بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ

شائد آپ کے پاس ہو

  ہفتہ‬‮ 2 جون‬‮ 2018  |  16:13

تحریر(جاوید چوہدری) زیروپوائنٹ میں نے صبح بے نظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر پھول چڑھاتے دیکھا۔ یہ منظر دیکھتے ہی مجھے ایک فرنچ صحافی یاد آ گیا‘ اس کا نام غالباً رچرڈ تھا اور وہ فرانس کے مشہور اخبار ’’لی موند‘‘ کیلئے کام کرتا تھا‘ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پاکستان آ رہا تھا‘ وہ لاڑکارنہ اور گڑھی خدا بخش گیا تھا‘ میری اس سے نیس میں ملاقات ہوئی تھی‘ ہم ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے‘ صبح ناشتے کے وقت اس نے مجھ

’’آپ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں‘‘ میں نے حیرت سے اس سے پوچھا ’’آپ نے کیسے اندازا لگایا‘‘ اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا‘ میرا سوال غلط نہیں تھا کیونکہ یورپ‘ امریکا اور مشرق بعید کے زیادہ تر لوگ ہمیں رنگت کی وجہ سے انڈین سمجھتے ہیں ۔ یہ افغان وار اور اسامہ بن لادن کی مہربانی ہے آج پوری دنیا پاکستان کے نام سے واقف ہے۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں یورپ کے لوگوں کیلئے پاکستان کا نام اجنبی ہوتا تھا اور پاکستانیوں کو انہیں سمجھانے کیلئے نقشے کی ضرورت پڑ جاتی تھی‘ لوگ آج بھی ہمیں پہلے انڈین سمجھتے ہیں مگر جب ہم انہیں پاکستان بتاتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہتے ’’یہ کہاں ہے ؟‘‘لیکن رچرڈ پہلا شخص تھا جس نے مجھے انڈین کی بجائے ڈائریکٹ پاکستانی کہا ۔ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ نے کیسے اندازا لگایا‘‘اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولا ’’آپ کی چال اور ڈھال سے‘ بھارتی شہریوں کے کندھے جھکے ہوتے ہیں‘ یہ ارب پتی بھی ہو جائیں تو بھی ان کی بات اور چال میں اعتماد نہیں آتا جبکہ پاکستانی لوگ خواہ بھوکے ہوں ان کے اندر کانفیڈنس ہوتا ہے‘ یہ کندھے اور گردن سیدھی رکھ کر چلتے ہیں‘‘ میں نے اس کی ذہانت کی داد دی۔ رچرڈ نے بتایا وہ درجن سے زیادہ بار پاکستان آیا‘ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دوبار پاکستان آیا‘ وہ لاڑکانہ بھی گیا‘ بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں بھی اسے چار پانچ بار لاڑکانہ جانے کا اتفاق ہوا‘ وہ میر مرتضیٰ کی تدفین کے وقت بھی گڑھی خدابخش گیا اور بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بھی اسے لاڑکانہ جانے کا اتفاق ہوا اور وہ صدر آصف علی زرداری کے موجودہ دور میں بھی لاڑکانہ کی وزٹ کرکے آیا۔ مجھے اس نے اپنے دوروں کا احوال بتانا شروع کر دیا۔ میں نے اس سے پوچھا ’’تمہیں ذوالفقار علی بھٹو کے پاکستان اور صدر آصف علی زرداری کے پاکستان میں کیا فرق محسوس ہوا‘‘ اس نے فلک شگاف قہقہہ لگایا اور بولا ’’مجھے پورے پاکستان کا علم نہیں لیکن میں تمہیں لاڑکانہ کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتا سکتا ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’میں پہلی بار 1974ء میں لاڑکانہ گیا تھا‘ لاڑکانہ میں اس وقت گرد‘ گند‘ کچرا اور کیچڑ تھا‘شہر میں پبلک ٹوائلٹ نہیں تھے‘ سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ نالیاں بہہ رہی تھیں‘ بے روزگاری اور لاقانونیت انتہا کو چھو رہی تھی‘ کاشتکار پانچ ہزار سال پرانے طریقے سے کاشتکاری کر رہے تھے‘ ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور دوائیاں نہیں تھیں اور سکولوں اور کالجوں میں لائبریریاں‘ تجربہ گاہیں اور استاد نہیں تھے‘ مجھے پورے شہر میں کوئی اچھا ہوٹل نہیں ملا‘ میں کراچی سے آیا اور اسی دن کراچی واپس چلا گیا‘ میں اس کے بعد جب بھی لاڑکانہ گیا میں نے گرد‘ کیچڑ‘ کچرے اور گند میں اضافہ پایا‘ علاقے کی بے روزگاری اور غربت کو بڑھتے دیکھا‘ بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی لاڑکانہ ویسا ہی تھا اور آج صدر آصف علی زرداری کے دور میں بھی لاڑکانہ میں گرد اڑ رہی ہے ‘‘ اس کے بعد رچرڈ نے کہا’’ میں سمجھتا ہوں جو لیڈراقتدار میں آنے کے بعد اپنے علاقے کی حالت نہیں بدل سکے وہ دوسرے علاقوں‘ دوسرے شہروں کی حالت میں کیا تبدیلی لائیں گے‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں بھی خاموش ہوگیا کیونکہ رچرڈ کی بات میں وزن تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی انقلابی منشور کے ساتھ ابھری تھی‘ یہ پانچ مرتبہ اقتدار میں آئی‘ یہ اگر اقتدار کے ان ادوار میں لاڑکانہ کی حالت بدل دیتی‘ یہ اگر صرف لاڑکانہ اور گڑھی خدابخش کے عوام کو روٹی‘ کپڑا اور مکان دے دیتی‘ یہ اگر بھٹو کے علاقے کے بچوں کو مفت تعلیم‘ صحت اور روزگار دے دیتی‘ یہ اگر لاڑکانہ میں انصاف اور امن قائم کر دیتی اور یہ اگر صرف لاڑکانہ شہر کو پیرس بنا دیتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی‘ آج پارٹی کی تاریخ میں پیپلزپارٹی کا ایک ماڈرن اور انٹرنیشنل شہر ہوتا‘ آج پاکستان پیپلزپارٹی دنیا کو دکھا سکتی ہم صورتحال کو تبدیل کر سکتے ہیں‘ ہم لوگوں کا مقدر بدل سکتے ہیں اور ہم تاریخ بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان پیپلزپارٹی پانچ مرتبہ اقتدار میں آنے کے باوجود لاڑکانہ کا مقدر نہ بدل سکی لہٰذا آج رچرڈجیسے لوگ فرانس میں بیٹھ کر پیپلزپارٹی کی قیادت پر ہنس رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی تک محدود نہیں بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں کی تاریخ بھی اس سے مختلف نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن چار بار اقتدار میں رہنے کے باوجود لاہور شہر کی حالت نہیں بدل سکی‘ آج بھی آپ مال روڈ سے اتریں یا ڈیفنس سے باہر آ جائیں تو آپ کو لاڑکانہ اور لاہور میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان مسلم لیگ ق نے پانچ سال تک پنجاب پر بھرپور انداز میں حکومت کی‘ کیا چودھری پرویز الٰہی کے اقتدار نے گجرات کا مقدر تبدیل کر دیا؟ اے این پی چار سال سے خیبرپختونخواہ میں برسراقتدار ہے‘ کیا اے این پی نے چارسدہ کی حالت بدل دی‘ ایم ایم اے نے بھی خیبرپختونخواہ پرپانچ سال حکومت کی تھی‘ کیا یہ بھی کسی ایک شہر میں اسلام نافذ کر سکے؟ یہ درست ہے ملک کے پاس وسائل کی کمی ہے لیکن لیڈر تو وسائل کے محتاج نہیں ہوتے! سرمایہ کار اور لیڈر میں یہی فرق ہوتا ہے‘ سرمایہ کار کو مقدر بدلنے کیلئے سرمایہ درکار ہوتا ہے جبکہ لیڈر کچی مٹی کو سونا بنا دیتے ہیں‘ یہ چرسی اور افیونی لوگوں کو جگا کر ملائشیا‘ سنگاپور اور چین بنا دیتے ہیں۔ اگرلیڈر وسائل کے محتاج ہوتے توآج دنیا میں جاپان ہوتا‘ چین ہوتا‘ سنگاپور ہوتا اور نہ ہی ملائشیا ہوتا۔ یہ قیادت تھی جس نے گرد‘ کیچڑ اور کچرے میں دھنسے لوگوں کو اپنا اور دوسروں کا مقدر بدلنے پر مجبور کر دیا جبکہ ہمارے لیڈر تمام تر وسائل کے باوجود چارسدہ‘ پشاور‘ لاہور‘ گجرات اور لاڑکانہ کی حالت نہیں بدل سکے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے ایم کیو ایم کوکراچی اور حیدر آباد شہر کی نظامت ملی تو انہوں نے دونوں شہروں کی حالت تبدیل کر دی اوراس کا انہیں کریڈٹ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی پارٹی کا اقتدار قائدین تک کے علاقوں میں دکھائی نہیں دیا۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں یہی فرق تھا‘ دوسرے مذاہب صرف منشور دیتے تھے جبکہ اسلام نے روز اول سے پریکٹیکل شروع کر دیا‘ ہجرت کے بے شمار فلسفوں میں ایک فلسفہ ریاست بھی تھا‘ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مدینہ اس لئے بھجوایا تھا کہ آپ دنیا کو ایک ایسا شہر بنا کردکھائیں جس کی حدود میں پورا اسلام نظر آتا ہو‘ آپﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے‘ آپ نے لوگوں کے مزاج سے لے کر درودیوار تک پورا شہر تبدیل کر دیا‘ شہر میں غربت تھی لیکن گندگی‘ کیچڑ‘ غلاظت‘ جرم اور بے ہودگی نہیں تھی‘ لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کیلئےچلے جاتے تھے اور شہر میں بچے آزادانہ پھرتے تھے اور کسی کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ سماجی حالت یہ تھی یہودی یہودیوں کی بجائے مسلمان تاجروں کی دکانوں سے خریداری کو فوقیت دیتے تھے اور شہر میں اندھوں تک کو ٹھڈے نہیں لگتے تھے۔ دنیا نے اسلام کا یہ ماڈل سٹی دیکھا تو اس نے یقین کر لیا جو لوگ یثرب کو مدینہ بنا سکتے ہیں وہ پوری دنیا کا مقدر بدل سکتے ہیں۔ ہم بھی اگر لوگوں کو قائل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ماڈل تخلیق کرنا ہوں گے‘ ہماری سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور سب سے پہلے اپنے قائدین کے شہروں پر نافذ کر کے دکھانا ہوگا‘ انہیں چارسدہ‘ گجرات‘ لاہور‘ ملتان اور لاڑکانہ کی حالت بدلنا ہوگی‘ یہ اگر اس میں کامیاب ہو گئےتو پھر یہ پورے ملک کو تبدیل کر لیں گے‘ یہ واقعی تاریخ بنا کر دکھا دیں گے لیکن اگر یہ لاڑکانہ میں گرد‘ کیچڑ اور کچرا ختم نہ کر سکے تو پھر یہ اور ان کا منشور دونوں کاغذ کے پلندوں کے سوا کچھ نہیں۔ میں نے کل آصفہ زرداری بھٹو کو ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر چادر ڈالتے اور پھول چڑھاتے دیکھا اور اپنے آپ سے پوچھا ’’کیا بھٹو خاندان لاڑکانہ میں صرف پھول چڑھاتا رہے گا یا پھر یہ کبھی اس زمین پر پھول بھی اگائے گا‘ یہ اپنے منشور کو گڑھی خدا بخش کی گلیوں پر نافذ بھی کرے گا‘‘ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا شائد آپ کے پاس ہو۔ یہ کالم 02, 01, 2012کو شائع ہوادن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎