی سے اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہاں لوگوں کا خیال ہے کہ غصے سے آپ کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔یہاں لوگ غریبوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اگر وہ لائن میں کھڑے ہیں تو اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور افراتفری نہیں مچتی۔ میکیسکو کے عوام کے رویوں میں تمیز نسل در نسل سے چلتی آ رہی ہے۔میکیسکو میں یورپینز کی آمد سے پہلے یہاں ازٹیک سلطنت قائم تھی جو یہاں کی آخری عظیم تہذیب بھی تھی۔1519 میں سپین نے میکیسکو پر قبضہ کیا اور پھر ازٹیک اور سپین کی تہذیب کے ملاپ سے یہاں نئی ثقافت نے جنم لیا میکیسکو میں سپین کے بادشاہوں نے تین سو سال تک حکومت کی لیکن پھر بھی یہ شہر تہذیب و ثقافت میں سپین سے آگے ہی رہا۔وقت کے ساتھ ساتھ یہاں سپین کا اثر رو رسوخ بڑھا لیکن یہاں آنے والوں نے میکیسکو کے مقامی افراد ہی سے تہذیب سیکھی۔ آجکل ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ افراد ازٹیک تہذیب کی مختلف قبائلی زبانیں بولتے ہیں۔ ان میں پائی جانے والی چاشنی مشترکہ ہے۔ درحقیقت میکیسکو پر طویل عرصے تک غیر ملکیوں نے حکومت کی ہے۔ یہاں کی عوام حکمرانوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے۔میکسیکو میں اگر آپ کسی سے راستہ پوچھیں اور اُسے معلوم نہ بھی ہو تو وہ ’نہ‘ کہتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ یہاں لوگوں میں کچھ برائیاں بھی ہیں لیکن زیادہ تر افراد خوش مزاج ہیں۔ وہ یہاں آنے والے سیاحوں کو گھومنے پھرنے کا خوب موقع دیتے ہیں۔ اگر آپ کو زندگی میں کبھی موقع ملے تو میکسیکو ضرور جائیں۔ 

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎