بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


فیل ہونے پر بھی اللہ کا شکر

  جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018  |  14:52

حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ میرے بھائی جان کا ایک شاگرد جو دسویں جماعت میں فیل ہو گیا اور وہ شہر ہی چھوڑ کر چلاگیا، وہ آٹھ نوسال تک نظر نہ آیا، ایک دن وہ راستے چلتے ہوئے بھائی جان کو مل گیا، انہو نے پوچھا: تم اتناعرصہ نظر ہی نہ آئے، کہاں رہتے ہو؟وہ کہنے لگا:استاد جی!اللہ کا مجھ پر فضل ہوا کہ میں میٹرک میں فیل ہو گیا اس نے اپنے استاد کے سامنے یہ بات کہہ دی، بھائی جان بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیاکہہ رہا ہے، چنانچہ پوچھا کہ فیل ہونے کے بعد

پھر کیاکام کیا؟ کہنے لگا: پھر میں شرم کی وجہ سے شہر چھوڑ کر فیصل آباد چلاگیا، وہاں جا کر میں چھابی لگانا شروع کر دی، جب کام چل پڑاتو میں نے ایک دکان کے سامنے تھیلے پر بنیانیں بیچنا شروع کر دیں، اس کے بعد اور کام بڑھ گیا جس کی وجہ سے میں نے ایک چھوٹی سی دکان کرایہ پر لے گی، پھر اور کام بڑھا تو میں نے کپڑے کیایک دکان بنا لی، اس کے بعد دوسری دکان بنالی، الحمدللہ، آج نو سال کے بعد میں کپڑے کی تھوک کی دو دکانوں کا مالک ہوں، شکر ہے کہ میں فیل ہو گیا، اگر پاس ہو گیا ہوتاتو آج میں کہیں کلرک ہوتا، تو جو پاس ہو جاتے ہیں وہ کلرک بن کر ناشکری کرتے ہیں کہ ملتا کچھ نہیں اور جو فیل ہو جاتے ہیں وہ فیل ہونے پر بھی اللہ کاشکر ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎